لاہوریوں کا 13 ارب روپے کا نقصان ہوگیا

لاہوریوں کا 13 ارب روپے کا نقصان ہوگیا
لاہوریوں کا 13 ارب روپے کا نقصان ہوگیا

  

لاہور(ویب ڈیسک) 1772 کلومیٹر پر محیط دنیا میں بڑی آبادی پر مشتمل شہروں میں 42ویں نمبر پر شمار لاہور قومی معیشت میں 11.5 فیصد جبکہ صوبے میں 19 فیصد معیشت کے شراکت دار کو حالیہ واقعات کی کشیدگی کی بنا پر یومیہ 360 سے 425 کروڑ نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

روزنامہ خبریں کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے مصروف ترین شاہ عالم روڈ، سوہا بازار، چوڑی بازار، اردو بازار، انارکلی بازار، لبرٹی مارکیٹ، مون مارکیٹ، رنگ محل، اعظم مارکیٹ، مال روڈ، چاہ میراں، ہال روڈ، بیڈن روڈ، میکلوڈ روڈ، کشمیری بازار، اچھرہ، حفیظ سنٹر، ایم ایم عالم روڈ، فیروز پور روڈ، کاہنہ سمیت تمام بڑی مارکیٹوں کو شہر میں پھیلی افراتفری کی وجہ سے آج پھر بند کرنا پڑا جس سے صنعت و تجارت سے وابستہ افراد تو متاثر ہوئے، لیکن قومی و صوبائی معیشت کو بھی نقصان اٹھانا پڑا۔

شہر کی تمام بڑی شاہراہیں مختلف رکاوٹوں کے باعث زیادہ تر بند رہیں جس سے شہر میں تازہ سبزی، پٹرول اور اشیاءخوردونوش کی ترسیل میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لاہور ایوان صنعت و تجارت میں آج بھی گزشتہ روز کی طرح قبل از وقت ہی تمام سرگرمیاں اختتام پذیر ہوگئیں جو کہ عموماً ساڑھے پانچ بجے تک جاری رہتی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں عام تعطیل بھی کاروباری ساخت اور معیشت کو متاثر کرسکتی ہے لیکن اگر جبراً یا مجبوراً تجارتی مراکز و تجارتی سرگرمیاں تعطیل کا شکار ہوجائیں تو اس سے ہر صورت میں ہی عام عوام کو خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔

لاہور شہر پاکستان کی قومی معیشت میں 11.5فیصد جبکہ 19 فیصد صوبائی معیشت میں شراکت دار ہے جس میں زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبے سرفہرست ہیں۔ لاہور میں یومیہ 3.36بلین سے 4.25 بلین روپے کا کاروبار ہوتا ہے جو کہ قومی معیشت میں ایک بڑا حصہ ہے۔ موجودہ حالات کی بدولت یومیہ 360 سے 425 کروڑ کا نقصان برداشت کرتے ہوئے تین دن میں 10.08 بلین سے 13.08 بلین (10.08ارب سے 13.08ارب تقریباً) بن چکا ہے جو کہ عوام کے ساتھ ایک ظلم کے برابر ہے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور