جمہوریت کا تسلسل ہی سب سے بہتر راستہ ہے

جمہوریت کا تسلسل ہی سب سے بہتر راستہ ہے
جمہوریت کا تسلسل ہی سب سے بہتر راستہ ہے

  



مولانا فضل الرحمن کے دو دن کا الٹی میٹم دینے کے بعد افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے دو گھنٹے کے اندر اپنے ادارے کا ردعمل قوم کے سامنے رکھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ادارے سے مراد مولانا فضل الرحمن نے فوج کو مخاطب کرکے کہا ہے تو فوج ایک قومی ادارہ ہے اور اس کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں، البتہ فوج آئینی طور پر منتخب حکومت اور جمہوریت کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے انتخابات میں فوج کے کردار کو بھی رد کر دیا اور کہا کہ فوج نے صرف آئینی کردار ادا کیا، جو صاف، شفاف انتخابات کے لئے اسے سونپا گیا تھا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ ان کا یہ کہنا بھی ایک واضح اشارہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے مذاکراتی کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں، انہیں مسئلے کا مذاکرات کے ذریعے حل نکالنا چاہیے۔ فوج کی طرف سے پہلے کبھی اتنا تیز تر ردعمل نہیں آیا۔ عموماً فوج ایسی باتوں کو نظر انداز کرتی ہے، لیکن اب فوری ردعمل دے کر یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ اپوزیشن اس معاملے میں فوج سے کسی قسم کی امید نہ رکھے۔ فوج سیاسی معاملات میں اب کوئی کردار ادا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی……اس سے پہلے مولانا فضل الرحمن نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جب دو دن کا الٹی میٹم دیا تھا تو صاف لگتا تھا کہ وہ اپنی بساط سے بڑھ کر بول رہے ہیں۔ اسلام آباد میں ایک بڑا اجتماع کرنے کے بعد یہ سوچنا کہ اب سب کچھ اس سیلاب میں بہہ گیا ہے اور منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ ایک حکم رکھتا ہے، بچگانہ سوچ ہے۔ انہوں نے یہ تک کہہ دیاکہ آزادی مارچ کے شرکاء اتنی قوت رکھتے ہیں کہ وزیراعظم ہاؤس میں گھس کر عمران خان کو گرفتار کر لیں۔

ایسی غیر سنجیدہ،خلاف منطق اور بے سروپا بات کرنا مولانا فضل الرحمن کو زیب نہیں دیتا۔ کیا وہ پاکستان میں لیبیا یا مصر جیسی صورت حال پیدا کرنا چاہتے ہیں، کوئی بھی شخض جو اس وقت آئینی عہدہ رکھتا ہے، ریاست کا نمائندہ ہے، اسے بنانے اور ہٹانے کے اصول وضع کئے جا چکے ہیں۔ ان قواعد و اصولوں سے ہٹ کر قدم اٹھانے سے سوائے انارکی کے اور کیا مل سکتا ہے؟ مولانا فضل الرحمن یہ کون سی ریت ڈالنا چاہتے ہیں۔ فوج نے بروقت اپنی پوزیشن بھی واضح کر دی ہے اور انتباہ بھی کر دیا ہے کہ انتشار پھیلانے کی کوششوں کو روکنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ پھر سب سے اہم بات یہ ہے کہ فوج نے اپنا بیانیہ دوٹوک دیا ہے کہ منتخب جمہوری حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ اب کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ پہلے فوج ایسے مواقع پر ابہام پیدا کرتی تھی، اب دوٹوک سول حکومت کی حمایت کر رہی ہے۔ پہلے اس کا موقف صحیح تھا یا اب صحیح ہے۔ ظاہر ہے فوج نے بھی تجربات سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ یہ تاریخی حقیقتیں ہیں کہ فوج نے بہت کچھ کیا ہے۔ سول حکومتوں کو ہٹایا بھی ہے اور ان کو ہٹانے کے اسباب بھی پیدا کئے ہیں، مگر ہمیں آج کے حالات کو دیکھنا ہے اور آج کے حالات یہ ہیں کہ فوج سیاست سے خود کو دور کر چکی ہے۔ کم از کم عملی سیاست سے اس کی کنارہ کشی واضح ہے۔ بحیثیت ایک طاقتور قومی ادارے کے اس کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے، مگر اب یہ خطرہ نہیں منڈلا رہا کہ ملک میں مارشل لاء لگ سکتا ہے۔ اگرچہ سیاست دانوں کی زبانیں اب بھی اس کا ذکر کرتی ہیں، مگر عملاً یہ بات قصہ ء پارینہ بن چکی ہے۔ اب تو سیاسی قوتوں کا فریضہ یہ ہے کہ جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں جو کچھ آئین میں درج ہے، اسے زادِ راہ بنائیں، اپنی خواہشات اور مفادات کو پس پشت ڈال کرجمہوری اقدار کو پروان چڑھائیں، مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہو رہا۔ بتایا جائے کہ یہ کس قانون،آئین اور پارلیمانی روایت کے تحت وزیراعظم سے استعفا مانگا جا رہا ہے اور قومی اداروں کو کیوں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک منتخب،جسے اپوزیشن سلیکٹڈ کہتی ہے، کی پشت پناہی چھوڑ دیں۔ گویا وہ غیر آئینی کام کریں اور ملک کو انارکی کی طرف دھکیل دیں۔ ملک جمہوریت کے لحاظ سے کتنا آگے بڑھ گیا ہے، مگر ہماری سیاسی اشرافیہ کی سوچ وہیں کھڑی ہے۔ حیرت ہے کہ معتدل اور متوازن سوچ رکھنے والی سیاسی جماعتیں بھی مولانا فضل الرحمن کے بیانیہ کی نذر ہو گئیں۔ اگر ایک بار یہ ریت چل نکلی کہ لوگوں کو اپنے ساتھ لاؤ اور استعفا لے کر واپس چلے جاؤ، تو پھر اس ملک میں جمہوریت کبھی کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ میرے نزدیک بے وقت کی اس تحریک نے حکومت کے لئے پانچ سال تک اقتدار میں رہنے کی راہیں ہموار کر دی ہیں۔ یہ آزادی مارچ اور دھرنا بے نتیجہ ختم ہو گا۔ آج نہیں تو کل اس کی بساط لپیٹی جائے گی، کیونکہ جس امپائر کی انگلی اٹھوانے کے لئے یہ سب کیا گیا تھا،اس نے مداخلت سے صاف انکار کر دیا ہے، اُلٹا وارننگ بھی دی ہے کہ شرپسندی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اب آسمان سے فرشتے تو اتر نہیں سکتے کہ معجزاتی طور پر اپوزیشن خصوصاً مولانا فضل الرحمن کے مطالبات پورے کر لیں، وزیراعظم کو گھر بھیج دیں، ہونا تو وہی ہے کہ ”کھایاپیا کچھ نہیں گلاس توڑا دو آنے کا“……فیس سیونگ کے لئے چھوٹا موٹا معاہدہ کرکے جب یہ مستعفی ہونے کا سب سے بڑا مطالبہ بھول جائیں گے تو انہیں یاد آئے گا کہ کس طرح اپنی بے تدبیری سے وزیراعظم عمران خان کو مشکلات سے نکالنے میں اس آزادی مارچ اور دھرنے کا اہم کردار رہا۔ہاں اس صورت میں اس دھرنے کا نتیجہ کچھ نکل سکتا تھا، اگر ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک کی طرح اس بار بھی فوج کے اندر کوئی ضیاء الحق اور ان کے ساتھیوں جیسا گروہ ہوتا جو ایڈونچرازم پر یقین رکھتا۔ اس دھرنے کے بطن سے ایک اور مارشل لاء نکلتا اور ملک ایک بار پھر آمریت کی جھولی میں چلا جاتا، مگر صاحب! اب پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے، لیکن ہمارے سیاستدان ابھی تک پرانا پانی ہی ڈھونڈ رہے ہیں۔ وہ فوج پر تو الزام لگاتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی کے انتخابی نتائج چاہتی ہے، لیکن یہ تسلیم نہیں کرتے کہ خود ان کی خواہش بھی یہی ہوتی ہے کہ نتائج ان کی مرضی کے نکلیں۔ ایک شخص کی ضد ہے کہ اس نے یہ اسمبلیاں نہیں چلنے دینیں۔ جب سے شکست ہوئی ہے، اس کا بیانیہ یہی ہے کہ اسمبلیاں جعلی ہیں، حکومت جعلی ہے، وزیراعظم جعلی ہے، اس بیانیہ کی باقی سیاسی جماعتیں کیوں تائید کر رہی ہیں؟ یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ وہ اسمبلی سے باہر رہ جانے والے اس بے تاب سیاسی کردار کے پس پردہ رہ کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔

