فرانسیسی سکولوں میں عربی پڑھائی جائے گی،لسان لینگوئج سینٹرکا قیام 

فرانسیسی سکولوں میں عربی پڑھائی جائے گی،لسان لینگوئج سینٹرکا قیام 
فرانسیسی سکولوں میں عربی پڑھائی جائے گی،لسان لینگوئج سینٹرکا قیام 

  

پیرس(این این آئی)فرانسیسی دارالحکومت پیرس کے نواح میں واقع لسان لینگوئج سینٹر میں بچے خاموشی مگر انہماک کے ساتھ عربی زبان کا سبق لے رہے ہیں۔ یہاں آنے والے بچوں کی عمریں 7 تا10 برس ہوتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانسیسی دارالحکومت پیرس کے کریملن بیسیتر نامی علاقے میں زیادہ تر آبادی تارکین وطن پس منظر افراد کی ہے، ان میں سے زیادہ تر کا تعلق شمالی افریقی ممالک سے ہے، جن کی مادری زبان عربی ہے۔لسان نامی لینگوئج سینٹر کا بنیادی مقصد عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کے بچوں کو عربی زبان کی بنیادی تعلیم فراہم کرنا ہے۔ اس مرکز سے تعلیم حاصل کرنے والے بچے قرآن پڑھنے کے علاوہ عرب ممالک میں مقیم اپنے رشتہ داروں سے معمول کی گفتگو کا فن سیکھ لیتے ہیں۔لسان لینگوئج سینٹر میں بچے ویک اینڈز، چھٹیوں کے دوران یا پھر شام کے وقت جاتے ہیں کیونکہ معمول کے اوقات میں انہیں سکولوں میں جانا ہوتا ہے۔ اس لینگوئج سینٹر میں خواتین ٹیچرز ہیڈ سکارف لیتی ہیں، جو دراصل فرانس کے سرکاری سکولوں میں ممنوع ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق فرانسیسی سکولوں میں کسی بھی استاد کو کسی بھی مذہب کی علامت کی نمائش کی اجازت نہیں ہے۔لسان کے شریک بانی عبدالغنی سیباتا نے بتایا کہ اس لینگویج سینٹر میں مذہبی تعلیم پر توجہ مرکوز نہیں کی جاتی اور قرآن کی کچھ آیات کا ہی درس دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ مذہبی معاملات ہم نے بچوں کے والدین پر چھوڑ رکھے ہیں۔ تاہم یورپ کی مساجد میں جہاں جہاں عربی کی تعلیم دی جاتی ہے، وہاں زیادہ تر توجہ اسلامی تعلیمات پر ہی دی جاتی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی