”قاتل آئے تو مولانا سمیع الحق نے ملازمین کو باہر بھیج دیا“ انتہائی حیران کن دعویٰ سامنے آگیا

”قاتل آئے تو مولانا سمیع الحق نے ملازمین کو باہر بھیج دیا“ انتہائی حیران کن ...
”قاتل آئے تو مولانا سمیع الحق نے ملازمین کو باہر بھیج دیا“ انتہائی حیران کن دعویٰ سامنے آگیا

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک)83سالہ مولانا سمیع الحق کو گزشتہ روز شام سات بجے ان کے بحریہ ٹاﺅن کے پوش ایریا سفاری ولازون کی گلی نمبر10 میں واقع مکان نمبر25 میں نامعلو م افرادنے گھس کرقتل کر دیا،وہ جمعیت علائے اسلام کے اپنے دھڑے کے سربراہ اور دو بار ایوان بالا کے رکن رہ چکے ہیں۔

مولانا سمیع الحق فادر آف طالبان کے طور جانے جاتے تھے، ان کے افغان طالبان سے قریبی تعلقات تھے، ان کے قتل کے مقاصد اور طریقہ کار کے حوالے سے چاروں طرف ابہام پایا جا تا ہے،ابتداءمیں یہ اطلاع منظر عام پر آئی تھی کہ مولانا سمیع الحق پر موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کی ہے جس سے وہ شدید زخمی ہوئے ہیں ، انہیں سفاری ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے تا ہم بعد میں یہ کہا گیا کہ نامعلو م تعداد میں حملہ آور ان کے گھر میں داخل ہوئے اور انہیں قتل کر دیا، قاتل ان کے گھر میں کیسے داخل ہوئے یہ ابھی تک راز ہے۔ سفاری ہسپتال کے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ مولانا ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ چکے تھے، زخموں سے بہت زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے وہ جانبر نہیں ہو سکے تھے ،غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق عین اس وقت اس علاقے میں شدید فائرنگ کی بھی آوازیں سنائی دی گئیں ۔

روزنامہ جنگ کے مطابق راولپنڈی پولیس کے تحقیقاتی افسر کے مطابق انتہائی ابتدائی تحقیقات کے مطابق دو افرادجوماضی میں بھی مولانا سمیع الحق سے ملاقات کے لیے آتے رہے ہیں ، کل دن کو بھی انہوں نے مولانا سے ملاقات کی ، مولانا نے خود اپنے نوکر کو باہر بھیجاتا کہ وہ مہمانوں کے لیے ریفریش منٹ لا سکے، تا ہم یہ حیران کن ہے کہ دونوں ڈرائیور/ نوکر اور گن مین مولانا کو مہمانوں کے پاس اکیلاچھوڑ کرایک ساتھ باہر چلے گئے، واپسی پر انہوں نے دیکھا کہ مولانا سمیع الحق اپنے بیڈ پر پڑے ہیں ، ان کے جسم پرتیز دھار آلے کے گہرے زخم ہیں، جسم کا بالائی حصہ خون میں بھیگا ہوا ہے، خون ان کے میٹرس سے نچڑ رہا تھا ،دونوں نے فوری طور پر انہیں قریبی سفاری ہسپتال پہنچا یا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا ، بتایا گیا کہ وہ ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ چکے تھے۔

اخباری کے مطابق مولانا سمیع الحق کے گن مین اور ڈرائیور کو حراست میں لے لیاگیا ہے اور میز پر موجود عینک اور دیگر استعمال ہونےو الی اشیاءکو بھی تحویل میں لے لیا گیا تا کہ ان کا فرانزک ٹیسٹ کرا یا جا سکے جو انویسٹی گیشن میں معاون ثابت ہو گا۔ مولانا سمیع الحق کا الم ناک قتل ایک ایسے وقت میں ہو اجب آسیہ مسیح کی توہین رسالت کیس میں بریت کے فیصلے کے بعد تحریک لبیک پاکستان نے پورے ملک میں ا حتجاج شروع کر رکھا ہے، پورے ملک میں افراتفری ہےدوسری طرف پاکستان نے امریکہ کے ساتھ امن مذاکرت میں حصہ لینے کے لیے دو اہم طالبان لیڈروں کو بھی رہا کر دیا ہے۔

بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس ہائی پروفائل قتل کا مقصد ملک میں جاری افراتفری سے توجہ ہٹانا ہے دیگر کو یقین ہے کہ یہ افغان امن پراسس کے خلاف غیر ملکی سازش ہے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد