مارکیٹوں کی بندش، مزدور طبقہ مشکلات سے دوچار ، گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑگئے

مارکیٹوں کی بندش، مزدور طبقہ مشکلات سے دوچار ، گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑگئے

لاہور(جنرل رپورٹر‘ نمائندہ خصوصی) صوبائی دارالحکومت کے مختلف چوراہوں پر احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے مارکیٹوں کی بندش پر یہاں پر کام کرنے والے دیہاڑی دار مزدوروں کے گھروں پر فاقوں نے ڈیرے ڈال دئیے ہیں اور ایسے مزدور جن کی تعداد ہزاروں میں ہے اور ان کا تعلق بیرون شہروں سے ہے دو وقت کی روٹی بھی ان کے لئے مشکل پڑ گئی ہے اور انہوں نے داتا دربار اور پیر مکی کے ارد گرد ڈیرے ڈال لئے ہیں وہ یہاں سے روٹی کھا کر کونوں خوانچوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں یہ مزدور روز یہ آس لیکر گھروں سے نکل رہے ہیں کہ شاید آج مارکٹیں کھل جائیں اور وہ مزدوری کرکے اپنے اپنے بچوں کے لئے کمائی لیکر گھروں کو جائیں لیکن مظاہرین کی جانب سے جلاؤ گھیراؤ کی وجہ سے مارکٹیوں میں واقع دکان مالکانوں نے اپنی اپنی املاک کو محفوظ رکھنے کے لئے کاروبار کے لئے دکانیں کھولنے کا رسک لینا ہی چھوڑ دیا ہے ۔ اردو بازار ‘ شاہ عالم مارکیٹ ‘ سرکلر روڈ ‘ موچی دروازہ ‘ اکبری مارکیٹ کے مزدور متاثر ہوئے ہیں اور وہ میڈیا کو دیکھ کر بھی یہی سوال کرتے ہیں کہ ملک میں جاری بے یقینی کی فضاء کا کب خاتمہ ہو گا واور کب وہ اپنے بچوں کے لئے روزی روٹی کما کر گھروں کو لیکر جائیں گے ۔مختلف مارکیٹوں میں کام کرنیو الے مزدورں خادم حسین ‘ صدیق ‘ محمد حسین ‘ فقیر علی ‘ اسد علی‘ ماجد ‘ محمد علی ‘ رضوان اور امجد علی کا کہنا تھا کہ باؤ جی جن لوگوں نے مہینے بعد اپنی تنخواہ لے لینی ہے ان کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن ہم تو وہ لوگ ہیں کہ کام کریں گے تو ہمیں دیہاڑی ملے گی ہماری تو کوئی تنخواہ نہیں لگی ہوئی ہم نے تو کام کرنا ہے تو کھانا ہے آپ لوگ ہمیں بتائیں کہ ہمارا اور ہمارے بچوں کا کیا قصور ہے ہم اپنے بچوں کو کہاں سے کھانا کھلائیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہمارا بھی خیال کرے اور جب اس طرح کی کوئی صورت حال ہو تو حکومت کی طرف سے ہمیں دیہاڑی دی جائے تاکہ ہم لوگ قاقہ کشی کا شکار ہونے سے بچ جائیں ہم بھی اس ملک کے شہری ہیں اور ہمارے بچوں کا خیال رکھنا بھی حکومت کا فرض ہے ہمارے نقصان کا ازالہ کیا جائے اور تب تک ہمیں بھی روز کا وظیفہ دیا جائے جب تک صورت حال معمول پر نہیں آ جاتی ۔

مزدور

مزید : میٹروپولیٹن 1