آسیہ رہائی فیصلہ پر لارجر بینچ تشکیل دیکر مقدمہ دوبارہ سنا جائے، سراج الحق

آسیہ رہائی فیصلہ پر لارجر بینچ تشکیل دیکر مقدمہ دوبارہ سنا جائے، سراج الحق

لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی اپیل پر آسیہ ملعونہ کی رہائی کیخلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں ۔ لاہور میں ملتان روڈ پر ہونے والے بہت بڑے احتجاجی مظاہرے اور جامع مسجد منصورہ میں اجتماع نماز جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سرا ج الحق نے کہاہے کہ وزیراعظم اپنے رویے اور لہجے کو تبدیل کریں اور ایک ذمہ دار فرد ہونے کا ثبوت دیں اب وہ پی ٹی آئی کے چیئرمین نہیں ، پاکستان کے وزیراعظم ہیں ۔ قوم کو دھمکیاں دینے کی بجائے لوگوں کی بات سنیں اور دلیل کے ساتھ اپنا موقف پیش کریں ۔ حکومت نے پوری قوم کو امتحان اور پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے ۔چیف جسٹس صاحب آپ پرکسی نے کفر کا فتویٰ نہیں لگایا ، آپ کلمہ گو مسلمان اور عاشق رسول ؐ کے دعویدار ہیں ، ہم آپ کے دعوے کو تسلیم کرتے ہیں اب آپ کو بھی اس دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے عوام کا مطالبہ مانتے ہوئے آسیہ رہائی کے فیصلے پر ایک لارجربنچ تشکیل دے کر اس پورے مقدمہ کو دوبارہ سنا جائے اور جب تک مقدمہ کافیصلہ نہیں ہوتا ، آسیہ کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے ۔ آپ کے بقول اگر سیشن اور ہائی کورٹ کسی کو غلطی سے سزائے موت سناسکتی ہے تو پھر سپریم کورٹ غلطی کیوں نہیں کرسکتی ۔سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ کراچی سے چترال تک پورے ملک میں پرامن احتجاج جاری ہے اور جب تک ہم آئین میں موجود اسلامی دفعات خاص طور پر ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کے قوانین کی حفاظت کو یقینی نہیں بنالیتے ، یہ احتجاج جاری رہے گا ۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب امیر العظیم نے کہاکہ آسیہ کی رہائی کے فیصلے سے قوم جان گئی ہے کہ پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کے نعرے لگانے والے بھی سابقہ حکمرانوں کی طرح مغرب کی منڈی میں بک گئے ہیں ۔ احتجاجی مظاہرے سے امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی ، امیر جماعت اسلامی لاہور ذکر اللہ مجاہد ، قاری مدثر ، مولانا جاوید قصوری اور مولانا عبدالمالک نے بھی خطاب کیا ۔

سراج الحق

مزید : صفحہ آخر