پارکوں پر قبضے اور غیرقانونی الاٹمنٹ میں اداروں کی معاونت کا اعتراف

پارکوں پر قبضے اور غیرقانونی الاٹمنٹ میں اداروں کی معاونت کا اعتراف

کراچی(اسٹاف رپورٹر) کراچی کے پارکس پر قبضوں اور غیرقانونی الاٹمنٹ میں کے ڈی اے اور دیگراداروں کی معاونت کا اعتراف کرلیا گیا، سپریم کورٹ نے تمام قبضوں کو خالی کرانے کا حکم دے رکھا ہے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں میں شہر کے بڑے پارکوں پر قبضوں سے متعلق رپورٹ میں قبضوں اورغیرقانونی الاٹمنٹ میں کے ڈی اے اور دیگر اداروں کی معاونت کا اعتراف کیا گیا ہے۔عدالت کو بتایا گیا ہے کے ڈی اے نے ہل پارک کے نشیب میں بیالیس پلاٹوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ کی، پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی نیہل پارک کے نشیب میں سات پلاٹوں کی الاٹمنٹ کی، ہل پارک میں تین نجی ریسٹورنٹس اور سینما کی الاٹمنٹ بھی غیرقانونی ہے۔رپورٹ کے مطابق پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی نے جھیل پارک کی چھ ایکٹراراضی کی الاٹمنٹ کی، عزیزبھٹی پارک میں غیرقانونی کنٹین بنانے کی اجازت دی گئی، جسے غیر قانونی طورپر تین منزلہ شادی ہال میں تبدیل کردیاگیا، عزیزبھٹی پارک میں کسٹم کلب اورشادی ہال بھی غیرقانونی الاٹ ہیں۔قبضوں سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برنس گارڈن پر محکمہ سیاحت نے تیس سے چالیس فیصدرقبے پر قبضہ کررکھا ہے، بلف پارک، اولڈ کلفٹن پر پوری نیلم کالونی بنادی گئی ہے۔اسی طرح کڈنی ہل پارک کے اسی فیصدرقبے پر لینڈمافیا، واٹربورڈ، کے ای سی ایچ ایس کاقبضہ ہے جبکہ نیشنل پارک کی اراضی بھی مختلف سوسائٹیز کے قبضے میں ہے۔یاد رہے سپریم کورٹ نے تمام قبضوں کو خالی کرانے کا حکم دے رکھا ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر