احتجاجی مظاہروں میں توڑ پھوڑ اور 3دن ہڑتال سے اربوں کا نقصان ہوا

احتجاجی مظاہروں میں توڑ پھوڑ اور 3دن ہڑتال سے اربوں کا نقصان ہوا

لا ہور (رپورٹ : یو نس باٹھ ) آسیہ کی بریت کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں توڑ پھوڑ اور تین دن ہڑتال سے اربوں کا نقصان ہوا،کاروباری مراکز بند ہونے سے اشیاء کی مصنوعی قلت بھی پیدا ہو ئی ،مصنوعی قلت سے مہنگائی بڑھی،ٹرانسپورٹ اور راستے بند ہونے سے مختلف مقامات پر لوگوں کو شدید پریشانی کا بھی سامنا کرنا پڑا اور سرکاری ادارے ریاست کی رٹ کو بحال کر نے میں نا کا م رہے ۔توہین رسالت کیس میں آسیہ بی بی کو بری کئے جانے کے عدالتی فیصلے پر ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ 3روز تک جا ر ی رہا ۔ مارکیٹیں بند اور کا روبار زندگی ٹھپ اور توڑ پھوڑ ہو نے سے اربوں روپے کا نقصان ہو گیاہے اور کاروبار ی وتجاری مراکز بند ہونے سے اشیاء کی مصنوعی قلت بھی پیدا ہو گئی ۔ مصنوعی قلت ہونے سے مہنگائی بھی بڑھی،ٹرانسپورٹ اور راستے بند ہونے سے مختلف مقامات پر لوگوں کو شدید پریشانی کا بھی سامنا کرنا پڑا،دفعہ 144کا نفاذہو نے کے با وجود قانون نا فذ کر نے والے ادارے ریاست کی رٹ کو بحال کر نے میں مکمل طور پر نا کا م رہے ۔ صوبائی محکمہ داخلہ کے مطابق 5 سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی تھی۔ پاکستانی سیاست میں احتجاجی دھرنوں‘ مظاہروں اور مارچوں کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ پچھلی پانچ دہائیوں میں دارلحکومت نے کئی سیاسی تحریکیں دیکھیں۔بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد میں پہلا بڑا مظاہرہ چار اور پانچ جولائی 1980 میں ہوا جب شیعہ برادری نے سابق صدر ضیاء الحق کے زکوہ اور عشر آرڈیننس کے خلاف دارالحکومت میں لانگ مارچ کی۔یہ اْس وقت کی حکومت کے لئے پہلا بڑا چیلنج تھا، اور موجودہ حکومت کی طرح بے نظیر سرکار نے بھی اسلام آباد کو بند کرنیکا فیصلہ کیا۔ تاہم بعد میں ہوش مندی غالب آئی اور اْس وقت کے وزیر داخلہ اعتزاز حسن نے برسی منانے والوں کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔ تعزیت کے لئے آئے لوگ سیاسی تقاریر اور برسی کے بعد پر امن طورپر منتشر ہو گئے۔ کچھ سالوں بعد 16 نومبر1992 میں اپوزیشن لیڈر بے نظیر بھٹو نے 1990 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے ایک لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔اس تحریک کی وجہ سے مرحوم صدر غلام اسحٰق خان نواز شریف کی پہلی حکومت کو تحلیل کرنے پر مجبور ہوئے۔ 26 مئی، 1993 میں شریف حکومت کو سپریم کورٹ کے احکامات پر بحال کر دیا گیا۔اگلے سال ،16جولائی 1993 میں بے نظیر بھٹو نے ایک مرتبہ پھر لانگ مارچ کیا تاہم اس مرتبہ انہیں اسلام آباد بلاک ملا۔ یہ نازک صورتحال اس وقت قابو آئی جب فوجی سربراہ جنرل وحید کاکڑ نے صدر اسحٰق اور وزیراعظم نواز شریف کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔ 1999 میں جماعت اسلامی کے سابق سر براہ قاضی حسین احمد نے نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں ہندوستان کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے دورے کے موقع پر لاہور میں دھرنا دیا تھا۔ مارچ، 2007 میں فوجی حکمران پرویز مشرف کی جانب سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی برطرف کئے جانے پر وکلا نے عدلیہ کی بحالی کے لئے تحریک چلائی۔ تحریک کی وجہ سے ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گیا اور پھر جسٹس افتخار ، وکلاء رہنماؤں اعتزاز حسن، منیر اے ملک ، اور علی احمد کرد کی قیادت میں پہلا لونگ مارچ شروع ہوا۔متاثرہ ججزکی مختصر بحالی کے بعد، مشرف نے نومبر 2007 میں ایمر جنسی نافذ کرتے ہوئے اعلی عدلیہ کو گھر بھیج دیا۔ اس دوران ججوں کو نظر بندکرتے ہوئے انہیں دوبارہ حلف اٹھانے کو کہا گیا، جس پر کئی ججوں نے مذاحمت کی۔ وکلا نے اس پر دوسری مرتبہ احتجاج شروع کیا،اور پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اسلام آباد لانگ مارچ کی کال دی گئی۔ نواز شریف کی قیادت میں لاہور سے شروع ہونے والا مارچ گجرانوالہ ہی پہنچا تھا کہ اْس وقت وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے رات گئے اپنی تقریر میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اوردوسرے ججوں کو بحال کرنے کا اعلان کر دیا۔مبینہ طور پر سیکورٹی ایجنسیوں کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے بلوچ افراد کے رشتہ داروں نے اکتوبر 2013 اور مارچ 2014 کے دوران براستہ کراچی کوئٹہ سے اسلام آباد مارچ کیا۔ ماما قدیر کی قیادت میں ’’ وائس آف بلوچ مسننگ پر سنز‘‘ نامی گروپ کے اس پیدل مارچ کو صحیح معنوں میں مارچ قرار دیا جا سکتا ہے۔ خواتین اور بچوں سمیت تیس شرکاء کے اس قافلے نے دو ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرتے ہوئے موہند اس کرم چند گاندھی کا 1930 میں ’’سالٹ مارچ‘‘ کا بھی ریکارڈ توڑ دیا۔تاہم ان کا مشکلات بھرا سفر بھی مقاصد کے حصول کا سبب نہ بن سکا۔ حالیہ تاریخ کا آخری بڑا لانگ مارچ پاکستان عوامی تحریک کے سر براہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے سال 14 جنوری کو کیا تھا۔ لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کا آخری پڑاؤ ڈی چوک کے قریب جناح ایونیو تھا۔ چار دنوں تک جاری رہنے والے دھرنے کا اختتام حکومت اور مظاہرین کے درمیان کامیاب مذاکرات پر ختم ہوا۔تاہم ، اس مرتبہ ڈاکٹر قادری کے لئے حالات ویسے نظر نہیں آرہے جیسے اس سے پچھلے سال تھے۔ عمران خان نے بھی نواز شریف حکومت کے خلاف 100دن سے زائد تک اسلام آباد میں دھر نا دیا اور پشاور میں فوجی فاؤنڈیشن سکول میں دہشت گردی کا افسوس نا ک واقعہ سامنے آنے پر انھوں نے اپنے دھر نے کے خا تمے کا اعلان کیا ۔ فوج اب نہ اقتدار پر قبضہ کرے گی ، اور نہ ہی نظام کو چھیڑے گی۔ جو لوگ ایک سیدھے حل کی امید کر رہے ہیں ، وہ ماضی میں جی رہے ہیں اور انہیں اپنے آپ کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ اب ملک مظاہروں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

اربوں نقصان

مزید : صفحہ اول