دھرنے کا اختتام اور اس کے اثرات

دھرنے کا اختتام اور اس کے اثرات
دھرنے کا اختتام اور اس کے اثرات

  

آسیہ مسیح کیس کے ضمن میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف دیا جانے والا دھرنا اختتام پذیر ہو گیا مگر اپنے پیچھے کئی سوال چھوڑ گیاہے۔ مظاہرین جو دھرنے کے آغاز کے وقت اعلٰی ججز کے استعفے اور آسیہ کی پھانسی کے علاوہ کسی صورت میں دھرنا ختم کرنے کے لئے تیار نہیں تھے، نظر ثانی اپیل، ای سی ایل میں نام ڈالنے اور گرفتار اراکین کی رہائی پر دھرنا ختم کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ 

واقعہ تو معروف ہے مگر موجودہ حالات کے پیشِ نظر نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ ایک مرتبہ خلیفہ وقت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی زرہ گم ہوگئی۔ آپؓ کو ایک یہودی پر شک تھا۔ آپؓ اپنا مقدمہ لے کر قاضی کے پاس گئے۔ قاضی نے یہودی کو بلایا اور حضرت علیؓ کو گواہ پیش کرنے کی درخواست کی۔ حضرت علیؓ نہ تو گواہ پیش کر سکے اور نہ ہی اپنا دعویٰ ثابت کرسکے، لہٰذا قاضی نے یہودی کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ اب دعویٰ حضرت علیؓ کا درست تھا، سچے بھی وہی تھے، عدالت بھی اسلامی تھی، جج بھی صحابی تھے مگر فیصلہ یہودی کے حق میں آیا۔ اس لئے کسی بھی فیصلے کے حق کے منافی آ جانے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ عدالت یا جج غلط ہے، یا پھر وہ مسلمان نہیں کیوں کہ عدالت یا جج کا کام تو دستیاب ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ 

آسیہ مسیح کو پہلے ماتحت عدالت نے موت کی سزا سنائی پھر وہ فیصلہ کالعدم قرار پایا۔ اس کی بہت سی وجوہات تھیں۔ ایک وجہ یہ تھی کہ سیشن کورٹ نے یک طرفہ فیصلہ کیا کیوں کہ کوئی وکیل آسیہ کی طرف سے پیش نہیں ہوا اور تمام وکلاء سلمان تاثیر کے قتل سے خوف زدہ تھے۔ بعد میں ہائیکورٹ نے بھی اسی سزا کو برقرار رکھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ سیشن کورٹ اور ہائیکورٹ کے پاس دو چیزیں تھیں، ایک آسیہ کا ایک اجتماع میں اقرار اور دوسری اس کا بیانِ حلفی جس میں اس نے واضح الفاظ میں انکار کیا۔ نچلی عدالتوں نے اجتماع کے اقرار کو بنیاد بنا کر سزائے موت سنائی جبکہ سپریم کورٹ نے اس کے بیانِ حلفی کو بنیاد بنا کر اسے بری کیا۔ تیسری وجہ گواہوں کے بیانات میں حد درجہ تضاد بھی بنی کیونکہ جب مقدمے کی سماعت ہورہی تھی اس وقت علمائے کرام نے اس کیس پر اتنی توجہ نہیں دی جتنی فیصلہ آجانے کے بعد دی جس کی وجہ سے کیس کمزور ہو گیا۔

حکومت اور سپریم کورٹ کی طرف سے بھی کچھ ایسی غلطیاں سرزد ہوئیں جن سے عوام کے جذبات مجروح ہوئے، مثال کے طور پر عدالتِ عظمیٰ عام طور پر تمام کیسز کے فیصلے تاخیر سے کرتی ہے جبکہ اس کیس کا فیصلہ بہت جلد کر دیا گیا اور پھر اسے اس دن سنایا گیا جو غازی علم الدین شہید کا دن تھا۔ پھر وزیرِاعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں مظاہرین کی کمزوریاں گنوانا شروع کر دیں اور ریاست کی بالادستی کی بات کی جبکہ عوام عمران خان کو کچھ عرصہ پہلے شہر بند کراتے اور سول نافرمانی کی تحریک چلاتے دیکھ چکی تھی۔ مذاکرات کا فیصلہ بہت تاخیر سے کیا گیا کہ جب بہت سا نقصان ہو چکا تھا۔

اس حوالے سے مظاہرین کا رویہ بھی قابلِ مذمت ہے۔ ایک انتہائی جذباتی اجتماع میں سپریم کورٹ کے اعلٰی ججز کو نہ صرف واجب القتل قرار دینا بلکہ انہیں قتل کرنے کے طریقے بتانا اور پاک فوج کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنا انتہائی نا مناسب بات ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ علماء کی ایک کمیٹی بنائی جاتی جو سپریم کورٹ کے فیصلے کا مدلل علمی جواب تیار کرتی اور پھر اسی کی بنیاد پر نظر ثانی اپیل دائر کی جاتی اور اس وقت تک احتجاج موخر کر دیا جاتا جب تک اس نظر ثانی اپیل کا فیصلہ نہ آ جاتا۔ فیصلہ آنے سے پہلے ہی احتجاج شروع کر کے اور پر تشدد رویہ اپنا کر ہم نے نہ صرف اپنی املاک کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ اسلام کے پر امن چہرے کو بھی داغدار کر دیا ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