وزیراعظم کو الٹی میٹم

وزیراعظم کو الٹی میٹم

  



مولانا فضل الرحمن نے ”آزادی مارچ“ کے اسلام آباد پہنچنے پر ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ دو دن کے اندر استعفیٰ دے دیں، بصورتِ دیگر وہ اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔جلسے سے مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نے بھی پُرجوش خطاب کیا،عمران خان اور ان کی حکومت کے گِن گِن کر لتّے لیے۔ بلاول بھٹو زرداری بھی رحیم یار خان میں اپنے جلسے کو منسوخ کر کے دوبارہ اجتماع گاہ میں پہنچے، اور ایک بار پھر پُرزور تقریر کی۔ آزادی مارچ کی نگرانی کے لیے قائم کی جانے والی نو جماعتی رہبر کمیٹی کا اجلاس رات گئے مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا،لیکن کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گیا۔ مولانا نے اجلاس کے بعد رات گئے بتایا کہ رہبر کمیٹی ایک روز بعد آئندہ کے اقدام کا اعلان کرے گی۔مولانا فضل الرحمن کی تقریر کے دوران شرکا کی طرف سے ”ڈی چوک“ کی طرف بڑھنے کے نعرے لگتے رہے،لیکن مولانا نے ان کی بات سن لینے کا اعلان تو کیا،اسے مان لینے کی بات نہیں کی۔ پُراعتماد لہجے میں ان کا اظہار تھا کہ وہ اپنی بات حکومت کو بھی پہنچا رہے ہیں اور اداروں کو بھی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کا یہ سمندر وزیراعظم کو گھر سے گرفتار کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ مزید صبر کا مظاہرہ نہیں کر سکتے۔عوام کا فیصلہ آ چکا ہے، پاکستانی گورباچوف ناکامی کا اعتراف کر کے حکومت سے دستبردار ہو جائے۔

مولانا کے خطاب کے کچھ دیر بعد اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ فوج غیر جانبدار ہے۔مولانا ایک سینئر سیاست دان ہیں، واضح کریں کہ وہ کس ادارے کی بات کر رہے ہیں۔ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ہم کسی پارٹی کی نہیں،جمہوری طورپر منتخب حکومت کی حمایت کر رہے ہیں۔فوج نے الیکشن کے دوران اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کیں۔اپوزیشن کی جانب سے سڑکوں پر آ کر الزام تراشی درست نہیں، جس کو کوئی مسئلہ ہو وہ متعلقہ اداروں سے رجوع کرے۔ ملکی استحکام کو نقصان پہنچانے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔کوئی بھی انتشار ملکی مفاد میں نہیں۔ہم نے جان و مال کی قربانیاں دے کر ملک میں امن قائم کیا ہے۔مولانا فضل الرحمن نے میجر جنرل آصف غفور کے اظہارِ خیال پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بات سے وہ ادارہ خود ہی سامنے آ گیا ہے، جس کا ذکرکیا جا رہا تھا۔اُن کا کہنا تھا کہ ہم تصادم نہیں چاہتے، کسی ادارے سے ماضی میں کوئی غلطی بھی سرزد ہوئی ہے تو اسے نظر انداز کر کے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

اسلام آباد میں جہاں مولانا فضل الرحمن اور ان کے رفقا گرج برس رہے تھے،وہاں گلگت میں وزیراعظم عمران خان بھی ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اپنے دِل کا غبار نکال رہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ سیاسی یتیم اور بیروزگار ان کے خلاف اکٹھے ہو گئے ہیں۔یہ جتنے دن چاہے بیٹھے رہیں، استعفیٰ نہیں ملے گا۔وزیراعظم نے تند و تیز لہجے میں مولانا فضل الرحمن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کا اسلام ڈیزل کے پرمٹ اور کشمیر کمیٹی پر بک جاتا ہے۔ان کے ہوتے ہوئے کسی یہودی سازش کی کیا ضرورت ہے۔ان کا الزام تھا کہ مولانا کے مارچ کی انڈین میڈیا میں جس طرح کوریج ہو رہی ہے،اس سے یوں لگتا ہے کہ مولانا بھارتی شہری ہیں۔(دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کے 2014ء کے دھرنے کی کوریج بھی بھارتی میڈیا میں بہت شدو مدسے کی گئی تھی، اس کے متعدد کلپ کئی چینلز نے دوبارہ چلائے بھی ہیں)وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کچھ بھی ہو جائے وہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔کسی کو این آر او بھی نہیں ملے گا۔وزیراعظم نے مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں کے مفرور بیٹوں اور داماد پر بھی سوالات اٹھائے اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی دولت کو یہ کہہ کر نشانہ بنایا کہ ان کے والد کی سائیکل کی دکان تھی۔

