گوگل میپس میں امریکہ کے خفیہ فوجی اڈے میں کس چیز کو کس طرح دھندلا کر کے دکھایا جاتا ہے؟ بالآخر حقیقت سامنے آگئی

گوگل میپس میں امریکہ کے خفیہ فوجی اڈے میں کس چیز کو کس طرح دھندلا کر کے دکھایا ...
گوگل میپس میں امریکہ کے خفیہ فوجی اڈے میں کس چیز کو کس طرح دھندلا کر کے دکھایا جاتا ہے؟ بالآخر حقیقت سامنے آگئی

  

واشنگٹن(نیوز ڈیسک) دنیا کا وہ کون سا کونہ ہے جو گوگل میپس پر نہیںدیکھا جا سکتا، مگر گزشتہ ہفتے اس تہلکہ خیز انکشاف نے ہر کسی کو حیران کر دیا کہ امریکی ریاست نیواڈا کے جنوب مغرب میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے کی تصاویر گوگل میپس نے کبھی بھی اصلی حالت میں نہیں دکھائیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ایک مشکوک فوجی اڈہ ہے جس کی اصلیت کے بارے میں بے حد رازداری برتی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں اس خبر پر ہنگامہ برپا ہونے کے بعد بالآخر گوگل میپس نے ریاست نیواڈا کے جنوب مغرب میں واقع اس علاقے کی تصاویر جاری کر دیں ہیں، مگر کچھ چیزیں پھر بھی دنیا سے خفیہ ہی رکھی گئی ہیں۔

یہ تصاویر سامنے آنے کے بعد پہلی بار پتہ چلاہے کہ اس علاقے میں کیا کچھ واقع ہے۔ صحرا کی ریت پر میلوں تک پھیلے رن وے اور وسیع و عریض رقبے پر پھیلے فوجی بنکرز دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایک تصویر میں جہازوں کو کھڑا کرنے کیلئے بنائے گئے ہینگرکے باہر کوئی پر اسرا ر چیز دکھائی دیتی ہے جو جسامت میں حیران کن حد تک بڑی ہے، لیکن اسے جان بوجھ کر دھندلا دیا گیا تاکہ واضح طور پر کوئی اس کی حقیقت کو سمجھ نہ سکے۔

سوشل میڈیا پر اب یہ تاثر مضبوطی پکڑ رہا ہے کہ یہ کوئی انتہائی جدید اور پراسرا قسم کا طیارہ ہے جس کے بارے میں امریکہ نے تاحال دنیا کو کچھ نہیں بتایا۔ اس کے اردگرد دیگر فوجی گاڑیاں اور طیارے بھی موجود ہیں لیکن ان کی تصاویر کو دھندلایا نہیں گیا ہے، جس سے شک و شبہات مزید تقویت پکڑ رہے ہیں۔

اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا ” امریکی حکومت کو چاہیے کہ لوگوں کو اس جگہ تک جانے کی اجازت دیں تاکہ افواہوں کا خاتمہ ہو“ ۔

ایک اور کا کہنا تھا کہ ” گوگل ارتھ کیوں اس جگہ کی تصاویر اپنے نقشوں میں جاری نہیں کر رہا تھا ؟ کیا اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ امریکی فوج دنیا کی نظروں سے کچھ چھپانا چاہ رہی ہے۔“

ایک اور انٹرنیٹ صارف نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ” یہ امریکہ کا ایک خفیہ فوجی اڈہ ہے اور یہاں جدید ترین مگر پراسرار ٹیکنالوجی کے حامل طیارے اور ہتھیار موجود ہیں۔ میرا خیال ہے کہ امریکہ کبھی بھی اصل حقائق دنیا کے سامنے نہیں آنے دے گا۔“

مزید : بین الاقوامی