”مولانا سمیع الحق کی سانس چل رہی تھی اور انہیں زخمی حالت میں ۔۔۔“قتل کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سا منے آگئی

”مولانا سمیع الحق کی سانس چل رہی تھی اور انہیں زخمی حالت میں ۔۔۔“قتل کی ...
”مولانا سمیع الحق کی سانس چل رہی تھی اور انہیں زخمی حالت میں ۔۔۔“قتل کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سا منے آگئی

  

راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن )جمعیت علما اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے قتل کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے اور تحقیقاتی اداروں کو ابتدائی تفتیش کے دوران پتہ چلا ہے کہ مبینہ قاتلوں کا مولانا سمیع الحق کے گھر آنا جانا تھا جن کے آتے ہی جمعیت علما اسلام س کے سربراہ نے اپنے ذاتی ملازموں کو بازار سے چیزیں لانے کے لیے بھیج دیا تھا۔

مولانا سمیع الحق کے قتل کے بعدزیر حراست لیے گئے ان کے دو ملازمین کے ابتدائی بیان کی تفصیلات سامنے گئیں ، جس میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ قتل کے وقت مولانا کے کمرے میں 2افراد موجود تھے۔ذرائع کے مطابق ملازمین نے بیان میں بتایا کہ مولانا سے ملنے کےلئے آنے والے دونوں افرادان کے جاننے والے تھے ،وہ اس سے قبل بھی ان کے پاس آتے جاتے تھے۔

ملازمین نے بیان میں کہا کہ دونوں افراد نے مولانا صاحب سے درخواست کی کہ آپ سے اکیلے میں بات کرنی ہے ،مولانا صاحب نے ہمیں بازار سے کھانے پینے کی اشیالانے کےلئے بھیج دیا ،15 منٹ بعد واپس آئے تو مولانا خون میں لت پت تھے اور وہ دونوں افراد موقع پر موجود نہیں تھے۔ابتدائی بیان میں کہا گیا کہ مولانا کی سانس چل رہی تھی انہیں زخمی حالت میں نجی ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبرد نہ ہوسکے۔

دوسری طرف مولانا سمیع الحق کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں جیو فینسنگ کا فیصلہ سامنے آیا ہے ،مقتول کے موبائل فون ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔فارنزک ماہرین اور تفتیشی افسران نے راولپنڈی میں مولانا کے گھر سے شواہد اکٹھے کرلئے ہیں ،ان کے زیر استعمال اور کمرے کی چیزوں پر موجود فنگر پرنٹس لئے گئے ہیں۔تحقیقاتی اداروں نے نجی ہاﺅسنگ سوسائٹی کے ریکارڈ روم سے سی سی ٹی وی ویڈیو بھی لے لی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے قتل کا مقدمہ ان کے بیٹے حامد الحق کی مدعیت میں تھانہ ایئرپورٹ میں دفعہ 302 کے تحت درج کرلیا گیا۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق مولانا سمیع الحق پر حملہ شام ساڑھے 6 بجے ہوا اور ان کے پیٹ، دل، ماتھے اور کان پر چھریوں کے 12 وار کیے گئے۔فارنزک ماہرین اور پولیس کے تفتیشی افسران نے راولپنڈی میں مولانا سمیع الحق کے گھر سے شواہد اکٹھے کرلیے ہیں۔تفتیشی افسران نےمولانا سمیع الحق کا فون، چشمہ اور دیگر چیزیں بھی قبضے میں لے کر فنگر پرنٹس حاصل کرلیے ہیں جبکہ تفتیش کے لیے ہاو¿سنگ سوسائٹی کے سی سی ٹی وی کیمروں سے مدد لی جارہی ہے۔

پولیس نے فارنزک جائزے کے لیے مولانا سمیع الحق کے موبائل فون کا ڈیٹا بھی حاصل کرلیا ہے۔پولیس حکام کو مولانا کے قتل میں ایک سے زیادہ افراد کے ملوث ہونے کا شبہ ہے اور پوچھ گچھ کے لیے مولانا کے دو ملازمین کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

مزید : قومی