سپیڈو بس کا ”پاکستانی ارسطو“

سپیڈو بس کا ”پاکستانی ارسطو“
سپیڈو بس کا ”پاکستانی ارسطو“

  



اس وقت وہ ضرب المثل تو یاد نہیں آ رہی جو اس واقع یا حادثے پر صادق آئے جو گزشتہ روز سپیڈو بس میں ایک بزرگ کے ساتھ پیش آیا، تاہم اتنا ہے کہ مقامی طور پر کہا جاتا ہے کہ تیلی لگا کر تماشہ دیکھنا یعنی دیا سلائی سے آگ لگانا مطلب اور مراد یہ ہے کہ ایسے حضرات بھی موجود ہیں جو دو افراد کے درمیان بظاہر بات ختم کرانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن عملاً ان کی بہترین کاوش دونوں کے درمیان جھگڑے سے مارکٹائی تک کی نوبت لانا ہوتی ہے۔اس سے پہلے کہ اس حوالے سے بات آگے بڑھے یہ عرض ہے کہ ان دنوں سیاسی آگ تو لگی ہوئی ہے اور اب نوبت کچھ مزید آگے بڑھ گئی، بلکہ بات کھلتی چلی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے پہلے بھی کئی بار عرض کیا اور اب پھر گزارش کرتے ہیں کہ قومی مفاہمت کی جس قدر اور جیسی شدت سے اب ضرورت ہے۔ شاید پہلے کبھی نہ ہو، اسی بات پر آج سیاست کا موضوع چھوڑ کر ایک انسانی مسئلے اور رویے پر غور کرتے ہیں کہ ہمارے اس ملک میں بڑے بڑے ارسطو بھی موجود ہیں، جو اپنی چھوٹی سی سہولت کے لئے خواتین اور بچیوں کے لئے پریشانی ہی نہیں تکلیف کا باعث بن جاتے ہیں۔

تفصیل عرض کئے بغیر آپ کو بتایا یا سمجھایا نہیں جا سکے گا، اس لئے معذرت کے ساتھ ذرا پس منظر پر غور فرما لیں، سابقہ حکومت کے وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کی پنجاب سپیڈ کے باعث لاہور میں میٹروبس چلی تو اس کے ساتھ ہی سپیڈو بس کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا، یہ لنک سروس کے طور پر قائم کی گئی جو دراصل اورنج میٹرو ٹرین اور میٹروبس کے سٹاپوں کو ایک دوسرے سے ملاتی ہے، اورنج ٹرین تو ابھی تک چل نہیں پائی تاہم میٹرو بس اور یہ سپیڈو بس (لنک سروس) بہرحال مقبول ہے۔ ایئرکنڈیشنڈ بسیں ہیں جو 20روپے میں مسافر کو اس کی منزل تک پہنچا دیتی ہیں۔ حالیہ حکومت نے خسارہ کم کرنے کے لئے دس روپے اضافہ کرکے اسے 30روپے کیا ہے تاہم ابھی سافٹ ویئر تیار نہیں ہوا اس لئے سپیڈو بس 20روپے ہی وصول کر رہی ہے، ابتداء میں سفر کے لئے میٹرو کارڈ ضروری تھا، یہاں چونکہ کارڈ کا کلچر نہیں اور دوسرے کارڈ کے لئے بیک وقت کچھ رقم خرچ کرنا پڑتی ہے اس لئے مسافروں کی تعداد کم تھی، بعدازاں عقل مندی کا مظاہرہ کیا گیا ور نقد رقم پر بھی سفر کی اجازت دے دی گئی کہ 20روپے نقد دے کر بھی سفر کیا جا سکتا ہے، اس سے اس مسافر بس کی افادیت کا احساس بڑھا اور ساتھ ہی مسافروں کی تعداد بڑھ گئی اور متعدد روٹ اہم ہو گئے اور ان پر مسافر بھیڑ کی شکل اختیار کر گئے اور یہ بس پاپولر ہوتی چلی گئی۔ یہ بس چین کی تیار کردہ خوبصورت ہے۔ نئی ہونے کے باعث ایئرکنڈیشنگ بھی بہت اچھی ہے۔ مسافروں کے سوار ہونے کے لئے دو دروازے ہیں جو بس ڈرائیور کے کنٹرول میں خود کار طریقے سے کھلتے اور بند ہوتے ہیں، صاف ظاہرہے کہ ان میں سے ایک خواتین کے لئے ہے اور یوں بھی ایک حد بندی سی موجود ہے۔ چنانچہ مرد و خواتین الگ الگ حصوں میں سفر کرتے اترتے، چڑھتے ہیں۔جو روٹ زیادہ رش لینے لگے ان میں روٹ نمبر15بھی شامل ہے جو بھاٹی گیٹ چوک سے آر اے بازار تک ہے، یہ بس لٹن روڈ، قرطبہ چوک، جیل روڈ اور گلبرگ روڈ سے ہوتی ہوئی کیولری گراؤنڈ کے پل سے کنٹونمنٹ میں داخل ہوتی اور واپس آتی، گلبرگ کے علاقے میں کالج اور دیگر نجی تعلیمی ادارے کافی تعداد میں ہیں،جبکہ گلبرگ اور لبرٹی مارکیٹ شاپنگ سنٹر بھی ہیں اور یوں اس روٹ پر زیادہ مسافر سفر کرتے ہیں اور مصروف اوقات میں تو اس روٹ کی بس قریباً اوورلوڈ ہوتی ہے۔

ہمیں اس پر سفر کرنے کا اتفاق یوں ہوتا ہے کہ قرطبہ چوک سے اپنے دفتر اور اپنے دفتر سے اومنی بس یا قرطبہ چوک بس سٹینڈ تک جانے کا اتفاق رہتا ہے، دفتر سے واپسی یا آمد کے اوقات عموماً ایسے تھے کہ آرام سے سفر ہو جاتا، ایک روز جب بس میں سوار ہونے لگے تو معلوم ہوا کہ مردانہ دروازہ بند اور اس پر نوٹس لکھا ہوا ہے کہ اگلا دروازہ استعمال کریں جو خواتین کے لئے ہے۔ ابتداء میں سمجھ نہ آئی کہ ایسا کیوں ہوا بالآخر ایک بار ایک برخوردار کنڈکٹر سے معلومات حاصل کیں تو بتایا گیا کہ گلبرگ جانے اور آنے کے لئے طلباء زیادہ تعداد میں سفر کرتے ہیں، اور ان میں سے اکثر شرارت کرتے اور کرایہ نہیں دیتے، لہٰذا متعلقہ انچارج نے جو شاید ”پاکستانی ارسطو“ ہوں گے یہ فیصلہ کیا کہ ایک دروازہ استعمال کیا جائے تاکہ کنڈکٹر زیادہ سہولت سے کرایہ وصول کر سکے۔ اس سے کنڈکٹر کو سہولت ہوئی ہو گی یہ اپنی جگہ، لیکن یہاں ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ایک تو سواریوں کے چڑھتے اور اترتے وقت مرد و خواتین یہی دروازہ استعمال کرتے تو ”ہراسانی“ والی کیفیت بنتی اس کے بعد جب مصروف اوقات میں تعداد بڑھتی تو پھر نہ صرف مرد و خواتین کی تمیز ختم ہوئی بلکہ شرارتی عنصر بچیوں کو کچھ پریشان بھی کرنے لگے اور ادھر سے احتجاج بھی ہوا، شکایات ہوئیں لیکن انتظام کرنے والے ”پاکستانی ارسطو“ پر اب تک کوئی اثر نہیں ہوا اور یہ سلسلہ جاری ہے، حالانکہ اس کا ایک حل یہ بھی ہے کہ ایک کنڈکٹر کی جگہ دو کر دیئے جائیں جو الگ الگ گیٹ پر ہوں۔ لیکن ”پاکستانی ارسطو“ اس پر رضامند تو کیا سننا گوارا نہیں کرتے اور پریشانی کا یہ سلسلہ جاری ہے۔

اب وہ واقع عرض کر دیں جو اس تحریر کا سبب بنا ہوا یوں کہ ہمیں کام کی وجہ سے تاخیر ہوئی سٹاپ پر کھڑے ہوئے تو بس معمول سے زیادہ تاخیر کرکے آئی۔ دروازہ کھلا تو ”فل پیک“ تھی۔ خواتین و مرد میں تمیز بھی نہیں تھی۔ اس بس کو جانے دیا گیا کہ دوسری آ جائے گی دوسری سات منٹ کے بجائے 20منٹ بعد آئی تو وہ بھی کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، اس میں جب مسافر جو دو تین تھے سوار ہونے لگے تو کنڈکٹر نے منع کیا، مسافر زیادہ وقت کی وجہ سے پریشان تھے، وہ اوپر چڑھے اور برہمی سے کہا پہلے ہی تاخیر ہو چکی ہے، اس پر ایک شلوار قمیض والے ”مہذب نما“ نوجوان نے مداخلت کی اور کنڈکٹر کے ساتھ آواز ملائی جب مسافر بھی دھکا لگا کر سوار ہو گئے تو کنڈکٹر بولا! چاچا! جی منع بھی کیا تھا، جواباً بزرگ بولے”چاچے کا بچہ یہاں کتنی دیر کھڑا رکھنا تھا“ کنڈکٹر نے تو حالات سے سمجھوتہ کیا لیکن یہ نوجوان جو خواتین کی طرف پھنس کر کھڑا تھا تیلی لگانے والا ثابت ہوا اور بولا! چاچا جی! گالی تو نہ دو“ اس پر کنڈکٹر کو بھی ہوش آیا وہ بزرگ کے گلے پڑا کہ گالی کیوں دی، اب یہ نوجوان بڑے طریقے سے کنڈکٹر کی ہمدردی حاصل کرتا رہا اور بظاہر بات ختم کرانے کی کوشش میں بزرگ سے ہی کہتا رہا، چپ کر جائیں! کنڈکٹر نے بس مزنگ چونگی سٹاپ پر رکی تو ڈرائیور سے جا کر شکائت کی جس نے مائیک کے ذریعے کہا ”بزرگو، گالی تو نہ دو، بزرگ نے جواب دیا، جھوٹ ہے گالی نہیں دی گئی، وہ نوجوان پھر بولا! گالی تو دی تھی، بہرحال اس کشمکش میں ہمارا سٹاپ (اومنی بس) آ گیا اور ہم دوسری بس کے لئے اتر گئے، وہ نوجوان بولا! بس یہیں اترنا ہے‘ ہم نے ہاں کر دی، چنانچہ اندازہ ہو اکہ یہ نوجوان خواتین کے ڈربے میں ہیرو بنا ہوا تھا اور کنڈکٹر کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے ماچس کی تیلی جلا کر آگ بھی لگا رہا تھا۔

پاکستان میں اگر خواتین کو ہراساں کرنے کا قانون ہے اور کارروائی بھی ہوتی ہے تو محترم قانون نافذ کرنے والوں کو مصروف اوقات میں اس روٹ کی بس کا ضرور معائنہ کرنا چاہیے تاکہ ان کو پتہ چلے کہ خواتین کو تنگ کرانے والے منتظم ”پاکستانی ارسطو“ بھی ہیں جو اپنا نظام سنبھال نہیں پاتے اور خواتین کے ساتھ ساتھ شریف لوگوں کے لئے بھی پریشانی پیدا کر چکے اور نوجوانوں کو زیادہ مواقع مہیا کرتے ہیں، ارباب اختیار کو اس طرف توجہ دینا ہو گی۔

مزید : رائے /کالم