مولانا سمیع الحق کو کس نے قتل کیا؟ پولیس کو اہم شواہد مل گئے، بڑی پیشرفت

مولانا سمیع الحق کو کس نے قتل کیا؟ پولیس کو اہم شواہد مل گئے، بڑی پیشرفت
مولانا سمیع الحق کو کس نے قتل کیا؟ پولیس کو اہم شواہد مل گئے، بڑی پیشرفت

  

راولپنڈی (ویب ڈیسک) جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا سمیع الھق کے قتل میں اہم پیشرفت پولیس کو اہم شواہد مل گئے ہیں۔

روزنامہ خبریں کے مطابق جے یو آئی س کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے قتل کے سلسلے میں تفتیشی ٹیم کو اہم شواہد مل گئے ہیں۔ تفتیشی ٹیم نے گھر کے اردگرد تمام سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کرلی جس میں اہم پیشرف تہوئی ہے، ملزم دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوا جبکہ گھر سے بھی تفتیشی ٹیم نے اہم شواہد حاصل کرلئے ہیں۔ فرانزک ایکسپریٹ نے تمام شواہد اکٹھے کرلئے ہیں، گھر کے ملازموں سے بھی تفتیش کی گئی ہے ۔

دو ملازمین نے بتایا ہے کہ جب ہم گھر سے گئے تو دروازہ بند کرکے گئے تھے۔ 6 بجے کے قریب جب گھر پہنچے تو مولانا سمیع الحق خون میں لت پت پڑے تھے۔ انہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال میں لے کر گئے جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔ اس سلسلے میں تفتیشی ٹیم اور فرانزک ایکسپرٹ نے اہم شواہد حاصل کرلئے ہیں، تفتیشی ٹیم کے مطابق بہت جلد ملزموں کو گرفتار کرلیا جائے گا۔

اخباری ذرائع کے مطابق مولانا سمیع الحق کو افغانستان حکومت کی جانب سے خطرات لاحق تھے۔ مولانا کو تیز دھار آلہ سے قتل کیا گیا۔ قاتل قریبی لگتے تھے۔ مولانا سمیع الحق پر حملہ کرنے والے قاتل پہلے بھی ان سے ملنے آتے رہے جس کے باعث ان کا ملازم اور گن مین پرسکون ہوکر باہر نکل گئے تھے۔ مولانا سمیع الحق حملہ کے وقت گھر میں اکیلے تھے۔

حملہ آوروں نے پہلے پانی بھی پیا۔ جائے وقوعہ پر خالی گلاس موجود پائے گئے۔ حملہ آوروں نے شلوار قمیض پہن رکھی تھی جو موٹرسائیکل پر سوار ان کے گھر آئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو طے شدہ پروگرام کے مطابق قتل کیا گیا ہے ۔

مزید : علاقائی /پنجاب /راولپنڈی