بچوں میں ےخلیقی صلاحیت بڑھانے والی آرٹ اینڈ کرافٹ ویب سائٹس

بچوں میں ےخلیقی صلاحیت بڑھانے والی آرٹ اینڈ کرافٹ ویب سائٹس

بچوں کی نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تخلیق کی قوت پیدائشی نہیں، یہ کسی میں بھی پیدا کی جاسکتی ہے، اس بارے میں امریکا کی مشہور یونیورسٹی میری لینڈ کی ماہر نفسیات ایلس ٹیسن کہتی ہیں۔ ’’ تخلیق کے بارے میں اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ ایک مستحکم اور کسی قدر پراسرار صفت ہے جو صرف بعض خوش نصیب لوگوں کو حاصل ہوتی ہے لیکن تحقیق نے ثابت کردیا ہے کہ تخلیقی قوت کسی میں بھی پیدا کی جاسکتی ہے۔‘‘

تخلیق کے معنی ہیں نئی چیز بنانا۔ اس لحاظ سے تخلیق کار کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ نئی باتیں، نئے طریقے ، نئے راستے سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس ضمن میں آرٹ اینڈ کرافٹ کی خاص اہمیت ہے کیوں کہ بچے اس میں خاصی دل چسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تعلیم کے ساتھ آرٹ اینڈ کرافٹ کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیوں کہ یہ مختلف مضامین کی تدریس میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کے سوچنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔رنگوں کی پہچان ہوتی ہے وہ رنگوں کا بہتر استعمال کرنا سیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ چھوٹے بچوں کے عضلات کی بہتر نشوونما کے لیے بھی آرٹ اینڈ کرافٹ جیسی سرگرمی خاصی معاون ثابت ہوتی ہے۔

اسی لیے ہم چند ایسی ویب سائٹس کے متعلق بتارہے ہیں جو یقیناً ان کے لیے معاون ثابت ہوں گی۔

*www.funology.com

والدین کی راہ نمائی کے لیے یہ بہت اچھی ویب سائٹ ہے، بچوں کی بوریت کو دور کرنے، ان کو مصروف رکھنے کے بہت سے طریقے اس میں درج ہیں۔Crafts پر کلک کرتے ہی آرٹ اینڈ کرافٹ کے متعلق بے شمار طریقے سامنے آجاتے ہیں۔ مختلف مواقع کے لحاظ سے مختلف آرٹ اینڈ کرافٹ کے لنک موجود ہوتے ہیں، جن پر کلک کرتے ہی مختلف مواقع کے لیے مختلف اشیا بنانے کے طریقے بھی تفصیل سے درج ہیں۔ درکار اشیا سے لے کر بنانے کے طریقے تک مکمل طریق کار تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

اس کی مدد سے والدین بہ آسانی بچوں کی مدد کرسکتے ہیں۔ مطلوبہ شے بنانے کے لیے راہ نمائی کرسکتے ہیں۔ آرٹ اینڈ کرافٹ کے علاوہ بھی اس ویب سائٹ پر ایسی تمام معلومات موجود ہیں جو والدین کے لیے معاون و مددگار ثابت ہوں۔ مثلاً بچوں کے کھانے پکانے کی تراکیب، سائنس کے مختلف مضامین کے تجربات، مختلف کھیل، لطیفے، پہیلیاں وغیرہ وغیرہ الغرض یہ ویب سائٹ والدین کے لیے بے حد سودمند ویب سائٹ ہے۔

*www.artfulparent.com

آرٹ اینڈ کرافٹ کی مختلف سرگرمیوں کے ضمن یہ ویب سائٹ والدین کے لیے بے حد مفید ثابت ہوتی ہے، پینٹنگ، ڈرائنگ کولاج، سائنسی تجربات، بچوں کے ساتھ کھانا پکانا، واٹر کلر سے پینٹ کرنے کے مختلف طریقے، ٹشو پیپر سے مختلف اشیا بنانا، بچوں کے کھیلنے والے ڈوسے مختلف اشیا بنانا، مٹی کی اشیا بنانا غرض بے شمار طریقے اس ویب سائٹ پر موجود ہیں، جن کی مدد سے بچوں کی آرٹ اینڈ کرافٹ کے سلسلے میں راہ نمائی کی جاسکتی ہے۔

ان کو نت نئے طریقے سکھائے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس ویب سائٹ پر آرٹ اینڈ کرافٹ کی اشیا کے ضمن میں بھی خاصی معلومات درج ہیں۔ بچوں کے لیے کون سے آرٹ کے میٹریل بہترین ہیں۔ کون سا کاغذ آرٹ کے لیے منتخب کیا جائے، ننھے منے بچوں کے لیے آرٹ کی کون سی اشیا لی جائیں؟ آرٹ اینڈ کرافٹ میں کام یابی کے لیے کون سی اشیا ضروری ہیں، کون سی ایسی اشیا ہیں جن کو بچے خود گھر بیٹھے بناسکتے ہیں۔ والدین کے لیے ایک الگ سے سیکشن بھی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح بچوں کے ساتھ مل کر مختلف اشیا بنائی جاسکتی ہیں۔

اس ویب سائٹ پر آرٹ اینڈ کرافٹ کی مدد سے بنائی گئی تمام اشیا کو بے حد تفصیل سے اور تصاویر کی مدد سے مرحلہ وار بیان کیا گیا ہے اس طرح یہ ان طلبا و طالبات کے لیے بھی معاون ثابت ہوگی جو اپنے اسکول کے مختلف آرٹ پروجیکٹ بنانے کے لیے پریشان رہتے ہیں۔ غرض یہ کہ یہ ویب سائٹ آرٹ اینڈ کرافٹ کے لحاظ سے ایک بہت اچھی ویب سائٹ ہے۔

*www.education.com

بچوں کی تعلیم و تدریس اور تعلیمی میدان میں دیگر سرگرمیوں کے لحاظ سے یہ ویب سائٹ خاص مفید ہے۔ اس میں Activitiesپر کلک کرتے ہی بہت ساری سرگرمیوں کے نام سامنے آجاتے ہیں، جو مختلف تعلیمی مدارج اور مضامین کے لحاظ سے درج ہیں، جن میں آرٹ اینڈ کرافٹ پر کلک کرتے ہی بچوں کے لیے بے شمار آرٹ اینڈ کرافٹ سے بننے والی اشیا سامنے آجاتی ہیں۔ بائیں جانب مختلف جماعتوں کے طلبا کے لیے اور مختلف مضامین کے لحاظ سے عنوانات درج ہیں، جن پر کلک کرتے ہی ان سے متعلق اشیا سامنے آجاتی ہیں۔

اس کے علاوہ آرٹ اینڈ کرافٹ میں مختلف اشیا کے بھی نام درج ہیں، جن کو کھولتے ہی ان کے استعمال سے بننے والی اشیا کے طریقے سامنے آجاتے ہیں۔ مثلاً کپڑا، موتی، کاغذ، گلو، ناکارہ اشیا وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ بچوں کے امتحانات میں مدد کے لیے بھی آرٹ اینڈ کرافٹ کی مدد سے چند ایسے طریقے بیان کیے گئے ہیں جن کی مدد سے بچے دل چسپی سے سیکھ کر یاد بھی کرلیں گے۔ اس کے علاوہ اس ویب سائٹ میں بچوں کے لیے بے شمار گیمز بھی موجود ہیں۔

مختلف مضامین اور مختلف تعلیمی مدارج کے لحاظ سے بچوں کی تعلیم میں مددگار ورک شیٹس بھی موجود ہیں، جن کو ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔ مختلف سائنس کے پروجیکٹس کے متعلق بھی تفصیل سے مرحلہ وار تصاویر کے ذریعے واضح اماہا کی غلط فہمی

صائمہ مبارک لاہور

ماہا اور عنابیہ بہت اچھی دوست تھیں سکول میں سب ان کی دوستی کی مثال دیا کرتے تھے اساتذہ بھی اُنہیں دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔

ماہا کے پاس ایک بہت پیارا طوطا تھاوہ بہت باتیں کرتا تھا عنابیہ بھی اکثر اس کے پاس آجاتی اور دونوں طوطے سے خوب باتیں کرتیں۔ طوطا کچھ بیمار ہوکرمر گیا ماہا اداس ہو گئی اسے اپنے طوطے سے بہت لگاؤ تھا سب نے اسے سمجھایا مگر وہ طوطے کی جدائی میں خود ہی بیمار ہو گئی ۔

عنابیہ نے بھی اُسے بہت تسلی دی مگر وہ اپنے طوطے کی جدائی کے غم کو برداشت نہیں کر پا رہی تھی وہ اس کی خالی پنجرے کے پاس اداس بیٹھی رہتی چار دن اسی طرح گزر گئے عنابیہ نے ماہا سے کہا چلو میں تمہیں پارک لے چلتی ہوں لیکن اس نے جانے سے منع کر دیا۔

امی کے سمجھانے پر اُسے اگلے دن سکول جانا ہی پڑا مگر وہ اداس اداس ہی تھی اُسے اپنے طوطے کی پیاری پیاری باتیں یاد آرہی تھیں۔ عنابیہ نے بھی اُسے بار بار تسلی دی اب وہ کچھ بہتر محسوس کر بھی رہی تھی ۔ وہ کینٹین پر جوس لینے گئی تو وہاں اس نے اپنی پسندیدہ بیکری کا کیک کا ڈبہ دیکھا وہ پوچھنے لگی انکل یہ کس کی سالگرہ کے لیے آیا ہے۔ انہوں نے کہا بیٹا یہ خالی ہے یہ تو کل عنابیہ نے منگوایا تھاجماعت میں جو نئی لڑکی آئی ہے نا یومنہ اُس کی سالگرہ منانے کے لیے ۔ ماہا نے جب یہ بات سنی تو بہت اداس ہو گئی اسے بہت دکھ ہو کہ عنابیہ اُس کی اتنی اچھی دوست ہے اور اُس نے اس بارے میں بتایا تک نہیں۔اب وہ اسی بات کے لیے اداس تھی کہ جب وہ اپنی پریشانی میں تھی تو اُس کی دوست خوشیاں منانے میں مصروف تھی۔

وہ جوس لیے بغیر ہی واپس کلاس میں آگئی اور خاموشی سے بیٹھ گئی اُسے دکھ تھا اس کی دوست نے ایسا کیوں کیا۔جب عنابیہ کلاس میں آئی تو ماہا بہت دکھی تھی وہ اُسے پُرشکوہ نظروں سے دیکھ رہی تھی عنابیہ نے ایک نظر دیکھا اور پھر کلاس کی دوسری لڑکیوں سے باتوں میں مصروف ہو گئی پھر اگلے بہت دن سب نے ہی محسوس کیا کہ ماہا بہت خاموش اور اداس ہے سب اُس کے طوطے کے بارے میں اُس سے ہمدردی کرتے مگر کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ طوطے سے زیادہ اُسے اپنی دوست کی بے رخی کا دکھ تھا۔

