مولانا سمیع الحق کی اذیت ناک موت ایک انتقامی کارروائی،افغان امن مذاکرات میں وہ کوئی بڑا کردار ادا نہیں کر سکے:رحیم اللہ یوسف زئی

مولانا سمیع الحق کی اذیت ناک موت ایک انتقامی کارروائی،افغان امن مذاکرات میں ...
مولانا سمیع الحق کی اذیت ناک موت ایک انتقامی کارروائی،افغان امن مذاکرات میں وہ کوئی بڑا کردار ادا نہیں کر سکے:رحیم اللہ یوسف زئی

  

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)افغان امور کے ماہر اور سینئیر تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ مولانا سمیع الحق کی اذیت ناک موت ایک انتقامی کارروائی ہے،ان کی مذہبی حیثیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن سیاسی طور پر ان  کی کوئی حیثیت نہیں تھی ،اگر وہ سیاسی طور پر اہم ہوتے اور ان کا کوئی بڑا سیاسی کردار ہوتا تو ان کے مخالفین کو ضرور فائدہ ہوتا اور حامیوں کو نقصان اٹھانا پڑتا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ مولانا سمیع الحق نے ہمیشہ اسلامی اور جہادی تنظیموں کا ساتھ  دیا  لیکن افغان امن عمل کے لیے ہونے والے مذاکرات میں مولانا سمیع الحق کوئی بڑا کردار ادا نہیں کر سکے’’فادر آف طالبان‘‘  صرف مولانا سمیع الحق ہی نہیں بلکہ مولانا فضل الرحمان سمیت کئی مذہبی رہنماؤں کو کہا گیا ہےمگرحقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان اس بات کو ماننے کو تیار نہیں اور ان کا بیانیہ مختلف ہےاور وہ کہتے ہیں کہ افغانستان میں طالبان تحریک شروع کرنے کا سہرا دراصل ملا محمد عمر کے سر ہے، جنہوں نے افغانستان کے صوبہٴ قندھار میں اس کا آغاز کیا تھا، افغان طالبان کا مولانا سمیع الحق سے استاد اور شاگرد  کا رشتہ ضرور ہو سکتا ہےمگر طالبان اس بات کے پابند نہیں ہیں کہ ان کی بات مانیں۔رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت کے بارے میں اس وقت یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ حکومت جو فیصلے کر رہی ہے ان میں سوچ بچار کم ہے اور حکومتی نمائندے حالات کو جلد سلجھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور وہ خود اپنے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں،  حکومت کو یہ تاثر دور کرنا ہوگا اور یہ تب ہی ممکن ہوگا اگر حکومت کو دیگر سیاسی جماعتوں کا تعاون حاصل ہو۔

مزید : قومی