آئی جی پنجاب کا خلیل احمد کی غیر قانونی حراست کی تحقیقات کا حکم

آئی جی پنجاب کا خلیل احمد کی غیر قانونی حراست کی تحقیقات کا حکم

لاہور(کرائم رپورٹر)آئی جی پولیس پنجاب امجد جاوید سلیمی نے فیصل آباد کے نواحی گاؤں 476گ. ب کی محنت کش خاتون زبیدہ بی بی کی جانب سے اس کے عزیز خلیل احمد کی 9روزہ غیر قانونی حراست 6روزہ قانون کی آڑ میں گرفتاری اور اس پر ناجائز اسلحہ و ڈکیتی کے جھوٹے کیس بنانے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور اس سلسلے میں آر پی او فیصل آباد کو تحریری حکم جاری کیا گیا ہے کہ وہ ذاتی طورپر انکوائری کر کے 15روز کے اندر رپورٹ پیش کریں. یہ احکامات زبیدہ بی بی کی شکایت سننے کے بعد گذشتہ روز جاری کئے گئے جس میں خاتون نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس کے نوجوان بیٹے پرویز کو 3جولائی 2017ء کو قتل کر دیا گیا‘ ملزم فریق نے پولیس سے ساز باز کر کے رشوت کے عوض4نامزد ملزمان بے گناہ کر دیئے اور صرف ایک ملزم بلال کا چالان کر دیا گیا ‘اس کو بچانے کیلئے ملزم فریق نے پہلے تو خود صلح صفائی کی کوشش کی اور پھر ناکامی پر ایس ایچ او صدر سمندری حبیب اللہ چدھڑ کی ملی بھگت سے مدعیہ زبیدہ بی بی کے قریبی عزیزوں کی پکڑ دھکڑ کر کے ان پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا گیا ڈیڑھ ماہ قبل اس کے خاوند اور دو قریبی عزیزوں کو سمندری کچہری سے پکڑ لیا 5/4روز ناجائز حراست میں رکھ کر 40ہزار روپے رشوت لیکر چھوڑ دیا. 18 کو اکتوبر ایک بار پھر صدر سمندری پولیس نے اس کے خاوند اور کزن خلیل کو پکڑ لیا خاوند کو رات کے وقت یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ 30 ہزار روپے لا کر خلیل احمد کو چھڑوانے کا بندوبست کر لو.بندوست نہ ہو سکا تو 9روزہ غیر قانونی حراست میں رکھنے کے بعد اس پر اپنے پاس سے ایک ناجائز پسٹل ڈال دیا اور ڈکیتی کے ایک پرانے مقدمہ میں بھی اسے ملوث کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا جو ابھی تک پولیس کی حراست میں ہے۔

مزید : صفحہ آخر