ایک دن ٹیچر نے عنابیہ کو بلایا اور سمجھایا کہ آپ کی دوست ماہا توبہت زیادہ اداس ہے آپ ہی اُس کو خوش کر سکتی ہو مگر میں نے نوٹس لیا ہے کہ آپ تو خود اُس سے دور دور رہنے لگی ہو ایسا نہ ہو آپ لوگوں کی اتنی اچھی اور مخلص دوستی ختم ہو جائے ۔عنابیہ نے کہا ٹیچر وہ خود ہی بات نہیں کرتی میں کیا کر سکتی ہوں ۔ٹیچر نے کہا کہ دوست ہی تو سب سے بڑی طاقت ہوتے ہیں وہ کچھ نا بھی کریں اُن کا ساتھ رہنا مسکراہٹ بکھیرنا ہی ہمت دیتا ہے اگر آپ بات کرنا ہی چھوڑ دو گی تو ماہا تو اور زیادہ اداس ہو جائے گی۔لیکن ٹیچر بات کرنا ماہا نے ہی چھوڑی ہے۔عنابیہ نے بتایا۔آپ نے اُس سے پوچھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہی ہے آپ کو تو چاہیے تھا پہلے سے بھی زیادہ اُس کا خیال رکھتی کیونکہ جب انسان اداس ہوتا ہے تو دوستی وہ رشتہ ہوتا ہے جو اُسے پھر سے خوش کر سکتا ہے کیونکہ ایک دوست سے ہی انسان اپنے دل کی بات کرتا ہے۔عنابیہ نے کہا ٹیچر مجھے تو ان باتوں کے بارے میں کچھ پتہ ہی نہیں تھا اب مجھے احساس ہو رہا ہے کہ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے مجھے ماہا سے پوچھنا چاہیے تھا کہ وہ کیوں خاموش ہے ۔ ٹیچر نے کہا یہ کام تو آپ اب بھی کر سکتی ہیں۔آپ ابھی اُس کے پاس جائیں اور وجہ پوچھ کر آس کو تسلی دیں۔

عنابیہ نے ایسا ہی کیا وہ ماہا کے پاس گئی اور اُس نے پیار سے اُسے گلے لگاتے ہوئے پوچھا کب تک اداس رہنا ہے۔ ماہا جو عنابیہ کی بے رخی سے دلبرداشتہ تھی رونے لگی اور کہا جب تک میری پیاری دوست مجھ سے دور دور رہے گی جب تک میں اُداس رہوں گی۔عنابیہ نے کہا کہ میں شرمندہ ہوں کہ تم پریشان تھی اور میں تمہیں تسلی نا دے سکی۔جی میں تم سے اس بات پر بھی ناراض ہوں کہ تم نے میرے بغیر یومنہ کی سالگرہ منائی اور مجھے پوچھا بھی نہیں ماہا نے منہ بناتے ہوئے کہا۔او تمہیں یہ بات کس نے بتائی دراصل یومنہ اداس تھی اور اس لیے میں نے ایسا کیا اور تمہیں اس لیے نہیں بتایا کہ کہیں تم اداس نا ہو جاؤ ۔ میں اس بات کے لیے شرمندہ ہوں عنابیہ نے کہا ۔

ٹیچر بھی وہاں آگئی اور پھر انہوں نے بھی ماہا کو سمجھایا ہم بہت سے رشتوں اور دوستوں سے جڑے ہوتے ہیں اچھا دوست وہی ہوتا ہے جو اس بات کو بھی سمجھے کہ سب کے دکھ سکھ میں شامل رہنا ہے کسی کی خوشی میں شامل ہونے کا مطلب یہ تو نہیں نا کہ وہ آپ کے دکھ میں شریک نہیں۔ جی ٹیچر مجھے یاد ہے جب میں فرسٹ آئی تھی تو عنابیہ کے دادا ابو کی کچھ دن پہلے ہی وفات ہو گئی تھی مگر وہ میری خوشی میں برابر کی شریک ہوئی اور ہم نے پارٹی بھی کی تھی۔ ماہم نے بتایا۔ جی بیٹا زندگی کا دستور ایسا ہی ہے کوئی خوشی اور کبھی غم ۔ ایسی باتوں پر دوستوں سے ناراض نہیں ہوتے اور نا ہی بولنا چھوڑتے ہیں اب آپ ایک دوسرے کے گلے ملیں اور سارے شکوے دور کریں۔ دونوں گلے ملی اور تمام شکوے دور ہو گئے۔

***

نداز میں درج ہیں، جن کی مدد سے طلبا بہ آسانی سائنس کے پروجیکٹ بناسکتے ہیں۔ یہ ویب سائٹ والدین اور طلبا کے لیے بے حد سود مند ہے۔

مزید : ایڈیشن 1