ماہا کی غلط فہمی

ماہا کی غلط فہمی

ماہا اور عنابیہ بہت اچھی دوست تھیں سکول میں سب ان کی دوستی کی مثال دیا کرتے تھے اساتذہ بھی اُنہیں دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔

ماہا کے پاس ایک بہت پیارا طوطا تھاوہ بہت باتیں کرتا تھا عنابیہ بھی اکثر اس کے پاس آجاتی اور دونوں طوطے سے خوب باتیں کرتیں۔ طوطا کچھ بیمار ہوکرمر گیا ماہا اداس ہو گئی اسے اپنے طوطے سے بہت لگاؤ تھا سب نے اسے سمجھایا مگر وہ طوطے کی جدائی میں خود ہی بیمار ہو گئی ۔

عنابیہ نے بھی اُسے بہت تسلی دی مگر وہ اپنے طوطے کی جدائی کے غم کو برداشت نہیں کر پا رہی تھی وہ اس کی خالی پنجرے کے پاس اداس بیٹھی رہتی چار دن اسی طرح گزر گئے عنابیہ نے ماہا سے کہا چلو میں تمہیں پارک لے چلتی ہوں لیکن اس نے جانے سے منع کر دیا۔

امی کے سمجھانے پر اُسے اگلے دن سکول جانا ہی پڑا مگر وہ اداس اداس ہی تھی اُسے اپنے طوطے کی پیاری پیاری باتیں یاد آرہی تھیں۔ عنابیہ نے بھی اُسے بار بار تسلی دی اب وہ کچھ بہتر محسوس کر بھی رہی تھی ۔ وہ کینٹین پر جوس لینے گئی تو وہاں اس نے اپنی پسندیدہ بیکری کا کیک کا ڈبہ دیکھا وہ پوچھنے لگی انکل یہ کس کی سالگرہ کے لیے آیا ہے۔ انہوں نے کہا بیٹا یہ خالی ہے یہ تو کل عنابیہ نے منگوایا تھاجماعت میں جو نئی لڑکی آئی ہے نا یومنہ اُس کی سالگرہ منانے کے لیے ۔ ماہا نے جب یہ بات سنی تو بہت اداس ہو گئی اسے بہت دکھ ہو کہ عنابیہ اُس کی اتنی اچھی دوست ہے اور اُس نے اس بارے میں بتایا تک نہیں۔اب وہ اسی بات کے لیے اداس تھی کہ جب وہ اپنی پریشانی میں تھی تو اُس کی دوست خوشیاں منانے میں مصروف تھی۔

وہ جوس لیے بغیر ہی واپس کلاس میں آگئی اور خاموشی سے بیٹھ گئی اُسے دکھ تھا اس کی دوست نے ایسا کیوں کیا۔جب عنابیہ کلاس میں آئی تو ماہا بہت دکھی تھی وہ اُسے پُرشکوہ نظروں سے دیکھ رہی تھی عنابیہ نے ایک نظر دیکھا اور پھر کلاس کی دوسری لڑکیوں سے باتوں میں مصروف ہو گئی پھر اگلے بہت دن سب نے ہی محسوس کیا کہ ماہا بہت خاموش اور اداس ہے سب اُس کے طوطے کے بارے میں اُس سے ہمدردی کرتے مگر کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ طوطے سے زیادہ اُسے اپنی دوست کی بے رخی کا دکھ تھا۔

ایک دن ٹیچر نے عنابیہ کو بلایا اور سمجھایا کہ آپ کی دوست ماہا توبہت زیادہ اداس ہے آپ ہی اُس کو خوش کر سکتی ہو مگر میں نے نوٹس لیا ہے کہ آپ تو خود اُس سے دور دور رہنے لگی ہو ایسا نہ ہو آپ لوگوں کی اتنی اچھی اور مخلص دوستی ختم ہو جائے ۔عنابیہ نے کہا ٹیچر وہ خود ہی بات نہیں کرتی میں کیا کر سکتی ہوں ۔ٹیچر نے کہا کہ دوست ہی تو سب سے بڑی طاقت ہوتے ہیں وہ کچھ نا بھی کریں اُن کا ساتھ رہنا مسکراہٹ بکھیرنا ہی ہمت دیتا ہے اگر آپ بات کرنا ہی چھوڑ دو گی تو ماہا تو اور زیادہ اداس ہو جائے گی۔لیکن ٹیچر بات کرنا ماہا نے ہی چھوڑی ہے۔عنابیہ نے بتایا۔آپ نے اُس سے پوچھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہی ہے آپ کو تو چاہیے تھا پہلے سے بھی زیادہ اُس کا خیال رکھتی کیونکہ جب انسان اداس ہوتا ہے تو دوستی وہ رشتہ ہوتا ہے جو اُسے پھر سے خوش کر سکتا ہے کیونکہ ایک دوست سے ہی انسان اپنے دل کی بات کرتا ہے۔عنابیہ نے کہا ٹیچر مجھے تو ان باتوں کے بارے میں کچھ پتہ ہی نہیں تھا اب مجھے احساس ہو رہا ہے کہ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے مجھے ماہا سے پوچھنا چاہیے تھا کہ وہ کیوں خاموش ہے ۔ ٹیچر نے کہا یہ کام تو آپ اب بھی کر سکتی ہیں۔آپ ابھی اُس کے پاس جائیں اور وجہ پوچھ کر آس کو تسلی دیں۔

عنابیہ نے ایسا ہی کیا وہ ماہا کے پاس گئی اور اُس نے پیار سے اُسے گلے لگاتے ہوئے پوچھا کب تک اداس رہنا ہے۔ ماہا جو عنابیہ کی بے رخی سے دلبرداشتہ تھی رونے لگی اور کہا جب تک میری پیاری دوست مجھ سے دور دور رہے گی جب تک میں اُداس رہوں گی۔عنابیہ نے کہا کہ میں شرمندہ ہوں کہ تم پریشان تھی اور میں تمہیں تسلی نا دے سکی۔جی میں تم سے اس بات پر بھی ناراض ہوں کہ تم نے میرے بغیر یومنہ کی سالگرہ منائی اور مجھے پوچھا بھی نہیں ماہا نے منہ بناتے ہوئے کہا۔او تمہیں یہ بات کس نے بتائی دراصل یومنہ اداس تھی اور اس لیے میں نے ایسا کیا اور تمہیں اس لیے نہیں بتایا کہ کہیں تم اداس نا ہو جاؤ ۔ میں اس بات کے لیے شرمندہ ہوں عنابیہ نے کہا ۔

ٹیچر بھی وہاں آگئی اور پھر انہوں نے بھی ماہا کو سمجھایا ہم بہت سے رشتوں اور دوستوں سے جڑے ہوتے ہیں اچھا دوست وہی ہوتا ہے جو اس بات کو بھی سمجھے کہ سب کے دکھ سکھ میں شامل رہنا ہے کسی کی خوشی میں شامل ہونے کا مطلب یہ تو نہیں نا کہ وہ آپ کے دکھ میں شریک نہیں۔ جی ٹیچر مجھے یاد ہے جب میں فرسٹ آئی تھی تو عنابیہ کے دادا ابو کی کچھ دن پہلے ہی وفات ہو گئی تھی مگر وہ میری خوشی میں برابر کی شریک ہوئی اور ہم نے پارٹی بھی کی تھی۔ ماہم نے بتایا۔ جی بیٹا زندگی کا دستور ایسا ہی ہے کوئی خوشی اور کبھی غم ۔ ایسی باتوں پر دوستوں سے ناراض نہیں ہوتے اور نا ہی بولنا چھوڑتے ہیں اب آپ ایک دوسرے کے گلے ملیں اور سارے شکوے دور کریں۔ دونوں گلے ملی اور تمام شکوے دور ہو گئے۔

مزید : ایڈیشن 1