مولانا سمیع الحق نے جمعرات کو آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے کو ہدف تنقید بنایا

مولانا سمیع الحق نے جمعرات کو آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے کو ہدف تنقید بنایا

لاہور (نعیم مصطفےٰ سے) راولپنڈی کے بحریہ ٹاؤن میں شہید ہونے والے ممتاز عالم دین مولانا سمیع الحق ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے اور خفیہ ایجنسیوں کے تفتیشی افسران کے بقول یہ واقعہ توہین رسالت کی ملزمہ آسیہ کی بریت پر ہونے والے ردعمل کا جواب یا شاخسانہ ہوسکتا ہے۔ تاہم یہ امر بھی تفتیش کا اہم نکتہ ہے کہ مولانا سمیع الحق امریکہ کے ساتھ طالبان کے مذاکرات کیلئے ایک عرصے سے سہولت کار کا کردار ادا کر رہے تھے، اس تناظر میں ان کے قتل کو عالمی سازش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ مولانا کی شہادت کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے ایک سینئر تفتیشی افسر نے ’’پاکستان‘‘ کو بتایا کہ ہم نے سپریم کورٹ کی جانب سے آسیہ کی بریت کے بعد شہید کی نقل و حرکت کا ریکارڈ اکٹھا کیا ہے۔ فوری طور پر میسر تفصیلات کے مطابق مولانا سمیع الحق نے جمعرات کے روز اپنے مدرسہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے باہر ایک بڑے احتجاجی جلسے سے خطاب کیا، جس میں ہزاروں افراد جمع تھے، ناسازی طبع کے باوجود مولانا نے سوا گھنٹہ تک اپنے خطاب کے دوران سخت اور جذباتی لہجہ اختیار کیا، جس میں عدالتی فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور آسیہ کی بریت کو عالم اسلام کیلئے ایک چیلنج قرار دیا۔ تفتیشی افسر کا یہ بھی کہنا تھا کہ مولانا سمیع الحق نے اس فیصلے کے ردعمل میں تحریک لبیک پاکستان کے موقف کی تائید بھی کی اور اپنی جماعت کے رہنماؤں و کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ اس حوالے سے ہونے والے احتجاج یا مظاہروں کے بارے میں ایم ایم اے کی کال کا انتظار کریں اور جمعہ کے روز جس مقام کا اعلان کیا جائے وہاں ضرور آئیں۔ تفتیشی افسر کے بقول مولانا جمعہ کی صبح اپنی رہائش گاہ واقع بحریہ ٹاؤن راولپنڈی آگئے۔ ان کا ڈرائیور اور ایک گارڈ بھی ہمراہ تھے۔ انہوں نے طے شدہ پروگرام کے مطابق ایم ایم اے کے احتجاج میں شریک ہونا تھا، لیکن راستے بند ہونے کی بناء پر وہاں تک نہ پہنچ سکے اور نماز جمعہ اسلام آباد کی ایک مسجد میں ادا کی، جہاں آدھ گھنٹے سے زائد خطاب بھی کیا۔ یہاں بھی انہوں نے آسیہ کیس کے فیصلے کو ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ تمام مسلم امہ اس پر یک زبان ہے، اس پر ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔ تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ راستے بند ہونے کی بناء پر مولانا مسجد سے واپس گھر تشریف لے آئے اور استراحت کرنے لگے۔ نماز عصر سے پہلے ان کا ڈرائیور گن مین کے ساتھ گاڑی پر چائے کا سامان لینے قریب مارکیٹ گیا۔ اس دوران دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار نوجوان کوٹھی کے باہر آئے، دو بیرونی دیوار پھلانگ کر اندر بیڈ روم میں چلے گئے جبکہ باقی دو موٹر سائیکل سٹارٹ کئے باہر ہی کھڑے رہے۔ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ حملہ آوروں نے مولانا پر سوتے میں وار کئے اور باہر آکر موٹر سائیکلوں پر بآسانی فرار ہوگئے۔ تفتیشی افسر نے سوال کے جواب میں یہ بھی بتایا کہ بحریہ ٹاؤن میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں نے کوٹھی کے باہر کے تمام لمحات کیپچر کئے ہیں، جو ہم نے محفوظ کرلئے ہیں۔ موٹر سائیکل کے نمبر، حملہ آوروں کے حلئے اور فرار کے راستوں کی ’’جیو فینسنگ‘‘ کی جائے گی اور اس امر کا غالب امکان ہے کہ حملہ آور جلد گرفتار کرلئے جائیں۔ تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ ہم ڈرائیور اور گن مین کے اچانک گھر سے باہر جانے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور یہی ہماری تفتیش کا نقطۂ آغاز ہے۔ دوسری جانب پولیس کے ماہر تفتیشی افسروں نے شہید مولانا کے دونوں اجتماعات سے خطاب کی ویڈیو کیسٹس بھی حاصل کرلی ہیں، وہ بھی تفتیش میں خاصی معاون ثابت ہونگی۔ مولانا سمیع الحق کو علمائے دیوبند میں منفرد مقام حاصل تھا، وہ مذہبی سیاستدانوں میں صف اول کے رہنما مانے جاتے تھے اور مرحوم کے والد مولانا عبدالحق متحدہ برصغیر کے جید علمائے دیوبند میں شمار ہوتے تھے، جو تین مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، جنہوں نے 1947ء میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی بنیاد رکھی۔ ان کے تین بیٹوں میں مولانا سمیع الحق سب سے بڑے تھے۔ جمعیت علمائے اسلام جب دو دھڑوں میں تقسیم ہوئی تو ایک دھڑے کی قیادت مولانا مفتی محمود کے حصے آئی جبکہ دوسرے دھڑے کی قیادت مولانا عبداللہ درخواستی کے سپرد ہوئی۔ مولانا مفتی محمود بھی قبل ازیں مولانا عبداللہ درخواستی کی قیادت میں جے یو آئی میں خدمات انجام دے چکے تھے۔ مولانا مفتی محمود کی رحلت کے بعد جمعیت کے قائد ان کے فرزند مولانا فضل الرحمن بن گئے جبکہ 1992ء کے عام انتخابات کے بعد دوسرے دھڑے کی سربراہی مولانا سمیع الحق کو مل گئی اور جے یو آئی (ف) کے مقابلے میں جے یو آئی (س) وجود میں آئی۔ مولانا سمیع الحق کے دو بیویوں سے چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔ بڑی اہلیہ وفات پاچکی ہیں، ان کے بطن سے دوبیٹے مولانا حامد الحق، مولانا راشد الحق اور ایک بیٹی حیات ہیں جبکہ دوسری اہلیہ سے دو بیٹے اسامہ سمیع، خزیمہ سمیع اور چار بیٹیاں ہیں۔ دوسری اہلیہ آجکل اپنے دو بیٹوں کے ساتھ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کی غرض سے سعودی عرب میں ہیں۔ دارالعلوم حقانیہ کو پاکستان اور افغانستان کے مذہبی حلقوں میں خاص مقام حاصل ہے اور افغانستان کے کئی سرکردہ رہنما اور پارٹی سربراہان اسی ادارے کے فارغ التحصیل ہیں۔ مولانا فضل الرحمن بھی آٹھ سال تک اسی ادارے میں زیر تعلیم رہے۔ مولانا سمیع الحق شہید کے چھوٹے بھائی مولانا انوار الحق بھی نامور عالم دین ہیں۔ شہید مولانا 18 دسمبر 1937ء کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم اپنے والد کے قائم کردہ ادارے سے ہی حاصل کی۔ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران اس ادارے نے عالمی شہرت اختیار کی۔ مولانا سمیع الحق دو بار سینیٹ اور ایک بار قومی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے۔

مزید : صفحہ اول