ریسکیو 1122نے گزشتہ ماہ89ہزار 5سو58 متاثرین کو ریسکیوکیا

ریسکیو 1122نے گزشتہ ماہ89ہزار 5سو58 متاثرین کو ریسکیوکیا

لاہور(کرائم رپورٹر) پنجاب ایمرجنسی سروس (ریسکیو1122) نے گذشتہ ماہ پنجاب بھر میں سات منٹ ریسپانس ٹائم کو برقراررکھتے ہوئے 85978 ریسکیوآپریشن کے دوران 89558 ایمرجنسی متاثرین کو ریسکیوکیا۔ ان حادثا ت میں سے 28324روڈ ٹریفک حادثات رو نما ہوئے جن میں 265 افراد لقمہ اجل بن گئے۔

ڈائریکٹرجنرل پنجاب ایمر جنسی سروس ریسکیو 1122 ڈاکٹر رضوان نصیر نے بڑھتے ہوئے روڈ ٹریفک حادثات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زیا دہ تر لو گوں کی اموات کی وجہ ٹریفک حادثات ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین کو نافذ کرکے اور روڈسیفٹی کے پانچ اسٹریٹجک ستونو ں کے مطابق مناسب اقدامات کے ذریعے روڈ ٹریفک حادثات میں طور پر کمی لائی جا سکتی ہے۔ گزشتہ روزان خیالات کا اظہارانہوں نے پنجاب ایمر جنسی سروس ریسکیو1122 ہیڈ کوارٹرز میں ریسکیو افسران کی میٹنگ کی صدارت کے دوران پنجاب کے تمام اضلاع میں ریسکیو 1122کی ماہانہ کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کیاتاکہ سروس کی کارکردگی کو بہتر اوربِلا تفریق کے تمام شہریوں کویکساں معیارکی ایمرجنسی سروسز کی فراہمی کویقینی بنائی جا سکے۔ڈی جی ریسکیو پنجاب نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنر ل اسمبلی روڈ سیفٹی قرارداد2011کو نافذ کرکے لاکھوں زندگیا ں بچا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2011سے 2020تک کا عشرہ روڈ سیفٹی کے لیے مختص کیا گیا۔ انہوں نے تمام ضلعی ایمرجنسی افسران کو ہدایت جاری کی کہ وہ ریسکیورزاور اپنی فزیکل فٹنس، ایمرجنسی گاڑیوں اور ریسکیو اسٹیشنز کی صفائی کو یقنی بنائیں۔ ڈاکٹر رضوان نصیر نے کہا کہ سروس روزانہ کی بنیاد پر اوسط944 روڈ ٹریفک حادثات پرریسپانڈ کررہی ہے جن میں 990 افرادروزانہ کی بنیاد پر روڈ ٹریفک حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے ٹریفک پولیس سے اپیل کی کہ بائیک رائیڈرز کے لیے سیفٹی ہیلمنٹ کی پابندی پر عمل کروائے کم عمر بچوں اور بغیر لائسینس گاڑی چلانے والوں کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے والدین سے کہا کہ انکی سماجی ذمہ داری ہے کہ وہ کم عمری میں بچوں کو ڈرائیونگ ہر گز نہ کرنے دیں ۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی پا بندی کر کے بڑی حد تک ٹریفک حادثات پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔ ریسکیو 1122کے پراونشل مانیٹرنگ سیل کو ماہستمبر میں موصول ہونے والی ایمرجنسی کالز کا جائزہ لیا گیا جس کے تحت 28324کال ٹریفک حادثات،45431 میڈیکل ایمرجنسی،10555آگ لگنے کے واقعات ،2043جرائم کی کال71,ڈوبنے کے واقعات, 39عمارتیں منہدم ہونے کے واقعات اور10 سلنڈرپھٹنیدھماکوں کے واقعات اور9005دیگر ریسکیو آپریشن شامل ہیں جن پر ریسکیو1122نے ریسپانڈ کیا۔اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر حادثات بڑے شہروں میں پیش آئے جن میں259آگ کے واقعات لاہور میں، 100فیصل آباد ،69ملتان،56گوجرانوالہ ،67راولپنڈی،35سرگودھا، 27ڈی جی خان اور سیالکوٹ میں31آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔ اسی طرح 7149ٹریفک حادثات لاہور میں، 2772فیصل آباد2163,ملتان ،1715گوجرانوالہ، 921بہاولپور،842 راولپنڈی میں جبکہ856ساہیوال ٹریفک حادثات رونما ہوئے ۔

Back to Conversion Tool

مزید : علاقائی