ایران پر ایک بار پھر مکمل اقتصادی پابندیاں عائد

ایران پر ایک بار پھر مکمل اقتصادی پابندیاں عائد

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک )امریکہ نے 2015 ء کے عالمی جوہری معاہدے کے تحت ایران پر سے اٹھائی جانیوالی تمام اقتصادی پابندیاں ایک مرتبہ پھر مکمل طور پر نافذ کردیں۔بتایا گیا ہے ایران پر اقتصادی پابندیوں کا اطلاق بروز پیر (5 نومبر) سے شروع ہوگا۔امریکی پابندیو ں کے دائرہ کار میں ایران کے توانائی، فنانشل اور جہاز رانی کے شعبے شامل ہونگے۔ ایران پر پابندیوں کا اعلان کرنے کے بعد امر یکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے فلمی طرز کا اپنا ایک پوسٹر ٹوئٹ کیا جس پر تحریر تھا ’پابندیاں آرہی ہیں، 5 نومبر‘۔امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے کہا ایران پر پابندی کا مقصد اس کے رویے میں تبدیلی لانا مقصود ہے۔ ایران کو 12 نکات پر مشتمل لسٹ فراہم کردی گئی ہے اگر وہ پابند یو ں سے بچنا چاہتا ہے تو مذکورہ نکات پر عملدرآمد کرے ۔ ترکی، اٹلی، بھارت، جا پا ن اور جنوبی کوریا سمیت 8 ممالک کو ایران کیساتھ پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے کا دورانیہ 6 ماہ پر مشتمل ہوگا جس کے بعد مکمل پابندی ہو گی ، مذکورہ8 میں سے 2 ممالک پر ایک ہفتے کے اندر ہی مکمل لین دین پر پابندی ہوگی اور ایران اہم ترین عوامی اشیاء پر معین کردہ حد سے ز یا دہ خرچ نہیں کر سکے گا۔ امریکی پابندی سے 700 سے زائد ایرانی کمپنیاں اور ہزاروں لوگ متاثر ہونگے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے اتحادی ممالک کی تجاویز و مشوروں کو رد کرتے ہوئے امسال 8 مئی کو ایران کیسا تھ عالمی معاہدہ منسوخ کردیا تھا جو 2015 میں اسوقت کے امریکی صدر باراک اوباما نے دیگر عالمی طاقتوں بشمول برطانیہ، چین، فرانس، جر منی، روس اور ایران کے مابین طے پایا تھا۔یورپی یونین میں شامل ممالک نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مذکورہ فیصلے کو افسوسناک قرار دیا جبکہ اسرائیل، سعودی عرب اور بحرین کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا تھا ۔

ایران پابندیاں

مزید : صفحہ آخر