سیاسی مبصرین کی بڑی تعداد کی رائے میں وزیراعظم کی تقریر نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔اگر وہ ایک سیاسی لیڈر کے بجائے اعلیٰ ترین منصب دار کا لہجہ اختیار کرتے تو اس کے مختلف اثرات مرتب ہو سکتے تھے۔وزیراعظم عمران خان کی توجہ بار بار اس طرف مبذول کرائی جاتی رہی ہے کہ وہ انتخابی ماحول سے باہر نکل آئیں،جذبات کو آگ دکھانے اور بھڑکانے کا کام اپوزیشن پر چھوڑ دیں کہ یک طرفہ طور پر یہ مشغلہ زیادہ دیر تک جاری نہیں رکھا جا سکے گا،لیکن وزیراعظم کو بار بار حزبی سیاست لپیٹ میں لے لیتی ہے۔وہ اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ پاتے۔ بہرحال اس سے قطع نظر کہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر ایک دوسرے پر کن الفاظ کی گولہ باری کر رہے ہیں،اگر یہ عرض کیا جائے تو نامناسب نہیں ہو گا کہ یہ ملک نہ اہل ِ اقتدار کی جاگیر ہے، نہ اہل ِ اختلاف کی۔ کوئی اقتدار سنبھالے بیٹھا ہو یا کوئی حزبِ اختلاف کے بنچوں پر براجمان ہو،اسے اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ملک کروڑوں پاکستانیوں کا ہے۔اسے بڑی طویل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ہے۔ اس کا انتظام چلانے کے لیے ایک تحریری دستور موجود ہے۔ اس کی حفاظت کا حلف اُٹھا کر ہی اقتدار سنبھالا گیا ہے،اور اس ہی کا حلف اٹھا کر حزبِ اختلاف کا کردار ادا کرنے کا عہدکیا گیا ہے۔قومی اسمبلی کے ہر رکن نے اس کی پاسداری کا عہد اپنے اللہ اور اپنے عوام سے باندھ رکھا ہے۔پاکستان کی عدلیہ اور مسلح افواج بھی اسی حلف کی پابند ہیں۔اس لیے اس دستور سے بالا تر سیاست کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہو گی۔چونکہ، چنانچہ، اگرچہ، مگرچہ اپنی جگہ سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ احتجاج بھی دستور اور قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے،اور اس سے عہدہ برآ ہونے کے لیے کارروائی بھی اسی کے اندر ہونی چاہیے۔

اس بات کی ہر شخص تعریف کر رہا ہے کہ ”آزادی مارچ“ کے ہزاروں شرکا ملک کے مختلف علاقوں اور شاہراہوں سے گذر کر اسلام آباد پہنچے تو راستے میں کوئی گملہ تک نہیں ٹوٹا۔انتظامیہ نے بھی حوصلے سے کام لیاہے، اور مارچ کے شرکا نے بھی نظم و ضبط برقرار رکھا ہے۔کہیں کوئی چھوٹی موٹی خلاف ورزی کسی سرکاری اہلکار سے سرزد ہو گئی ہو،تو بھی حالات مجموعی طور پر خوشگوار رہے ہیں۔ پاکستان کے مفتی ئ اعظم اور تحریک پاکستان کے عظیم رہنما حضرت مولانا مفتی محمد شفیع مرحوم کے فرزند ِ ارجمند،حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی نے اس پر باقاعدہ اظہارِ مسرت کیا ہے،اور آزادی مارچ کے شرکا کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے کہ اپنی نوعیت کا یہ ملکی تاریخ کا(شاید) سب سے بڑا مارچ ہے جو پُرامن طور پر اسلام آباد پہنچا۔ مفتی صاحب نے مارچ سے پہلے تمام دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ سے اپیل کی تھی کہ وہ کسی بھی طور مارچ کا حصہ نہ بنیں۔اُن کے بیان میں کہا گیا تھا کہ طلبہ کو عملی سیاست میں گھسیٹنے سے ان کی تعلیم کا حرج ہوتا ہے، اور ان کی تربیت بھی متاثر ہوتی ہے، اس لیے ان کی تعلیمی مصروفیت اور صلاحیت میں کوئی خلل اندازی نہیں ہونی چاہیے۔مفتی محمد رفیع عثمانی نے اس بات پر بھی تشکر کا اظہار کیا ہے کہ مارچ میں مدارس کے طلبہ شریک نہیں ہوئے،انہوں نے اپنی نصابی سرگرمیاں جاری رکھی ہیں۔آزادی مارچ کے شرکا سے اب یہ توقع بے جا نہیں ہو گی کہ وہ جذبات میں آ کر کوئی ایسا اقدام نہ کر گزریں جسے قانون شکنی قرار دیا جا سکے۔جنوبی ایشیا میں غیر ملکی سامراج سے آزادی حاصل کرنے کے لیے بھی غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال نہیں کیے گئے۔قائداعظم اور گاندھی جی پُرامن اور دستوری جدوجہد ہی کے ذریعے منزل حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔سیاست اور سیاسی رہنماؤں کا سب سے بڑا اثاثہ امن اور قانون ہوتا ہے۔اسے نقصان پہنچانے والے منزل کھوٹی کر دیتے ہیں، کامیابی کو ناکامی میں بدل ڈالتے ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...