”یہ ٹوئٹ میں نے نہیں کیا ،گیسٹ ہاوس کے ڈرائینگ روم میں فون رہ گیا تھا ،کسی نے شرارت کی “

”یہ ٹوئٹ میں نے نہیں کیا ،گیسٹ ہاوس کے ڈرائینگ روم میں فون رہ گیا تھا ،کسی نے ...
”یہ ٹوئٹ میں نے نہیں کیا ،گیسٹ ہاوس کے ڈرائینگ روم میں فون رہ گیا تھا ،کسی نے شرارت کی “

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )پولیس افسر کو دھمکیاں دے کر شدید تنقید کا نشانہ بننے والے سینئر صحافی ہارون الرشید ایک اور غلطی کر بیٹھے ، ہارون الرشید کے ٹوئٹر اکاونٹ سے نعیم الحق کے خلاف ٹوئٹ ہو گیا تاہم اس ٹویٹ کے وائرل ہونے کے بعد سینئر تجزیہ کار نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے کی گئی ٹویٹ کے حوالے سے ایسی وضاحت پیش کر دی کہ ہر کوئی حیران رہ جائے گا ۔

تفصیل کے مطابق مائیکروبلا گنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ہارون الرشید نے بتا یا کہ نعیم الحق والا ٹویٹ میں نے نہیں کیا،گیسٹ ہاوس کے ڈرائنگ روم میں فون رہ گیا تھا،کسی نے شرارت کی، نعیم الحق کو میں نے کبھی کرپٹ نہیں کہا،نعیم الحق سے مودبانہ معذرت۔تاہم ہارون الرشید نے اپنی وضاحتی ٹویٹ میں یہ واضح نہیں کیا کہ کس کے گیسٹ ہاؤس میں فون رہ گیا تھا اور ان کی عدم موجودگی میں کس نے ان کے فون کا غلط استعمال کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما نعیم الحق کے خلاف ٹویٹ کی ۔ 

واضح رہے کہ اس سے قبل ہارون الرشید  کے ٹوئٹر اکاونٹ سے ایک ٹوئٹ سامنے آیا تھا جس میں حکمران جماعت کے رہنما نعیم الحق پر کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے تھے ۔یاد رہے کہ اس سے قبل ہارون رشید اس وقت ہدف تنقید بنے تھے جب ان کی ایک کال ریکارڈ سوشل میڈ یا پر وائرل ہو گئی تھی جس میں وہ  بہاولپور کے ایک پولیس سب انسپکٹر کو دھمکا رہے تھے تاہم اس حوالے سے ہارون الرشید نے کہا تھا کہ مجھے اس لہجے میں بات کرنے پر افسوس ہے ،ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس