آئیے مسکرائیں

آئیے مسکرائیں

(سنیلہ قدیر133 کراچی)

دو بہن بھائی آپس میں کھیل رہے تھے۔ بھائی نے بہن سے کہا ، ’’ آؤ ہم ریڈیو کا کھیل کھیلیں‘‘۔

بہن ، ’’میں ریڈیو پر کہانی سناؤں گی‘‘۔

بھائی ، ’’نہیں تم اناؤنسر بنو، میں کہانی سناؤں گا‘‘۔

بہن کچھ دیر سوچتی رہی اور کہنے لگی، ’’ٹھیک ہے میں اناؤنس منٹ کرتی ہوں، یہ ریڈیو پاکستان ہے، ہمارا آج کا پروگرام ختم ہوتا ہے۔ اجازت دیجئے ، اللہ حافظ پاکستان زندہ ‘‘۔

*133133133133133133133*

پہلا دوست دوسرے سے، ’’میں کار میں جارہا تھا کہ ڈاکوؤں نے مجھے روک لیا۔ انہوں نے مجھ سے نقدی، گھڑی ، موبائل حتیٰ کہ کار بھی چھین لی‘‘۔

دوسرا دوست،’’لیکن تمہارے پاس تو ریوالور بھی تھا!!!‘‘

پہلا دوست ، ’’ہاں یار شکر ہے، اس پر ڈاکوؤں کی نظر نہیں پڑی‘‘۔

*133133133133 *

استاد (شاگرد سے) ،’’لفظ قلم کار پر جملہ بناو‘‘۔

شاگرد ، ’’میرا قلم ، کار میں ہے‘‘۔

*133133133133*

بڑا بھائی چھوٹے بھائی سے، ’’بتاؤ نو بال کسے کہتے ہیں؟‘‘

چھوٹا بھائی، ’’گنجے کو‘‘

*133133133133*

ایک بھائی دوسرے سے، اس کہاوت کا انگریزی ترجمہ کرو ’’چور چوری سے جاتا ہے، ہیرا پھیری سے نہیں‘‘۔

دوسرا بھائی، ’’ چور گوز فرام چوری، ڈزنوٹ گو فرام ہیرا پھیری‘‘۔

*133133133133*

استاد نے بچوں سے پوچھا، ’’ کیا آپ میں سے کوئی بتا سکتا ہے کہ گائے کی کھال کا کیا فائدہ ہے؟‘‘

کلاس کی سب سے زیادہ ذہین لڑکی نے کھڑے ہوکر جواب دیا، ’’مس! یہ پوری گائے کو اکٹھا رکھتی ہے‘‘۔

مزید : ایڈیشن 1