تبدیلی ’’تبادلے‘‘ اور متبادل

تبدیلی ’’تبادلے‘‘ اور متبادل
تبدیلی ’’تبادلے‘‘ اور متبادل

  

موجودہ حکومت نے پنجاب میں تبادلوں کے نام پر جو اکھاڑ پچھاڑ شروع کی ہے وہ بہت ہی دلچسپ مرحلے میں پہنچ گئی ہے ، پہلے حکومت اور حکمران ’’ یو ٹرن ‘‘ اور وعدوں سے مکرنا جیسے موضوعات کی زد میں تھے لیکن اب پولیس اور دوسرے انتظامی اداروں کے افسران کے تبادلے اور اُن افسران کو تبادلے والی جگہ چارج لیتے ہی دوسری جگہ تبادلوں جیسا موضوع حکومت پر بطور تنقید زیر بحث ہے ۔یعنی آفیسر کو کسی ایک جگہ ’’ ٹکنے ‘‘ ہی نہیں دیا جا رہا ۔ تبادلہ کرنے کے بعد کچھ ہی لمحات کے بعد دوبارہ اُسی آفیسر کا تبادلہ کہیں اور کر دینا حکومت پر کسی قسم کا بوجھ تو نہیں ؟ یہ دباؤ ہے یا حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اس کے بارے میں ہم حتمی فیصلہ نہیں دے سکتے ، ہم بحث کر سکتے ہیں اور وہی بحث آج کے کالم کا موضوع ہے ۔

وزیر اعظم پاکستان کا ایک بیان فوٹیج کی صورت سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ پولیس کے کام میں سیاسی مداخلت نہیں ہونی چاہیئے ، اگر میری حکومت آگئی تو میں بھی سیاسی مداخلت نہیں کروں گا ۔لیکن ہوا اس کے بر عکس اور ایک گائے وفاقی وزیر کے لان میں کیا آگئی کہ وزیر اعظم کو اپنا کہا ہی بھولنا پڑا اور اسلام آباد کے آئی جی پولیس کو تبدیل کر دیا ۔وجہ یہ بتائی کہ آئی جی اسلام آباد فون نہیں سنتے تھے ، آئی جی کا موقف سنے بغیر انہیں تبدیل کر دیا گیا شائد ہم اس عمل کو تبادلہ نہیں بلکہ تبدیلی کا نام دے کر دل کو تسلی دے سکتے ہیں ۔ایسے تبدیلی نما تبادلوں کی کافی مثالیں ہیں جن میں سر فہرست یہ کہ کچھ عرصہ قبل تحریک انصاف نے آئی جی موٹر وے کے لئے ایڈیشنل آئی جی پنجاب پولیس عامر ذوالفقار خان کا انتخاب کیا ، عامر ذوالفقار خان انتظامی امور میں مہارت بھی رکھتے ہیں اور ایماندار پولیس آفیسر کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں ، انہوں نے چارج سنبھالا اور موٹر وے جیسے محکمے میں وہ کام کر دیئے جو اُن سے پہلے کوئی آئی جی نہیں کر سکا تھا ،

دو ماہ بعد ہی اُن کو معلوم ہوا کہ وہ تو تبدیل ہو چکے ہیں اور اُن کی جگہ نئے آئی جی تعینات کر دیئے گئے ہیں ۔ ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز پنجاب شہزادہ سلطان کو بھی آرڈرز موصول ہوئے کہ آپ کی خدمات وفاق کے سپرد کر دی گئی ہیں ۔ایس ایس پی ٹریفک پنجاب اطہر اسماعیل کو ڈی پی او اوکاڑہ لگا دیا گیا،جہانزیب نزیر خان ڈی پی او شیخوپورہ اسی طرح دوسرے بہت سے افسران کو تبدیلی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔ سہیل تاجک کو آر پی او بہاولپور لگادیا گیا جہاں وہ چارج سنبھالنے گئے تو انہیں معلوم ہوا کہ انہیں تبدیل کر کے آئی جی آفس میں جب کہ محمد عمران ڈی آئی جی کو اُن کی جگہ تعینات کر دیا گیا ہے ۔ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ کے لئے صاحبزادی وسیمہ عمر کو تعینات کیا گیا لیکن ٹھیک ایک دن بعد انہیں قصور جبکہ اُن کی جگہ مریم خان ڈی سی اوکاڑہ تعینات ہو گئیں ۔ایسے عوامل کو ہم حکومتی بو کھلاہٹ ہی تو کہہ سکتے ہیں کیونکہ اس کے لئے کوئی اور نام ’’ سوٹ ‘‘ نہیں کرتا ۔

فواد چوہدری نے آئی جی اسلام آباد کی تبدیلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ کیا فائدہ الیکشن کرانے کا جب کوئی وزیر یا وزیر اعظم کسی آئی جی کو تبدیل نہیں کر سکتا ‘‘ فواد چوہدری کو کہنا چاہوں گا کہ جناب عالی اگر ایسا کرنا تھا تو وزیر اعظم عمران خان کو کہتے کہ وہ انتخابی مہم میں یہ نہ کہیں کہ وزیروں اور مشیروں کو محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت نہیں کرنی چاہیئے بلکہ انہوں نے تو یہاں تک کہا تھا کہ میں کبھی ایسا نہیں کروں گا ، سپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو دوبارہ بحال کر دیا ، اس فیصلے کے بعد کیا کہا جائے کہ وزیر اعظم نے غلط کیا یا سپریم کورٹ نے ؟ آئی جی پنجاب کی تبدیلی بھی آپ کے سامنے ہے ایک دن آئی جی محمد طاہر کا نوٹیفیکیشن جاری ہوا لیکن فوراً آئی جی پنجاب کے لئے محمد طاہر کی جگہ امجد جاوید سلیمی کو تعینات کر دیا گیا ۔ پاکستان کے اداروں میں تبادلے ہوتے رہتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں لیکن ایک ہی دن میں تبادلے والے افسر کو دوبارہ تبدیل کر دیا جانا ضرور نئی ’’ حکمت عملی ‘‘ ہے جس کو تبادلہ نہیں بلکہ تبدیلی کا نام دیا گیا ہے ۔تبدیلی کے لغوی معنی بھی تبدیل ہونا ہی ہوتے ہیں شائد وزیر اعظم اور اُن کے وزراء اپنی باتوں ، وعدوں اور عوام کو دکھائے گئے سہانے خوابوں سے ’’ مکر ‘‘ کر یا انہیں پورا نہ کرنے کی بات کر کے ملک میں آنے والی تبدیلی کے لغوی معنی بتانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

موجودہ حکومت کا نعرہ تھا کہ تبدیلی آئے گی اسی لئے تبدیلی کے اُس سیلاب میں تحریک انصاف کے تمام وعدے بھی تبدیل ہو گئے ہیں ، اِسے تبدیلی ہی کہا جائے تو بہتر ہوگا۔ حکومت یہ سمجھ رہی ہے کہ ہیلمٹ پہنانے ، وعدوں سے مکرنے ، چالان کی رقم اکھٹی کرنے ، مختلف اداروں کے افسران کو تبدیل کرنے سے ملک ترقی کرے گا تو یہ حکومت کی بھول ہے ۔اگر پاکستان کا صدر ترکی جاتے ہوئے عام مسافروں کے ساتھ ایئر پورٹ پر پروٹوکول لئے بغیر جہاز میں سوار ہوتا ہے یا شہر یار آفریدی عام شہریوں کی لائن میں لگ کر سفر کرتا ہے تو اس کا عوام کو کیا فائدہ؟ حکومتی نمائندے ثابت کیا کرنے چاہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے ملک ترقی کرے گا ؟ کرپٹ لوگوں سے پاکستان کی لوٹی ہوئی رقم واپس لینے کی بجائے جب چندہ مانگا جائے گا تو کیا ملک ترقی کرے گا ؟ ایک گائے کے لان میں آنے کی پاداش میں اسلام آباد کا آئی جی تبدیل کرنے سے ملک کو کیا فائدہ ہو گا ؟ اچھے بھلے کام کرنے والے آفیسرز کو ایک ایک دن کے لئے تبادلوں کی بھینٹ چڑھانے سے ملک ترقی کرے گا ؟ کئے وعدوں اور نعروں سے منحرف ہونے سے ملک کی ترقی ہو گی ؟

گورنر ہاؤسز کو گرانے کی بجائے غریبوں کی بستیاں گرانے سے پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو گا ؟ میں وزیر اعظم پاکستان سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ حق سچ کے فیصلے کریں اور وفاقی وزراء کی منت کروں گا کہ وہ وزیر اعظم پاکستان کو صحیح اور اصل بات بتایا کریں تاکہ وزیر اعظم کو فیصلہ کرنے میں آ سانی ہو ۔ مان لیا کہ موجودہ وفاقی کابینہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی تربیت یافتہ ہے لیکن اب وقت تبدیل ہو گیا ہے اب موجودہ وفاقی کابینہ کو چاہیئے کہ وہ پاکستان کو ترقی کی طرف گامزن کرے ناں کہ اپوزیشن پر بیانات کے تیر چلائے، کیچڑ اُچھالے یا انہیں بدنام کرنے کی کوشش کرے ، ایک دوسرے کو بدنام کرنے کا کچھ فائدہ نہیں کیوں کہ سیاسی میدان میں سب سیاسی لیڈران اور قائدین ایک جیسے ہیں ، اسی لئے تو موجودہ حکومت نے ڈاکٹر عاصم ، شرجیل میمن ، آصف زرداری ، میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف نے ملک کی لوٹی ہوئی دولت کو قومی خزانے میں واپس لانے کا کوئی پروگرام نہیں بنایا۔ ہو سکتا ہے کہ ایسا اس لئے بھی نہیں کیا جا رہا ہوکہ تفتیش ہوئی تو کئی پردہ نشینوں کا نام بھی آئے گا۔

مزید : رائے /کالم