مردان ،آسیہ مسیح کی بریت کیخلاف تیسرے روز بھی احتجاج جاری رہا

مردان ،آسیہ مسیح کی بریت کیخلاف تیسرے روز بھی احتجاج جاری رہا

مردان( بیورورپورٹ) آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف شہر میں تیسرے روز بھی جگہ جگہ مظاہرے اور احتجاجی دھرنے دیئے گئے ،شہر کی تاریخ میں سب سے بڑے احتجاجی جلوسوں نے کاروبار زندگی کو مفلوج کردیا ،بدترین ٹریفک جام نے شہریوں کی چیخیں نکال دیں،ضلع بھر کے زیادہ تر نجی تعلیمی ادارے بند رہیں جبکہ سرکاری اداروں میں معمولی کی حاضری متاثررہی تفصیلات کے مطابق مردان میں نمازجمعہ کے بعد مختلف مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے ہزاروں کارکنوں نے گھروں اورمساجد سے نکل کر بنک روڈ اور بعدازاں کالج چوک پہنچ گئے جہاں عدلیہ کے فیصلے پر شدید ردعمل کااظہار کرتے ہوئے ملعونہ کو پھانسی کی سزاد ینے کا مطالبہ کیا جلوسوں کے شرکاء جمعیت علماء پاکستان کے حاجی فیاض خان ،تحریک ختم نبوت ضلعی امیر قاری اکرام الحق ،جے یو آئی کے مولانا امانت شاہ حقانی ،جماعت اسلامی کے ضلعی امیر سلطان محمد ،پیپلز پارٹی کے اکرام اللہ شاہد،مسلم لیگ (ن) کے سلیم گل دولت زئی اورمرکزی تنظیم تاجران کے صد راحسان باچہ نے کی مظاہرین نے پلے کارڈ اوربینرز اٹھارکھے تھے جن پر آسیہ مسیح کو پھانسی کے مطالبات درج تھے کارکن شدید نعرہ بازی اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے فیصلہ واپس لینے کے مطالبات کررہے تھے کارکن امریکہ کے ساتھ ساتھ گستاخ آسیہ ملعون کو پھانسی دو اور گستاخ رسول کی ایک ہی سزا سر تن سے سر تن سے جدا کے بھی نعرے لگارہے تھے ادھر تحریک لبیک کے سینکڑوں کارکنوں نے ضلعی صدر بن یامین کی قیادت میں کالج چوک میں دھرنا تیسرے روز بھی جاری رہا اور فیصلے پر شدید تحفظات کااظہار کرتے ہوئے اسے بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے سے تعبیرکیا دھرنے میں شدید نعرہ بازی کی گئی ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر