مولانا سمیع الحق کے جسم پر چاقو کے کتنے نشانات ہیں ؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

مولانا سمیع الحق کے جسم پر چاقو کے کتنے نشانات ہیں ؟ تفصیلات سامنے آ گئیں
مولانا سمیع الحق کے جسم پر چاقو کے کتنے نشانات ہیں ؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

  

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علماءاسلام (س ) کے سربراہ مولاناسمیع الحق کے قتل کامقدمہ ان کے بیٹے حامدالحق کی مدعیت میں درج کر لیا گیا جس میں کہا گیاہے کہ ان کے جسم پر مجموعی طور پر قاتل نے 12 مرتبہ چاقو سے وار کیا ۔

تفصیلات کے مطابق مقدے میں کہاگیا ہے کہ مولانا سمیع الحق کے پیٹ ، دل ، کان اور ماتھے پر چھریوں کے 12 وار کیے گئے ہیں جبکہ مقدمہ نامعلوم ملزمان کےخلاف تھانہ ایئرپورٹ میں درج کیاگیا،مقدمے کے متن کے مطابق مولاناسمیع الحق پرحملہ شام 6 بجکر 30 منٹ پرہوا،مولاناسمیع الحق کے پیٹ،دل،ماتھے،کان پرچھریوں کے 12 وار کیے گئے۔

حامد الحق کا کہنا ہے کہ مولاناسمیع الحق کاپوسٹ مارٹم نہیں کراناچاہتے۔قتل کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا گیا ہے۔ پولیس نے اپنی ابتدائی تفتیش میں کہا ہے کہ حملہ آور پہلے بھی مولانا سے ملنے آتے رہے ہیں۔ قاتل جاننے والے لگتے ہیں جس کے باعث ان کا ملازم اور گن مین پر سکون ہو کر باہر نکل گئے تھے اسی لیے مولانا حملے کے وقت گھر میں اکیلے تھے۔

واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (س) کے امیر مولانا سمیع الحق کو گزشتہ روز راولپنڈی میں قتل کردیا گیا تھا۔ صدر پاکستان اور وزیراعظم سمیت دیگر اہم سیاسی و مذہبی رہنماو¿ں نے قتل کی مذمت کی تھی۔

مزید : قومی