آسیہ کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ (3)

آسیہ کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ (3)

30۔ اس کے علاوہ استغاثہ کے گواہان کے بیان میں بہت سے تضادات اور اختلافات ہیں۔ یہاں تک کہ معافیہ بی بی(PW2) کا ضابطہ فوجداری کی دفعہ161 کے تحت دیئے گئے بیان اور دوران جراح دیئے گئے بیان میں فرق پایا گیا: اولاً اپنی جرح کے دوران اُس نے بتایا کہ عوامی اجتماع میں تقریباً1000سے زائد لوگ موجود تھے،لیکن اُس کے سابقہ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا تھا:دوئم، جرح کے دوران اُس نے کہا کہ عوامی اجتماع اُس کے والد کے گھر پر ہوا تھا،جبکہ یہ بات بھی اُس کے سابقہ بیان کا حصہ نہ تھی:سوئم، دورانِ جرح اُس نے بیان دیا کہ بہت سے علماء عوامی اجتماع کا حصہ تھے،لیکن یہ بات بھی اُس کے سابقہ بیان میں شامل نہ تھی۔ اِسی طرح اسماء بی بی (PW3) بھی اپنے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے دیئے گئے بیان سے انحرافی کرتی رہی:اولاً، اُس نے اپنی جرح کے دوران بیان دیا کہ عوامی اجتماع اُس کے پڑوسی رانا رزاق کے گھر میں ہوا، لیکن اِس بات کا ذکر اُس کے سابقہ بیان میں نہ تھا: دوئم، جرح کے دوران اُس نے کہا کہ عوامی اجتماع میں 2000 سے زائد لوگ شریک تھے،لیکن اِس بات کا تذکرہ اِس کے سابقہ بیان میں نہ تھا۔ محمد افضل (PW4) نے بھی اپنے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت انحراف کیا جب اُس سے جرح کی گئی پہلے اُس نے اپنے سوالِ ابتدائی میں کہا کہ وہ گھر میں موجود تھا، جب استغاثہ کی گواہ خواتین شکایت گزار اورمختار احمد کے ہمراہ آئیں اور انہوں نے وقوعے کے متعلق تمام تفصیل اُس کو بتائی،لیکن اِس امر سے متعلق تذکرہ اُس کے سابقہ بیان میں نہیں ملتا۔ دوئم اپنے بیان ابتدائی (Examination in Chief) میں اُس نے بیان دیا کہ عوامی اجتماع مختار احمد کے گھر میں ہوا،لیکن یہ اُس کے سابقہ بیان میں نہیں بتایا گیا۔ قاری محمد سلام (شکایت گزارPW1/) نے بھی FIR کے اندراج کے لئے دی گئی اپنی درخواست کے حقائق میں ردوبدل کیا۔اولاً بیان ابتدائی (Examination in Chief) میں اُس نے کہا کہ معافیہ بی بی(PW2) ،اسماء بی بی (PW3) اور یاسمین بی بی(متروک گواہ) نے اُسے اور گاؤں کے دوسرے لوگوں کو وقوعے کی اطلاع دی۔دوئم اُس نے مزید بیان دیا کہ عوامی اجتماع مختار احمد کے گھر پر ہوا،لیکن اِس بات کا ذکر اُس کی شکایت میں نہیں تھا۔سوئم اُس نے بیان دیا کہ اپیل گزار کو عوامی اجتماع میں لایا گیا،لیکن اِس کا اظہار اس کی شکایت میں کہیں بھی نہیں،جو کہ یہ غیر مسابق بیانات استغاثہ کی شہادتوں کو کمزور کرتے ہیں۔

31۔گواہان کے یہ متضاد اور غیر مسابق بیانات درج ذیل سوالات کی بابت استغاثہ کی شہادت میں شکوک پیدا کرتے ہیں۔

(ا) شکایت گزار کو وقوعے کے بارے میں اطلاع کس نے دی؟

(ب) اپیل گزار کے جرم ہذا کے ارتکاب کا انکشاف کے وقت وہاں کون کون موجود تھا؟

(ج) عوامی اجتماع کے وقت وہاں کتنے لوگ موجود تھے؟

(د) عوامی اجماع کہاں منعقد کیا گیا؟

(ہ) عوامی اجتماع کی جگہ سے اپیل گزار کے گھر کے درمیان فاصلہ کتنا تھا؟ اور

(و) اپیل گزار کو عوامی اجتماع تک کون لایا اور اسے کیسے لایا گیا؟

32۔ پہلے دو معاملات کے متعلق مثلاً کس نے شکایت گزار کو وقوعے کی اطلاع دی اور مذکورہ انکشاف کے وقت کون کون موجود تھا یہ بیان کیا جانا ضروری ہے کہFIR میں مبہم انداز میں لکھا گیا ہے کہ اسماء بی بی (PW3) ، معافیہ بی بی(PW2) اور یاسمین بی بی (متروک گواہ) نے مبینہ وقوعہ کی اطلاع شکایت گزار اور دیگر گاؤں والوں کو دی، جبکہ معافیہ بی بی(PW2) نے اپنے بیانِ ابتدائی (Examination in Chief) میں بیان کہا کہ اُس نے تمام کہانی قاری اسلام (شکایت گزارPW1/) اور دیگران کو بنائی تاہم جرح کے دوران اُس نے قطعی طور پر یہ بیان دیا کہ معاملے کی اطلاع قاری محمد سلام (شکایت گزارPW1/) کو اُس کی بہن اسماء بی بی (PW3) جو شکایت گزار کی بیوی کی شاگرد تھی نے 14.06.2009 کو یعنی وقوعے کے روز شام کو دی۔ اسماء بی بی(PW3) نے اپنے ابتدائی بیان (Examination in chief) میں کہا کہ اُس نے بہمراہ دیگر گواہان استغاثہ قاری محمد سلام (شکایت گزارPW1/) کو وقوعے کی اطلاع دی اور محمد افضل اور مختار بھی وہاں پر موجود تھے۔ محمد افضل (PW4) نے اپنے بیان ابتدائی (Examination in chief) میں کہا کہ وہ اپنے گھر میں تھا، جب معافیہ بی بی (PW2) اسماء بی بی(PW3) اور یاسمین بی بی (متروک گواہ) بہمراہ قاری محمد سلام(شکایت گزار) اور مختار احمد وہاں آئے اور انہوں نے تمام وقوعے کے بارے میں اُسے بتایا۔ قاری محمد سلام شکایت گزار (PW1) نے اپنے سوال ابتدائی (Examination in Chief) میں بیان دیا کہ وہ اپنے گاؤں میں تھا جب اسماء بی بی (PW3) ، معافیہ بی بی (PW2)اور یاسمین بی بی (متروک گواہ) اُس کے پاس آئیں اور اُسے واقعے کی اطلاع دی اُس وقت محمد افضل اور محمد مختار دیگر گاؤں والوں کے ہمراہ وہاں موجود تھے۔ پس یہ ظاہر ہے کہ اِس ضمن میں گواہان کے بیان میں مطابقت نہ ہے۔