کیا پوری ریاست کا بیانیہ ان لوگوں کے ہاتھوں شکست کھا سکتا ہے؟ ریاست کا بیانیہ اس وقت بالکل واضح ہے، آئین کے اندر رہ کر ہر کام کرنا ہے۔ یہ قومی ادارے بھی طے کر چکے ہیں اور عوام کی عمومی سوچ بھی یہی ہے کہ بار بار کے مارشل لاء یا غیر آئینی تبدیلی کا راستہ اب بند ہونا چاہیے۔ پورا میڈیا دکھا رہا ہے کہ دھرنے میں شامل لوگوں کی بڑی تعداد سیاسی کارکنوں کی بجائے مدرسے کے طالب علموں سے تعلق رکھتی ہے۔مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے کارکن متحرک نہیں ہوئے اور نہ ہی عام آدمی نے اس کی طرف توجہ دی ہے، اس کی وجہ یہ نہیں کہ حکومت بہت مقبول ہے یا عمران خان کے لئے لوگ دیوانے ہوتے جا رہے ہیں، بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ عوام جمہوریت کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اسملیاں اپنی آئینی مدت پوری کریں اور تبدیلی صرف ان کے ووٹ سے آئے:”ووٹ کو عزت دو“ کا وہ بیانیہ بھی اسی لئے عوام میں پذیرائی نہیں پا سکا، جس میں ایک ووٹ کو عزت دے کر دوسرے ووٹ کی بے حرمتی مقصود تھی۔ پاکستان میں تبدیلی رفتہ رفتہ آئے گی۔ مغرب کی جمہوریت سے ہم سو سال پیچھے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم آج بھی جمہوریت کو ایک ایسا طرز حکومت سمجھتے ہیں، جس میں صرف مفادات پورے کرنے کے لئے شامل ہوا جاتا ہے۔ ابھی ہمارے عوام بھی جمہوریت کی حقیقی روح کو نہیں سمجھتے، وہ اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے مختلف عوامل سے متاثر ہو جاتے ہیں، برادری ازم، علاقائی وابستگی، لالچ یا معمولی مفاد کی خاطر اپنے ووٹ کو ضائع کر دیتے ہیں۔جب انہوں نے ان باتوں سے بالاتر ہو کر ووٹ کاسٹ کرنے کی عادت اپنا لی تو حقیقی تبدیلی تب آئے گی۔ شہبازشریف چھ ماہ مانگ رہے ہیں کہ اس مدت میں وہ پاکستان کو ترقی یافتہ بنا دیں گے۔ ایسے لطیفے اب سنانے کی ضرورت نہیں۔ اگر یوں راتوں رات تبدیلی آ سکتی تو اس وقت بھی آ جاتی جب شہبازشریف نے مسلسل دس سال تک پنجاب پر حکمرانی کی۔ بس حل اور راستہ صرف ایک ہی ہے کہ جمہوریت کو چلنے دیا جائے۔ فوج نے یہ پالیسی اپنا لی ہے، اب سیاستدان بھی اپنا لیں۔ بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ 72سال سے شفاف انتخابات نہیں ہوئے، حالانکہ انہی انتخابات کے نتیجے میں پیپلزپارٹی چار مرتبہ اقتدار میں آئی۔ وہ بیانیہ زیادہ سود مند ہے کہ جمہوریت ہی سب سے بہتر انتقام ہے اور جمہوریت کا تسلسل ہی سب سے بہتر راستہ ہے، جو بالآخر ہمیں خوشحال اور مستحکم جمہوری پاکستان کی منزل سے ہمکنار کر سکتا ہے۔

مزید : رائے /کالم