جے یو آئی (س)کے سربراہ مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

جے یو آئی (س)کے سربراہ مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی
جے یو آئی (س)کے سربراہ مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

  

نوشہرہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ نوشہرہ کے علاقے اکوڑہ خٹک کے خوشحال خان ڈگری کالج میں ادا کر دی گئی جس کے بعد انہیں دارلعلوم حقانیہ میں والد کے پہلو میں سپردخاک کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق  مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ نوشہرہ کے علاقے اکوڑہ خٹک کے خوشحال خان ڈگری کالج میں ادا کر دی گئی جس کے بعد انہیں دارلعلوم حقانیہ میں سپردخاک کر دیا گیا۔اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس کے ساتھ مدرسہ کے طلباء نے بھی سیکیورٹی فرائض سرانجام دیے۔مولانا سمیع الحق کے نماز جنازہ میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے  مرکزی رہنماؤں ،اہم شخصیات ،جید علمائے کرام سمیت ان کے ہزاروں شاگردوں ،عقیدت مندوں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ،نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی موجودگی کی وجہ سے بد نظمی بھی دیکھنے میں آئی ۔نمازہ جنازہ کے موقع پر کئی رقت آمیز مناظر بھی دیکھنے میں آئے اور علما  سمیت ہزاروں طلبا روتے رہے،نماز جنازہ کے بعد ہزاروں افراد کی موجودگی اور آہوں اور سسکیوں کے درمیان مولانا سمیع الحق کے جسد خاکی کو مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں ان کے والد شیخ الحدیث مولانا عبدالحق کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر صوبے بھر میں ایک روزہ سوگ کے اعلان کے بعد تمام سرکاری عمارتوں پرپرچم سرنگوں ہے۔مولانا سمیع الحق کی عمر 80 برس سے زائد تھی لیکن وہ پیرانہ سالی کے باوجود تعلیم و تدریس اور سیاست میں متحرک تھے۔

مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر ،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان، گورنر شاہ فرمان، ن لیگ کے راجہ ظفر الحق، اقبال ظفر جھگڑا،امیر مقام ، جماعت اسلامی کے سربراہ سینٹرسراج الحق،سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، سینیٹر مشتاق احمد خان،جماعۃ الدعوہ کے سربراہ حافظ محمدسعید ،عوامی نیشنل پارٹی کے قائم مقام صدر غلام احمد بلور ،علامہ طاہر محمود اشرفی،مولانا فضل الرحمن خلیل،حافظ حسین احمد،مخدوم جاوید ہاشمی،مولانا محمد احمد لدھیانوی،مولانا عبد الرؤف فاروقی،مولانا معاویہ اعظم سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنمابھی شریک ہوئے۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز راولپنڈی کے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں واقع  مولانا سمیع الحق کی رہائش گاہ میں گھس کر نامعلوم افراد نے چھریوں کے پے در پے وار کر کے انہیں شہید کر دیا تھا ،مولانا سمیع الحق کے اندوہناک قتل کی خبر جنگل کی آگ کی طرح چند سیکنڈز میں ہی پورے ملک میں پھیل گئی تھی ،پولیس نے مولانا سمیع الحق کے قتل کا مقدمہ راولپنڈی کے تھانہ ائرپورٹ میں ان کے بیٹے مولانا حامدالحق کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور جائے وقوعہ سے اہم شواہد بھی اکٹھے کرتے ہوئے سی سی ٹی وی کی فوٹیج بھی حاصل کر لی ہے ۔پولیس نے اپنی ابتدائی تفتیش میں کہا ہے کہ حملہ آور پہلے بھی مولانا سے ملنے آتے رہے ہیں، قاتل جاننے والے لگتے ہیں جس کے باعث ان کا ملازم اور گن مین پر سکون ہو کر باہر نکل گئے تھے اسی لیے مولانا حملے کے وقت گھر میں اکیلے تھے۔

مزید : قومی /علاقائی /خیبرپختون خواہ /نوشہرہ /اہم خبریں