33۔ اس معاملے کے متعلق کہ عوامی اجتماع میں کتنے لوگ شامل تھے یہ امر اہم ہے کہ (PW1) نے بیان دیا کہ عوامی اجتماع پانچ مرلے کے ایک گھر میں منعقد کیا گیا اور وہاں تقریباً100 افراد موجود تھے، جبکہ (PW2) نے بیان دیا کہ عوامی اجتماع میں1000 کے قریب لوگ تھے، جبکہ (PW3) نے بیان دیا کہ وہاں 2000 سے زائد لوگ موجود تھے اس کے علاوہ (PW4) نے بیان دیا کہ تقریباً200سے250 تک افراد عوامی اجتماع کا حصہ تھے۔ پس اِس ضمن میں بھی گواہان کے بیان میں اتفاق نہ تھا۔

34۔ اس سوال کے متعلق کہ عوامی اجتماع کہاں منعقد کیا گیا؟یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ شکایت گزار (PW1) نے جرح کے دوران بیان دیا کہ عوامی اجتماع مختار احمد کے گھر میں منعقد کیا گیا، جبکہ(PW2) نے دورانِ جرح بیان دیا کہ عوامی اجتماع اُس کے والد عبدالستار کے گھر ہوا، جبکہ (PW3) نے دورانِ جرح بیان دیا کہ عوامی اجتماع رانا رزاق کے گھر میں ہوا، تاہم (PW4) نے دورانِ جرح بیان دیا کہ عوامی اجتماع مختار احمد کے گھر پر منعقد ہوا اِس کے علاوہ اِس ضمن میں ایک نام عدالتی گواہ(CW1) نے بھی حصہ لیا، جس نے دورانِ جرح بیان دیا کہ عوامی اجتماع حاجی علی احمد کے ڈیرے پر منعقد ہوا۔ لہٰذا اِس معاملے پر بھی گواہان کے بیانات میں بھی خاصا تضاد پایا جاتا ہے۔

35۔ اپیل گزار کے گھر سے عوامی اجتماع کی جگہ کے فاصلے سے متعلق یہ امر اہم ہے کہ (PW2) نے کچھ نہیں بتایا جبکہ(PW3) نے دورانِ جرح بتایا کہ اپیل گزار کا گھر عوامی اجتماع کی جگہ سے تین گھروں کے فاصلے پر تھا۔ تاہم (PW4) نے جرح کے دوران بیان دیا کہ اپیل گزار کا گھر عوامی اجتماع کی جگہ سے تقریباً 200 سے250 گز کے فاصلے پر تھا، جبکہ شکایت گزار (PW1) نے اپیل گزار کے گھر اور عوامی اجتماع کی جگہ کے درمیان فاصلے کو ظاہر نہیں کیا۔ اس کے باوجود عدالتی گواہ (CW1)کے مطابق اپیل گزار کا گھر اُس ڈیرے کے سامنے ہے جہاں عوامی اجتماع منعقد کیا گیا۔ پس اِس ضمن میں بھی گواہان کے بیان میں خاصا تضاد ہے۔

36۔ اس معاملے کی بابت کہ اپیل گزار کو عوامی اجتماع میں کون لایا اور وہ وہاں کیسے پہنچے۔ یہ امر اہم ہے کہ(PW2) نے بیان دیا کہ اُسے یاد نہیں کہ اپیل گزار کو عوامی اجتماع میں کون لایا،لیکن وہ اس کے گاؤں کا رہائشی ہی تھا جبکہ(PW3) نے بیان دیا کہ اپیل گزار کو گاؤں کے لوگوں نے عوامی اجتماع میں بُلایا جہاں وہ پیدل چل کر آئی جبکہ جو لوگ اُسے لے کر آئے وہ لوگ بھی پیدل تھے۔ تاہم(PW4) نے کہا مشتاق احمد اپیل گزار کو عوامی اجتماع میں لایا، جبکہ شکایت گزار (PW1) نے بیان دیا کہ گاؤں کے لوگ اپیل گزار کے گھر گئے اور اُن کو عوامی اجتماع میں دو موٹر سائیکلز پر لائے۔اُن لوگوں میں مُدثر نامی ایک شخص بھی شامل تھا۔ پس اِس ضمن میں بھی گواہان کے بیان میں خاضا تضاد ہے۔

37۔ گواہان نے عوامی اجتماع کے وقت اور دورانیے کے متعلق بھی متضاد بیان دیا۔ (PW2) نے کہا کہ یہ جمعہ کے روز 12بجے منعقد ہوا اور اس کا دورانیہ 15سے20 منٹ تک تھا۔(PW3) نے بیان دیا کہ عوامی اجتماع بارہ بجے دوپہر کو منعقد ہوا اور پندرہ منٹ تک جاری ر ہا۔(PW4) نے بیان دیا کہ گیارہ سے بارہ بجے دوپہر منعقد کیا گیا اور دو سے ڈھائی گھنٹے جاری رہا، جبکہ شکایت گزار (PW1) نے اجتماع کے وقت اور دورانیے کے متعلق کوئی بیان نہیں دیا،لہٰذا یہاں پر بھی گواہان کے بیانات میں اختلاف ہے۔

38۔ ایک مزید تضاد جو استغاثہ کے گواہان اور شکایت گزار کے بیانات میں پایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ دیگر استغاثہ کہ گواہان نے بیان دیا کہ معاملہ شکایت گزار کے علم میں اُسی دن(جس دن وقوعہ رُونما ہوا) یعنی 14.06.2009کو لایا گیا، جبکہ شکایت گزار نے اپنی جرح کے دوران بیان دیا کہ اُسے وقوعے کے بارے میں 16.06.2009کو پتہ چلا۔

39۔ یہاں پر پولیس کو درخواست دینے اور FIR کے اندراج کے بارے میں بھی خاصا تضاد پایا جاتا ہے۔FIR کے آخر میں درج ہے کہFIR مہدی حسن سب انسپکٹر نے ’’پُل نہر چندر کوٹ‘‘ پر درج کی اور اندراج کا وقت پانچ بج کر45منٹ دیا گیا ہے۔اس کے برعکس شکایت گزار(PW1) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو درخواست دی گئی، جس کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی۔تاہم محمد رضوان(PW5) نے بیان دیا کہ شکایت گزار نے اُس کے رُوبرو درخواست(Exh-PA) دی جس کی بناء پر اُس نے مروجہ طور پر FIR (Exh-PA/1) کا اندراج کیا۔

40۔ ملزمہ کی گرفتاری سے متعلق بھی کچھ تضاد محمد ارشد، سب انسپکٹر(PW-7) کے بیان میں پایا جاتا ہے۔جیسا کہ اُس(PW-7) نے اپنی جرح کے دوران بیان دیا کہ ملزمہ کو اُس نے دو ساتھی خواتین کانسٹیبل کی مدد سے جوڈیشل مجسٹریٹ کی موجودگی میں گرفتار کیا اور اُسے جوڈیشل لاک اَپ میں بھیج دیا۔پھر جرح کے دوران یہ بیان کیا گیا کہ اُس نے ملزمہ کو19.06.2009 کو اُس کے گھر جو دیہات ’’اٹاں والی‘‘ میں واقع ہے یہ تقریباً شام کے چار پانچ بجے کے قریب گرفتار کیا، تاہم بعد ازاں ایک او ر موقع پر اُس نے کہا کہ وہ دیہات اٹاں والی تقریباً سات بجے کے قریب پہنچا اور وہاں ایک گھنٹے تک رُکا۔ مزید برآں (PW-2) اور (PW-3) نے اپنے بیانات میں اس امر سے قطعی انکار کیا کہ اُن کے اور اپیل گزار کے مابین اپیل گزار کی جانب سے توہین آمیز الفاظ کی ادائیگی سے قبل پانی پلانے کے معاملے پر کوئی جھگڑا ہا تھا، جبکہ (PW-6) اور (CW-1) نے اپنے بیانات میں قبول کیا کہ اُن کے مابین جھگڑا ہوا تھا جبکہ، جھگڑے کی حقیقت ریکارڈ سے ثابت ہے۔ استغاثہ (PW-6) کو منحرف گواہ قرار نہیں دیا۔دریں حالات استغاثہ کے گواہان کو صادق گواہان نہیں کہا جا سکتا اور اِن چشم دید گواہان کی گواہی کی بناء پر جو ویسے بھی مقدمے میں اپنا مفاد رکھتے ہوں کی گواہی پر سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔

41۔ یہ تمام متضاد بیانات استغاثہ کی جانب سے بتائے گئے حقائق کی صداقت پر شہبات پیدا کرتے ہیں، جس سے اپیل گزار شک کے فائدے کی حق دار بن جاتی ہے۔ یہ قانون ایک مستند اصول ہے کہ کسی بھی شک کی صورت میں ملزم کو شک کا فائدہ دے جانا چاہئے،جس سلسلے میں یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ بہت سے ایسے حالات ہوں جو بے یقینی پیدا کر رہے ہوں،بلکہ اگر کوئی ایک امر ایسا ہو جو عاقل دماغ میں ملزم کے جرم کے متعلق معقول شبہ پیدا کرتا ہو تب بھی وہ اس کا فائدہ لینے کا حق دار ہو گا، کسی رعایت کی صورت میں نہیں،بلکہ ایک حق کی صورت میں،اِس ضمن میں مقدمات طارق پرویز بنام ریاست [1995 SCMR 1345] اور ایوب مسیح بنام ریاست [PLD 2002 SC 1048] کا حوالہ دینا مناسب ہو گا۔ پس یہ ثابت ہے کہ اپیل گزار شک کے فائدے کا حق رکھتی ہے۔

42۔ اس معاملے کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ ابتدائی سماعت کی فاضل عدالت نے سزا یاب اپیل گزار کے ماورائے عدالت اعترافِ جرم کے متعلق گواہان کی شہادت پر انحصار کیا،لیکن فاضل عدالتِ عالیہ نے ماورائے عدالت اقبالِ جرم کو اس وجہ سے قابلِ غور نہ سمجھا،کیونکہ ماورائے عدالت اقبال کی جو شہادت گواہان،یعنی قاری محمد سلام (PW-1)، محمد افضل (PW-4) اور محمد ادریس (CW-1) نے عوامی اجتماع میں اپنے جرم کا اقبال کرنے کے متعلق دی تھی، اُ س کو ماورائے عدالت اقبال متصور نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس اقبالِ جرم میں کسی خاص وقت، تاریخ یا جرم کے ارتکاب کا طریقہ کار کا ذکر موجود نہ تھا اور مزید مذکورہ اقبال جرم میں کسی ایسے حالات کا تذکرہ بھی نہ ہے جن کی وجہ سے اپیل گزار نے مبینہ جرم کا ارتکاب کیا۔ اس ضمن میں اس امر کا اعادہ کیا جانا ضروری ہے کہ عدالت نے مسلسل قرار دیا ہے کہ ماورائے عدالت اقبال جرم ضعیف قسم کی شہادت ہوتی ہے اور ایسے اقبال جرم پر انحصار کرتے ہوئے حد درجے احتیاط لازم ہے۔ چونکہ اس کو آسانی سے گھڑا جا سکتا ہے اس لئے اسے ہمیشہ شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ عمومی طور پر قدرتی حالات و واقعات، انسانی رویوں، طرزعمل اور ممکنات کو مدنظر رکھتے ہوئے ماورائے عدالت اقبال جرم کی قانونی اہمیت قدرے ناقص ہوتی ہے۔ اگر یہ اولین درجے پر سچ محسوس ہو تو اس کو فرد جرم کی تائید کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جس کو دیگر ناقابل مواخذہ گواہی سے مزید تقویت ملتی ہو۔ اگر دیگر شہادتوں میں یہ خواص نہ ہوں تو اس پر توجہ نہیں دی جانی چاہئے۔ اس ضمن میں ان مقدمات کا حوالہ دیا جانا ضروری ہے۔ ناصر جاوید بنام ریاست (SCMR 1144 2016)، عظیم خان اور دیگر بنام مجاہد خان اور دیگران (2016 SCMR 274)، عمران عرف ڈلی بنام ریاست (2015 SCMR 155)، حامد ندیم بنام ریاست (2011 SCMR 1233)، محمد اسلم بنام صابر حسین (2009 SCMR 985)، ساجد ممتاز اور دیگران بنام بشارت اور دیگران 2006 SCMR 231))، محمد اسلم بنام صابر حسین (2009 SCMR 985)، ضیاء الرحمن بنام ریاست (2008 SCMR 528) اور سرفراز خان بنام ریاست اور دو دیگران (1996 SCMR 188)۔

43۔ مزید براں قانون شہادت آرڈر مجریہ 1984ء کے تحت ’’ملزم کی جانب سے کیا گیا اقبال فوجداری کارروائی میں اس صورت میں غیرمتعلقہ ہوتا ہے جب عدالت کے علم میں یہ امر آئے کہ یہ اقبال ملزم سے کسی دھمکی، دباؤ یا فرد جرم کے متعلق کسی رعایت کے وعدے کے بعد حاصل کیا گیا ہے یا کسی بااختیار شخص سے کارروائی کروانے کے لئے یا عدالت کی رائے قائم کرنے کے لئے تاکہ ملزم شخص کو یہ مناسب لگے کہ اعتراف کرنے کے بعد وہ اپنے خلاف جاری کارروائی میں کسی سنگین قسم کی آتی مصیبت سے بچ جائے گا۔‘‘

44۔ زیرنظر مقدمے میں اپیل گزار کو سینکڑوں لوگوں کے مجمع میں لایا گیا، وہ اس وقت تنہا تھی۔ صورت حال ہیجان انگیز تھی اور ماحول خطرناک تھا۔ اپیل گزار نے اپنے آپ کو غیرمحفوظ اور خوفزدہ پایا اور مبینہ ماورائے عدالت بیان دے دیا۔ گو یہ بیان اپیل گزار کی جانب سے عوامی اجتماع کے روبرو دیا گیا لیکن اس کو رضاکارانہ طور پر دیا گیا بیان تصور نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس کو سزا، بطور خاص سزائے موت کی بنیاد گردانا جاسکتا ہے۔

45۔فاضل عدالت عالیہ نے اپیل گزار کی سزا کی توثیق کرتے ہوئے گواہان کی شہادتوں پر ان وجوہات کی وجہ سے انحصار کیا۔

الف) چشم دید گواہان اورا پیل گزار کی فالسہ کے کھیت میں موجودگی سے انکار نہیں کیا گیا۔

ب) گواہان سے اپیل گزار کے ہاتھوں مبینہ توہین رسالآ پر کوئی دفاعی جرح نہیں کی گئی۔

ج)وکیل صفائی نے اپیل گزار اور چشم دید گواہان کے مابین سابقہ دشمنی، کینہ ، بغض اور در پردہ اغراض جن کی بنا پر اپیل گزار کو اس سنگین جرم میں پھنسایا گیا کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا۔

د) محمد ادریس (CW۔1)جووقوعہ کے وقت کھیت میں موجود تھا کی شہادت چشم دید گواہان کے بیانات کی انتہائی حد تک توثیق کرتی ہے۔

46۔اس ضمن میں یہ مان لینا ضروری ہے کہ عدالت ہذا نے قرار دیا ہے کہ یہ اصول کہ بیان کا وہ حصہ جس سے انکار نہ کیا جائے تسلیم شدہ تصور ہوتا ہے کا اطلاق فوجداری مقدمات میں نہیں ہوتا۔ فوجداری مقدمات میں ملزم کے جرم کا بار ثبوت ہمیشہ استغاثہ پر ہوتا ہے جس پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقدمے کو کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرے، اس ضمن میں عدالت ہذا کے ان نظائر پر انحصار کیا جاتا ہے، ندیم رمضان بنام ریاست (2018 SCMR 149) ایس محمود اسلم بنام ریاست PLD) 187 SC (250 پس فاضل عدالت عالیہ نے معاملے کو اس رخ سے پرکھنے میں قانونی غلطی کی۔

47۔علاوہ ازیں ، دونوں چشم دید گواہان سے بطور خاص مذکورہ کھیت میں ہونے والے جھگڑے کے بارے میں جرح کی گئی جبکہ معافیہ بی بی (PW۔2) سے خاص طور پر اس ضمن میں سوال کیا گیا تو اپنے جواب میں اس نے کہا کہ ’’یہ غلط ہے کہ میں نے آسیہ بی بی ملزمہ کے خلاف بیان میرے اورآسیہ بی بی کے درمیان ہونے والے اس جھگڑے کی وجہ سے دیا جو اس دن فالسے توڑتے ہوئے ہمارے درمیان ہوا۔‘‘ توہین رسالتؐ کے الزام کو بھی دفاع کے دوران رد کیا گیا جو اس (PW۔2)کے بیان سے عیاں ہے کہ ’’یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے جھوٹا الزام لگایا ہے اور غلط طور پر پھنسایا ہے۔‘‘ اسی طرح اسی قسم کا سوال جب اسماء بی بی (PW۔3) سے کیا گیا تو اس نے اپنے جواب میں کہا کہ ’’یہ کہنا غلط ہے کہ میرے اور آسیہ بی بی کے مابین مذکورہ باغ میں پانی پلانے کے معاملے پر کوئی جھگڑا ہوا تھا اور یہ بھی غلط ہے کہ مسماۃ آسیہ بی بی سے اپنے اْس جھگڑے کی وجہ سے میں مسماۃ آسیہ بی بی پر جھوٹا الزام لگا رہی ہوں‘‘ توہین رسالت کے الزام کے متعلق ایک سوال مذکورہ گواہ(PW۔3)سے کیا گیا جس کا جواب تھا کہ ’’یہ کہنا مزید غلط ہے کہ میں جھوٹ بول رہی ہوں اور میں نے ملزمہ مسماۃ آسیہ بی بی کے مْنہ سے براہِ راست کوئی الفاظ نہیں سْنے‘‘۔ تاہم محمد ادریس (CW۔1)نے اپنے بیانِ ابتدائی میں قبول کیا کہ اپیل گزار اور چشم دید گواہان کے مابین جھگڑا ہوا تھا جو اس کے بیان سے واضح ہے جس میں اس نے کہا کہ ’’اس وجہ سے ان کے درمیان جھگڑا ہوا۔ مجھے بھی اس جھگڑے کی اطلاع دی گئی‘‘ اپنی جرح کے دوران اس نے ماناکہ ’’میں تقریباً دو سے تین ایکڑ(Killa)کے فاصلے پر تھا جب مجھے وقوعہ کی اطلاع ملی۔ میں نے حقائق کی تصدیق کی، جب میں موقع پر پہنچا تو مجھے صرف یہی پتہ چلا کہ وہاں ملزمہ اور استغاثہ کی گواہان کے مابین کوئی جھگڑا ہوا ہے جو پانی پلانے کی وجہ سے ہوا۔‘‘ پس اس سے ظاہر ہے کہ مبینہ جرم کے ارتکاب سے قبل پانی پلانے کی وجہ سے چشم دید گواہان اور ملزمہ کے مابین ہونے والے جھگڑے کی حقیقت سے کوئی انکار نہ ہے۔ صرف وقوعہ کے وقت اپیل گزار اور گواہان کی موجودگی جرم کے ارتکاب کو ثابت کرنے کے لئے کافی نہ ہے۔ دفاع نے اس معاملے پر مقدمے میں بحث نہیں کی کہ اپیل گزار وقوعہ کے موقع پر موجود نہ تھی بلکہ دفاعی موقف یہ تھا کہ اپیل گزار اور گواہان مذکورہ کھیت میں موجود تھیں جب ان کے درمیان جھگڑا ہوا اور اس رنجش کی بناء پر گواہان نے شکایت گزار سے مل کر اپیل گزار کو جھوٹے مقدمے میں پھنسایا۔ جائے وقوعہ پر 25۔30خواتین موجود تھیں لیکن حیران کن طورپر کسی نے بھی ماسوائے یاسمین بی بی(متروک گواہ) استغاثہ کے الزام کی توثیق نہ کی۔حتیٰ کہ یہ گواہ بھی بعد ازاں اپیل گزار کے خلاف گواہی دینے کے لئے نہ آئی۔ یہاں تک کہ (CW۔1)نے بھی ایسے کوئی الفاظ نہیں سْنے جن سے توہینِ رسالآ کے جرم کا ارتکاب ہوتا ہو۔یہ سب استغاثہ کی کہانی کے متعلق شکوک پیدا کرتاہے۔ مزید یہ کہ FIRکے اندراج میں پانچ یوم کی غیر معمولی تاخیر بھی استغاثہ کی کہانی میں سنگین جھول پیدا کرتی ہے۔

48۔یہ قانون کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ جو شخص کوئی کلیم کرتا ہے اس کو ثابت کرنا بھی اسی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ پس یہ استغاثہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ تمام کارروائی میں ملزم کے ارتکابِ جرم کو ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرے۔ تمام کارروائی مقدمہ میں ملزم کے ساتھ بے گناہی کا قیاس ہمیشہ رہتا ہے چہ جائیکہ استغاثہ شہادتوں کی بنیاد پر ہر طرح کے شک و شبہ سے بالاتر ہو کر ملزم کے خلاف جرم کا ارتکاب ثابت نہ کر دے۔ شفاف سماعت مقدمہ جو کہ از خود فوجداری اصولِ قانون کا بنیادی جْز ہے اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک منصفین خود واضح طور پر اْس معیار ثبوت کے بنیادی نظریے کی توجیح نہ کریں گے جس پر کار بند ہونا استغاثہ کے لئے سزا کے احکامات حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔ دو نظریات یعنی ’’شک و شبہ سے بالاتر ہو کر ثابت کرنا‘‘

"A proof beyond reasonable

doubt" اور ’’قیاس بے گناہی‘‘

A presumption of innocence

ایک دوسرے سے اس قدر منسلک ہیں کہ ان کو ایک ہی سمجھا جا سکتاہے۔ اگر ’’قیاس بے گناہی ‘‘ فوجداری اصول قانون کی طلائی کڑی(اصول) ہے تو ’’شک و شبہ سے بالاتر ہو کر ثابت کرنا‘‘ نقرئی کڑی(اصول) ہے اور یہ دونوں کڑیاں ہمیشہ سے ہی فوجداری نظام انصاف کے بنیادی ڈھانچے کا اہم حصہ رہی ہیں۔ جیسے اصول ’’شک و شبہ سے بالا تر ہو کر‘‘ فوجداری انصاف کے لئے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ان اصولوں میں سے ایک ہے جو یقینی بنانے کی کوشش کرتاہے کہ کسی معصوم کو سزا نہ ہو۔ جہاں کہیں بھی استغاثہ کی کہانی میں کوئی جھول ہوتاہے اس کا فائدہ ملزم کو دیا جانا چاہئے جو کہ فوجداری انصاف کی محفوظ فراہمی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ مزید برآں! شبہ جس قدر بھی مضبوط اور زیادہ ہو کسی طور پر بھی فوجداری مقدمے میں ضروری بار ثبوت کی جگہ نہیں لے سکتا۔ ملزم اور گواہان/شکایت گزار کے مابین عناد کی موجودگی میں عام طور پر گناہ یا بے گناہی کو ثابت کرنے کے اعلیٰ ترین معیارِ ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر استغاثہ کے گواہان ملزم کے لئے عناد رکھتے ہوں تو وہ شک کے فائدے کے اصول کی بناء پر بریت کا حقدار ہوتااہے۔ اس ضمن میں عدالتِ ہذا کے درج دیل نظائر پر انحصار کیا جاتا ہے، محمد اشرف بنام ریاست 2016 SCMR 1617، محمد جمشید بنام ریاست 2016 SCMR 1019]، محمد اصغر عرف ننھا بنام ریاست[2010 SCMR 1706]، نور محمد عرف نورا بنام ریاست [1992 SCMR 2079، اور ایوب مسیح بنام ریاست [PLD 2002 SC 1048]۔

49۔اپنے فیصلے کا اختتام میں اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی ؐکی اس حدیث پر کروں گا:

’’جان لو! جو کوئی بھی کسی غیر مسلم یا اقلیت پر ظلم کرے گا، سختی سے پیش آئے گا۔ اْن کے حقوق سلب کرے گا، اور اْن کو اْن کی برداشت سے زیادہ ایذا دے گا اور اْن کی مرضی کے برخلاف ان سے کچھ چھینے گا، میں (حضرت محمدؐ) اْس کے بارے میں روزِ قیامت شکایت کروں گا۔‘‘ (ابوداؤد)

50۔متذکرہ بالا و جوہات کی بناء پر ، یہ اپیل منظور کی جاتی ہے۔عدالتِ عالیہ اور ابتدائی سماعت کی عدالت کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیا جاتاہے۔ نتیجتاً، اپیل گزار کو دی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دیا جاتاہے اور اْس کو تمام الزامات سے بری کیا جاتاہے۔ اگر کسی دیگر فوجداری مقدمے میں اْس کو قید رکھنا مقصود نہیں تو اْس کو فوری طور پرجیل سے رہا کیا جائے گا۔

چیف جسٹس

میں اتفاق کرتا ہوں اور اپنی اتفاقی رائے فیصلہ ہذا کے ساتھ منسلک کرتا ہوں۔ جج133جج( جاری ہے)

133اتفاقی رائے:

آصف سعید خان کھوسہ،جج:

مجھے عزت مآب چیف جسٹس کے تحریر کردہ فیصلے کا جائزہ لینے کا شرف حاصل ہوا۔ میں اگرچہ فیصلے کی وجوہات اورحتمی نتیجے سے اتفاق کرتا ہوں تاہم فیصلے میں چونکہ بہت سے قانونی اور مبنی برحقائق نکات شامل ہیں لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی اتفاقی رائے بھی تحریر کروں۔

2۔ مسمآ آسیہ بی بی اپیل گزار پر الزام ہے کہ اس نے مورخہ 14.06.2009کو کچھ دیگر مسلمان ساتھی خواتین کے سامنے فالسہ(بیری کی ایک قسم جسے گریویا ایشیا ٹیکا بھی کہا جاتاہے) چنتے ہوئے ، محمد ادریس کے کھیت میں جو موضع اٹاں والی میں تھانہ ننکانہ صاحب کی حدود میں واقع ہے، حضرت محمدٓ اور قرآن الکریم کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے توہین آمیز الفاظ استعمال کئے۔ جس کے بعد اْس کے خلاف توہینِ رسالآ کی دفعہ 295۔Cتعزیراتِ پاکستان مجریہ 1860 کے تحت ایف آئی آر نمبر 326کا مورخہ 19.06.2009کا اندراج قاری محمد سلام/شکایت گزار جو کہ مقامی مسجد کا امام ہے کی ایماء پر کیا گیا۔ الزام یہ تھا کہ اپیل گزار نے یہ بیان دیا کہ اْس نے کچھ ایسی باتیں کہیں جیسے (نعوذ باللہ) حضرت محمدؐ اپنی وفات سے قبل شدید علیل ہو کر بستر سے لگ گئے تھے اور آپ کے ذہنِ مبارک اور کانِ مبارک میں کیڑے پیدا ہو گئے تھے، آآ نے حضرت خدیجہٓ سے نکاح اْن کی دولت کے حصول کے لئے کیا تھا اور دولت حاصل کر کے آآ نے انہیں چھوڑ دیا تھا۔ یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ اْسی موقع پر ہی اپیل گزار نے یہ الفاظ بھی کہے کہ قرآن کریم خدا کی الہامی کتاب نہ ہے بلکہ خود ساختہ کتاب ہے۔ اپیل گزار کو مقامی پولیس نے 19.06.2009کو ایف آئی آر کے اندراج کے فوری بعد گرفتار کر لیا اور تفتیش مکمل کرنے کے بعد متعلقہ ابتدائی سماعت کی عدالت میں چالان دائر کر دیا۔ ابتدائی سماعت کی عدالت نے دفعہ 295۔Cتعزیراتِ پاکستان کے تحت اپیل گزار کے خلاف بارِ الزام عائد کیا اْس نے صحتِ جرم سے انکار کیا اور مقدمے کی باقاعدہ سماعت کا مطالبہ کیا۔ دورانِ سماعت استغاثہ نے اپیل گزار کے خلاف اپنے الزام کو ثابت کرنے کیلئے سات گواہان پیش کئے اور کچھ دستاویزات بھی پیش کیں اور ایک عدالتی گواہ کا بیان بھی عدالتِ سماعت نے ریکارڈ کیا۔ضابطۂ فوجداری 1898کی دفعہ 342 کے تحت اپنے دیے گئے بیان میں اپیل گزار نے صحتِ جرم سے انکار کرتے ہوئے استغاثہ کی جانب سے لگائے گئے ا لزامات سے انکار کیا اور اپنی بے گناہی پر اصرار کیا۔ اس نے ضابطہٓ فوجداری کی دفعہ 340(2)کے تحت برحلف بیان دینے سے احتراز کیا اور اپنے دفاع میں کوئی شہادت بھی پیش نہیں کی۔ دونوں فریقین کے فاضل وکلاء کے دلائل سْننے کے بعد فاضل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ننکانہ صاحب جو مقدمے کی سماعت کر رہے تھے نے اپیل گزار کو فیصلہ مورخہ 08.11.2010کے ذریعے دفعہ 295۔C تعزیراتِ پاکستان کے تحت سزا کا مستوجب ٹھہرایا اور اس کو سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جو کہ جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں چھ ماہ قید سادہ کی سزا تجویز کی۔ اپیل گزار نے اپنی سزا لاہور ہائی کورٹ لاہور میں فوجداری اپیل نمبر 2509/2010کے ذریعے چیلنج کر دی جس کی شنوائی مذکورہ عدالت کے فاضل ڈویڑن بنچ نے قتل کے ریفرنس نمبر 614/2010کے ہمراہ کی جس میں ابتدائی عدالت سماعت کی جانب سے اپیل گزار کو دی گئی سزائے موت کی توثیق کی استدعا کی گئی تھی۔ فیصلہ مورخہ 16.10.2014کے تحت دی گئی سزائے موت کی توثیق کر دی گئی اور اپیل گزار کی اپیل کو خارج کرتے ہوئے ابتدائی اختیارِ سماعت کی عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کو برقرار رکھا گیا اور قتل کے ریفرنس کا مثبت جواب دیا گیا۔ مآ بعدزیرِ نظر اپیل برائے اجازتِ عدالت دائر ہوئی جو کہ مورخہ 22.07.2015کومرہون کی گئی۔

3۔عدالتِ ہذا نے اپیل کی اجازت اس لئے دی تاکہ شہادتوں کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے۔ ہم چاہتے تھے کہ موجودریکارڈ کا جائزہ باریک بینی سے فریقین کے فاضل وکلا کی مستند معاونت کی روشنی میں لیا جائے۔ ہم نے فریقین کے فاضل وکلا کی جانب سے دیے گئے بیانات اور کی گئی بحث کا انتہائی اختیاط سے جائزہ لیا ہے۔

4۔اپیل گزار کے فاضل وکیل نے دلیل دی کہ ایک ایف آئی آر مبینہ وقوعے کے متعلق قاری محمد سلام، شکایت گزار(PW۔1)کی جانب سے پانچ دن کی تاخیر کے بعد درج کی گئی اور شکایت گزار نے ابتدائی عدالتِ سماعت کے روبْرو اعتراف کیا کہ ایف آئی آر کے اندراج سے قبل استغاثہ کے اراکین نے واقعے پر غور فکر کیا۔ تاخیر اور غورو فکر ایف آئی آر کی شہادتی اہمیت کو ناقص بنا دیتی ہے ، جیسا کہ عدالتِ ہذا نے مقدمہ افتخار حسین و دیگر ان بنام ریاست [2004 SCMR 1185]میں قرار دیا ہے۔ اس نے یہ بھی دلیل دی کہ استغاثہ کے گواہان نے ایف آئی آر کے اندراج کی جگہ کے متعلق مختلف آراء دیں اور وکیل جس نے ایف آئی آر کے اندراج کی درخواست تحریر کی، اس کا نام کبھی نہیں دیا گیا۔ اْس نے مزید بحث کی کہ استغاثہ کے دو خود مختار گواہان نے اس امر کی تصدیق کی کہ اپیل گزار کی جانب سے توہین آمیز الفاظ کے اظہار سے قبل اپیل گزار اور شکایت کنندہ فریق سے تعلق رکھنے والی خواتین کے درمیان جھگڑا ہوا تھا لیکن استغاثہ کے گواہان کیونکہ مقدمے میں اپنا مفاد رکھتے تھے لہٰذا انہوں نے اس اہم حقیقت کو مکمل طور پر چھپا کے رکھا اس نے یہ بھی بحث کی کہ اپیل گزار کے خلاف لگائے گئے مبینہ الزامات کے متعلق کوئی بھی آزاد تائیدی شہادت موجود نہ ہے جو کہ استغاثہ کے گواہان یعنی معافیہ بی بی (PW۔2) اور اسماء بی بی (PW۔3) جو ابتدائی اختیارِ سماعت کی عدالت میں پیش ہوتے رہے ہیں کی تائید کرے۔ اس کے مطابق مقدمے کی ابتدائی تفتیش ایسے افسر کے ذریعے کی گئی جو دفعہ 156۔A ضابطہ فوجداری کے تحت اس قسم کے مقدمے کی تفتیش کا اختیار نہیں رکھتا تھا، اپنی اس دلیل کی تائید میں اس نے مقدمات شوکت علی بنام ریاست اور دیگران (2008 SCMR 553) امجد فاروق اور دیگر بنام ریاست (2007 P.Cr.L.J. 238) اور ملک محمد ممتاز قادری بنام ریاست اور دیگران (PLD 2016 SC 17) پر انحصار کیا اس نے یہ بھی بیان کیا کہ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ اپیل گزار عیسائی مذہب کی مبلغہ تھی جو اس مقدمے کا محرک بنا لیکن اس قسم کا کوئی الزام ابتدائی عدالت سماعت کے روبرو استغاثہ کے گواہان کی جانب سے دورانِ سماعت نہیں لگایا گیا اس نے واضح کیا کہ کوئی دوسری خاتون جو اپیل گزار کے ساتھ اسی کھیت میں کام کرتی تھی، استغاثہ کے الزام کی توثیق کے لئے اپیل گزار کے خلاف پیش نہیں کی گئی۔ پس بہترین شہادت کا راستہ استغاثہ نے روک لیا اور استغاثہ کی اس ناکامی کی وجہ سے فیصلہ اس کے خلاف کیا جانا چاہئے۔ اس بحث کے بعد اپیل گزار کے فاضل وکیل نے اعادہ کیا کہ استغاثہ کا مقدمہ اپیل گزار کے خلاف شکوک وشبہات سے بھرا پڑا ہے اور ان شکوک کا فائدہ اپیل گزار کو ملنا چاہئے۔

5۔ اس کے برعکس فاضل ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب جو ریاست کی جانب سے پیش ہوئے نے بیان دیا کہ ایسے پولیس آفیسر کی جانب سے مقدمے کی سماعت کرنا جو تفتیش کا مجاز نہ ہو تفتیش کو ناقص نہیں کرتا اس بیان کی تائید میں انہوں نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 156(2) کا حوالہ دیا۔ اس نے بیان کیا کہ ابتدائی اختیارِ سماعت کی عدالت کے روبرو معافیہ بی بی (PW۔2) اور اسماء بی بی (PW۔3) کی جانب سے دیے گئے بیانات میں بہت مطابقت ہے اور ان کے بیانات کو محمد ادریس (CW۔1) اور محمد امین بخاری (ایس پی) انویسٹی گیشن (PW۔6) کے بیانات سے خاصی تقویت ملتی ہے اس کی جانب سے اس امر پر زور دیا گیا کہ استغاثہ مقدمے کو اپیل گزار کے خلاف ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہو کر ثابت کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

6۔ فاضل وکیل برائے شکایت گزار نے اس اپیل کی مخالفت کرتے ہوئے اور اپیل گزار کی سزا جس کو ذیلی عدالتوں نے قائم رکھا تھا کی حمایت میں دلائل دیے کہ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر فوجداری مقدمات میں ہمیشہ مہلک نہیں ہوتی اور زیرنظر مقدمے میں استغاثہ کی جانب سے تاخیر کی خاصی حد تک وضاحت کر دی گئی ہے۔ انہوں نے اپنے موقف کی تائید میں مقدمات زربہادر بنام ریاست (1978 SCMR 136) اور شیراز اصغر بنام ریاست (1995 SCMR 1365) پر انحصار کیا۔ انہوں نے مزید بحث کی کہ نیچے کی دونوں عدالتوں نے باہم مطابقت سے اپنا فیصلہ دیا او راپیل گزار کو لگائے گئے الزامات کا مرتکب پایا اور نیچے کی دونوں عدالتوں کی جانب سے دیے گئے موافق فیصلے میں سرسری انداز میں مداخلت درست نہ ہو گی۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اپیل گزار نے اپنے دفعہ 342 ضابطہ فوجداری کے تحت ریکارڈ کردہ بیان میں وقوعے کے روز اس وقت اور تاریخ پر فالسے کے کھیت میں اپنی موجودگی کو قبول کیا اور اس نے یہ بھی قبول کیا کہ اس کا اسی موقع پر اپنی ساتھی خواتین جن میں معافیہ بی بی (PW۔2) اور اسماء بی بی (PW۔3) بھی شامل ہیں سے زبانی جھگڑا ہوا اور ان گواہان سے دوران جرح ایسا کوئی سوال تجویز نہیں کیا گیا کہ آیا ان کی جانب سے اپیل گزار پر لگایا گیا توہین رسالآ سے متعلق الزام غلط تھا ؟ شکایت گزار نے بہت دفعہ وقوعہ کے ارتکاب کے متعلق استغاثہ کے مختلف گواہان کے سامنے ماورائے عدالت اقبال جرم کیا جنہوں نے مسلسل اس امر کا تذکرہ ابتدائی اختیارِ سماعت کی عدالت میں کیا۔ آخر میں انہوں نے بحث کی کہ استغاثہ کے گواہان کے پاس ایسی کوئی باوثوق وجہ نہیں ہے کہ وہ اپیل گزار کو جھوٹی بنیادوں پر ایسے مقدمے میں پھنسائیں۔ ان کے باہم مسابق بیانات کی وجہ سے انہیں نیچے کی دونوں عدالتوں کا اعتماد حاصل ہوا، لہٰذا اپیل گزار کی سزا جو نیچے کی عدالتوں نے دی اور برقرار رکھی، میں کسی قسم کی مداخلت کی گنجائش نہ ہے۔

7۔ فریقین کے فاضل وکلا کو سننے اور مقدمے کے ریکارڈ کو ان کی معاونت سے جائزہ لینے کے بعد میں نے مشاہدہ کیا کہ استغاثہ نے اپیل گزار کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کرنے کے لئے سات گواہان کو پیش کیا۔ قاری محمد سلام /شکایت گزار ابتدائی اختیار سماعت کی عدالت کے روبرو بطور (PW۔1) پیش ہوا اور اس نے وقوعہ کا تین خواتین کے ذریعے پتہ چلنے، مورخہ 09۔06۔2009 کو ایک عوامی اجتماع (جرگے) کے انعقاد اور اپیل گزار کے مبینہ طور پر اپنے گناہ کا اعتراف کرنے اور معافی کی درخواست گزار ہونے اور پھر اس کی جانب سے مورخہ 19۔06۔2009کو ایک ایف آئی آر درج کروانے کے متعلق بیان دیا۔ معافیہ بی بی (PW۔2) نے وقوعہ مورخہ 14۔06۔2009 کو فالسے کے کھیت میں پیش آنے، اس کی جانب سے شکایت گزار کو وقوعہ کی اطلاع دینے، مورخہ 19۔06۔2009 کو عوامی اجتماع (جرگے) کے انعقاد وہاں اپیل گزار کے مبینہ طور پر اقبالِ جرم کرنے اور معافی مانگنے کے متعلق بیان دیا۔ اسماء بی بی (PW۔3) نے بھی تقریباً انہی حالات وواقعات کو دہرایا جن کے متعلق بیان معافیہ بی بی (PW۔2) نے دیا تھا۔ محمد افضل (PW۔4) نے بھی قاری محمد سلام /شکایت گزار، معافیہ بی بی (PW۔2) اور اسماء بی بی (PW۔3) کی جانب سے اپیل گزار کے ہاتھوں مبینہ توہین رسالتؐ کی اطلاع ملنے اور مورخہ 19۔06۔2009 کو عوامی اجتماع (جرگہ) کے انعقاد جہاں اپیل گزار نے مبینہ طور پر اپنے جرم کا اعتراف کیا اور معافی کی درخواست گزار ہوئی کے متعلق بیان دیا۔ محمد رضوان سب انسپکٹر (PW۔5) نے تھانے میں روایتی ایف آئی آر کا اندراج کیا۔ محمد امین بخاری (ایس پی) انویسٹی گیشن بطور گواہِ استغاثہ (PW۔6) پیش ہوئے اور بیان دیا کہ مقدمے کی تفتیش انہوں نے کی ہے، محمد ارشد سب انسپکٹر (PW۔7) اس مقدمے میں ابتدائی تفتیشی افسر تھا اور اس نے 19۔06۔2009 کو جائے وقوعہ کا دورہ کرنے، گواہان کے بیانات ریکارڈ کرنے، اپیل گزار کو گرفتار کرنے، مجسٹریٹ سے اس کا عدالتی ریمانڈ کروانے اور اس کو جوڈیشل لاک اپ بھیجنے کے متعلق بیان دیا۔ مقدمے کے متعلق ابتدائی عدالتِ سماعت میں کچھ دستاویزات بھی استغاثہ کی جانب سے پیش کی گئیں۔ ابتدائی عدالتِ سماعت نے محمد ادریس کو بطور عدالتی گواہ (CW۔1) سمن بھیجا اور اس کا بیان ریکارڈ کیا جس نے بیان کیا کہ وہ فالسے کے کھیت کا جہاں وقوعہ رو پذیر ہوا کا مالک ہے اس نے یہ بھی بتایا کہ اپیل گزار نے اس کے سامنے مورخہ 14۔06۔2009 کو اپنے جرم کا اعتراف کیا اس نے شکایت گزار کو واقعہ کی اطلاع دینے، عوامی اجتماع (جرگے) کے 19۔06۔2009 کو انعقاد اور افسر تفتیش کے سامنے گناہ کا ارتکاب کے اقبال کے متلق بیان دیا۔ اپیل گزار نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے اور اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ یہ مقدمہ اس کے خلاف کو درج کیا گیا اور استغاثہ کے گواہان اس کے خلاف بیان کیوں دے رہے ہیں درج ذیل بیان دیا:

’’میں ایک شادی شدہ خاتون اور دو بچوں کی ماں ہوں میرا خاوند ایک غریب مزدور ہے میں محمدادریس کے کھیتوں میں دیگر کئی خواتین کے ہمراہ روزانہ کی اجرت کے عوض فالسے چننے جایا کرتی تھی۔ مبینہ وقوعہ کے روز میں دیگر کئی خواتین کے ہمراہ کھیتوں میں کام کر رہی تھی مسمآ معافیہ اور مسمآ اسماء بی بی (گواہان استغاثہ) کے ساتھ پانی بھر کے لانے پہ جھگڑا ہو گیا جو میں نے ان کو پیش کرنا چاہا لیکن انہوں نے یہ کہہ کر منع کر دیا چونکہ میں عیسائی ہو ں اس لئے وہ کبھی بھی میرے ہاتھ سے پانی نہیں پیئے گی اس بات پر میرے اور استغاثہ کی گواہان خواتین کے درمیان جھگڑا ہوا اور کچھ سخت الفاظ کا تبادلہ ہوا اس کے بعد استغاثہ کی گواہان قاری سلام / شکایت گزار تک اس کی بیوی کے ذریعے پہنچی جو ان دونوں خواتین کو قرآن پاک پڑھاتی تھی، اس استغاثہ کے گواہان نے قاری سلام سے مل کر سازش کے تحت میرے خلاف ایک جھوٹا مقدمہ گھڑا۔ (جاری ہے )

(صفحہ نمبر39سے آگے کمپوز ہونا ہے)

مزید : میٹروپولیٹن 4