وہ خفیہ مقامات جنہوں نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو دوسری جنگ عظیم میں فتح دلادی

وہ خفیہ مقامات جنہوں نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو دوسری جنگ عظیم میں فتح ...
وہ خفیہ مقامات جنہوں نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو دوسری جنگ عظیم میں فتح دلادی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) خفیہ فوجی مقامات جنگ کی صورت میں انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ جنگ عظیم دوئم میں بھی کچھ ایسے خفیہ مقامات ہی تھے جنہوں نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فتح کو یقینی بنایا۔ ان میں سے کئی مقامات برطانیہ میں موجود تھے جن کی تفصیل اب ایک تاریخ دان نے اپنی نئی کتاب میں بتا دی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق کولن فلپوٹ نامی اس مورخ نے اپنی کتاب میں 150ایسے مقامات کا ذکر کیا ہے جو دوسری جنگ عظیم میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جیت کا ذریعہ بنے۔ ان میں لندن میں واقع چرچل کا خفیہ وار روم، بکھنگم شائر کے علاقے میں واقع بلیچلے پارک، سکاٹ لینڈ کا دور افتادہ جزیرہ گرینارڈ اور دیگر شامل ہیں۔

کولن فلپوٹ نے اپنی کتاب ’سیکرٹ وارٹائم بریٹن‘ میں بتایا ہے کہ گرینارڈ نامی اس جزیرے پر کئی طرح کے کیمیائی ہتھیاروں کے تجربات کیے گئے تھے۔ انتھراکس کاایک بھیڑوں پر تجربہ بھی اسی جزیرے پر کیا گیا تھا۔سائنسدانوں نے انتھراکس کے بیکٹیریا ایک بم میں داخل کیے اور بھیڑوں کے ایک ریوڑ کے قریب اس بم کو چلا دیا۔ جس سے تمام بھیڑیں آہستہ آہستہ موت کے گھاٹ اتر گئیں۔ ان تجربات کے کیمیائی اثرات کے باعث اس جزیرے کو انسانوں کے لیے بند کر دیا گیا تھا تاہم جب 20ویں صدی کے آخر میں جزیرے سے وہ اثرات ختم ہو گئے تو اسے دوبارہ لوگوں کے لیے کھول دیا گیا۔اس کے علاوہ والش کوائریز اور انگلش کنٹری ہاﺅسز بھی جنگ کی منصوبہ بندی اور نئے بھرتی ہونے والے فوجیوں کی خفیہ تربیت گاہوں کے طور پر استعمال کیے گئے تھے۔

کتاب کے مندرجات کے مطابق لندن میں درجنوں بنکرز اور زیرزمین شیلٹرز بنائے گئے تھے اور ریلوے سٹیشنوں کو بھی شیلٹرز کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ ایک بنکر شمالی لندن کے علاقے ڈولیس ہل کے پوسٹ آفس کی عمارت کے نیچے 40فٹ گہرائی میں بنایا گیا، جس کا نام ’دی پیڈوک‘ تھا۔ یہ بنکر بم پروف تھا اور متبادل وارروم کے طور پر بنایا گیا تھا، جس میں وار کیبنٹ اور 200سٹاف کی جگہ تھی۔یہ بنکر آج بھی اپنی جگہ پر موجود ہے اور اس میں لگائے گئے جنریٹرز اور بوائلرز بھی وہیں پڑے ہیں۔برطانوی علاقے ورسیسٹرشائر میں واقع میڈریس فیلڈ کورٹ کو شاہی خاندان کے لیے محفوظ ٹھکانے کے طور پر منتخب کیا گیا تھا کہ جنگ ہارنے اور برطانیہ پر جرمنی کے قبضے کی صورت میں شاہی خاندان کو یہاں منتقل کرکے ان کی حفاظت کی جا سکے کیونکہ یہ جگہ الگ تھگ مضافاتی علاقے کے جنگل میں واقع تھی اور سمندر سے اتنے فاصلے پر تھی کہ اس کا دفاع بخوبی کیا جا سکتا تھا۔اسی علاقے میں کچھ دیگر عمارت وزیراعظم چرچل اور دیگر حکومتی عمال کی رہائش گاہوں کے طور پر بھی منتخب کی گئی تھیں۔ تاہم ان کے استعمال کی ضرورت نہیں پڑی۔

مزید : بین الاقوامی