تھر پارکر میں غذائی قلت اور وبائی امراض نے ڈیرے ڈال لئے ،مزید 4 بچے جاں بحق

تھر پارکر میں غذائی قلت اور وبائی امراض نے ڈیرے ڈال لئے ،مزید 4 بچے جاں بحق
تھر پارکر میں غذائی قلت اور وبائی امراض نے ڈیرے ڈال لئے ،مزید 4 بچے جاں بحق

  

 کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سندھ کے قحط زدہ علاقے تھر کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز مٹھی  میں غذائی قلت اور وبائی امراض کے شکار بچوں کو موت نے گھیرلیا،غذائی قلت اور وبائی امراض کے باعث  مزید چار بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔

نجی ٹی وی کے مطابق مٹھی میں غذائی قلت اور وبائی امراض کے باعث  مزید چار بچے جاں بحق ہو گئے ہیں جس کے بعد تین دنوں میں اب تک خوراک کی کمی اور صحت کی عدم سہولیات کی وجہ سے  جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد سات ہوگئی ہے۔ آج جاں بحق  ہونے والے بچوں میں   غلام اور امتیاز کے دو نومولود، تین روز کی کویتا دخترنول اور مگھو کا پانچ روز کا بچہ شامل ہیں۔واضح رہے کہ سول ہسپتال میں اس وقت 70 سے زائد بچے زیرعلاج ہیں اور  بچوں کے لیے بیڈ بھی کم پڑ گئے ہیں،ایک بیڈ پر تین، تین  بچوں کو رکھا گیا ہے۔ہسپتال ذرائع کے مطابق رواں سال بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد 522 ہو گئی ہے۔

مٹھی کے ہسپتال میں سہولیات کی عدم دستیابی،انتظامیہ کی بے حسی اور ہسپتالوں میں ہونے والی بدانتظامی کے باعث عملہ اور مریض بچوں کے ساتھ آنے والی خواتین اور لواحقین شدید پریشانی اور ذہنی ازیت کا شکار ہیں۔دوسری طرف تھرپارکرمیں سندھ حکومت کی جانب سے حاملہ اور دودھ  پلانے والی ماؤں کے لیے راشن کی تقسیم بھی دکھاوے کے طور پر جاری ہے،راشن کی تقسیم کے لیے سندھ حکومت نے فی کس خاتون کو 4500 روپے کا راشن دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ اس وقت دو ہزار کا راشن دیا جا رہا ہے جس میں بھی سینکڑوں خواتین کے نام درج نہیں ہیںتاہم ممتاز فلاحی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن سمیت دیگر  غیر سرکاری تنظیمیں اپنے طور پر قحط زدہ علاقوں میں خدمات سر انجام دے رہی ہیں اور راشن کے ساتھ ساتھ ادویات بھی فری تقسیم کی جا رہی ہیں لیکن قحط اور افلاس نے جس بری طرح تھر کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے وہاں کے مقیموں کو اس مشکل سے نکالنے کے لئے منظم انداز میں مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید : علاقائی /سندھ /تھرپارکر