امریکہ نے ایران پر پھر سے سخت ترین پابندیاں لگادیں، نیا خطرہ پیدا ہوگیا

امریکہ نے ایران پر پھر سے سخت ترین پابندیاں لگادیں، نیا خطرہ پیدا ہوگیا
امریکہ نے ایران پر پھر سے سخت ترین پابندیاں لگادیں، نیا خطرہ پیدا ہوگیا

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق امریکی صدر باراک اوباما نے عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر سالہا سال کی جدوجہد کے بعد ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا تھا جسے صدر ٹرمپ نے آتے ہی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا اور ایران پر ایک بار پھر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اب اس فیصلے پر پیر کے روز سے عملدرآمد شروع ہونے جا رہا ہے، جس سے دنیا میں کشیدگی کی نئی لہر دوڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق امریکی طرف سے پیر کے روز سے ایران پر تمام تر پابندیاں، جو باراک اوباما کے دور میں اٹھائی گئی تھیں، واپس لاگو ہو جائیں گی۔ ایران کے شپنگ، فنانشل اور انرجی سیکٹرز ان پابندیوں کی زد میںآئیں گے۔ صدر ٹرمپ کے اعلان کے مطابق ان پابندیوں کے دوبارہ اطلاق کے بعد جو ملک ایران کے ساتھ کسی طرح کا لین دین کرے گا اس پر بھی پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔

صدرٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ”ایران پر پابندیاں 5نومبر سے دوبارہ لاگو ہو جائیں گی۔ “ ڈونلڈٹرمپ کے صدر بننے کے بعد ایک بار پہلے بھی امریکہ ایران پر پابندیاں عائد کر چکا ہے، جن میں یہ حالیہ اضافہ ہو گا۔ اس حوالے سے امریکہ کے وزیرخارجہ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ”ان پابندیوں کا بنیادی مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کا رویہ تبدیل کرنا ہے۔ “ مائیک پومپیو کی طرف سے 12مطالبات کی ایک فہرست جاری کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر ایران ان پابندیوں کا خاتمہ چاہتا ہے تو اسے یہ 12مطالبات پورے کرنے ہوں گے۔ ان مطالبات میں دہشت گردی کی حمایت کا خاتمہ، شام میں فوجی مداخلت کا خاتمہ اور مکمل طور پر ایٹم بم اور بیلسٹک میزائل کے پروگرامز کا خاتمہ و دیگر شامل ہیں۔مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ان پابندیوں کے ذریعے ہم ایران پر حتی الامکان دباﺅ ڈالنا چاہتے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی