برطانیہ میں پنجاب پولیس سے ٹاکرہ

برطانیہ میں پنجاب پولیس سے ٹاکرہ
برطانیہ میں پنجاب پولیس سے ٹاکرہ

  



اگر اِسے خود پہ ترس کھانے کا جذبہ نہ سمجھا جائے تو غیر ضروری تعلیمی دباؤ، شدید مقابلے کی فضا اور سماجی دھکم پیل کے باوجود مجھے آج کے بچوں پہ رشک آتا ہے۔ دراصل ہماری اپنی ابتدائی تعلیم و تربیت کا دورانیہ ذرا ہتھ چھٹ والدین اور اساتذہ کا دَور تھا۔ یہ سمجھنے کے لئے اولین مارشل لا سے پہلے کی اُن ماؤں کا تصور ذہن میں لانا پڑے گا۔ اب وہ پوتوں اور نواسیوں کے پیمپر اور نیپیاں دیکھ دیکھ کر یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتیں کہ ہائے ہائے اتنا خرچہ، ہمارے بچے تو پیڑھیوں پہ پل گئے تھے۔ چوبیس میں سے بیس گھنٹے ’ری یوز ایبل‘ لنگوٹ دھوتے رہنے والی ہماری اِن ماؤں میں کوئی دبا ہوا غصہ ضرور ہوگا،چنانچہ وہ دن بھر بچوں پہ خوف بٹھانے کی کوشش میں لگی رہتیں اور شوہر کی دفتر، کام یا دکان سے واپسی کا رعب دے کر یہ انتباہ کیا جاتا کہ ٹھہر جاؤ، تمہارا باپ آتا ہے تو تمہیں بتاتا ہے۔

ماضی کے بھرے پُرے گھروں میں، جنہیں جدید فیشنی جوڑے ایکسٹینڈڈ فیملی کہتے ہیں، شام کو باپ کے آنے سے پہلے بہت کچھ سمجھا دینے والے کچھ اور بزرگ بھی موجود ہوتے۔ جیسے لالہ سائیں کے نام سے میرے دادا کے مجذوب ٹائپ بڑے بھائی جو عام طور پہ اپنے جنتر منتر میں مست پائے گئے یا پڑوس میں کسی کو جن چمٹ جانے کی صورت میں ایمر جنسی سے نمٹنے کی خاطر پرائیویٹ پریکٹس کے لئے تشریف لے جاتے۔ مگر جونہی دیکھا کہ میں کسی بات پہ اڑ گیا ہوں تو یہ کہہ کر جان نکال دیتے کہ چپ کر، نہیں تو سپاہی پکڑ لے گا۔ لالہ جی زورِ کلام کے لئے سپاہی کی جگہ ’شپاہی‘ کہتے، جس کے پیچھے وسطی پنجاب میں سڑک کو ’شرک‘، سیاہ کو ’شاہ‘ اور سوشل کو ’شوشل‘ کہنے کی عوامی روایت ہے۔ مَیں ولایت، امریکہ، کینیڈا تک ہو آیا، مگر شپاہی کا خوف دِل سے کبھی نہ نکلا۔

یہی وجہ ہے کہ جب زندگی میں پہلی بار پولیس اسٹیشن کے اندر جانا پڑا تو کسی فوجداری جرم میں ملوث ہوئے بغیر میرا جو حال ہوا، اسے آپ میری عزت کا پاس کرتے ہوئے بے یقینی کی کیفیت کہہ لیں۔ اُن دنوں تقریری مقابلوں اور مشاعروں میں حصہ لینے والے طلبہ پہ تبلیغی جماعت کے شرکا کی طرح موسم کے مطابق بستر ہمراہ لانے کی شرط عائد ہوتی تھی، چنانچہ فرسٹ ائر کے اسٹودنٹ کے طور پہ، مَیں نے اُس وقت کے گورنمنٹ کالج کیمپبلپور اور موجودہ اٹک کے پرنسپل، کمانڈر ظہور احمد کے دست مبارک سے آل پاکستان مباحشہ کا اول انعام وصول کیا۔ مگر میسرز الیاس حسین، حبیب الرحمان اینڈ برادرز کی تیز رفتار بس سے واہ کینٹ کے اسٹاپ پہ اترتے ہوئے کنڈکٹر کا چھت سے پھینکا ہوا کیچ پکڑنے میں مجھ سے کو تاہی ہو گئی۔

میرا سفری بستر تو اوریجنل انونٹری کے مطابق ایک گدے، پتلی سی رضائی اور تکیہ پر مشتمل تھا، لیکن گھر پہنچ کر حیرانی کی انتہا نہ رہی جب خاکی رنگ کا یہ بستر بند کھلتے ہی لحاف اور بیڈ شیٹ کے علاوہ پلاسٹک کے سبز شیڈ کا ٹیبل لیمپ، کچھ کاغذات اور ڈائری نما کاپیاں برآمد ہونے لگیں۔ایک سیلز مینوں والی آ ٓرڈر بک بھی تھی جس سے صاحب ِ بستر ممتاز جمالی کے مکمل نام اور ایڈریس کا پتا چل گیا اور یہ بھی کہ کاروبار کے لئے اُن کا لاہور سے کیمپبلپور آنا جانا لگا رہتا ہے۔ مَیں نے جمالی صاحب کو خط لکھا جو خود میرے بستر کے بندِ قبا کھول کر مصطفی زیدی کی طرح پریشان ہوئے ہوں گے کہ ’مرے وطن، مرے سامان میں تو کچھ بھی نہیں‘۔ چند ہی دن گزرے تھے کہ ایک ’شپاہی‘ کے ذریعہ مجھے پولیس سٹیشن بلایا گیا،جہاں جنگی قیدیوں کی واپسی کی طرز پر بستروں کا باہمی تبادلہ ہو گیا اور فریقین نے رسید لکھ دی۔

کوئی دس برس بعد ایک تعلیمی وظیفہ پر نارتھ ویلز جانا پڑا۔ اُس وقت پاکستان چونکہ کامن ویلتھ سے نکل چکا تھا، اِس لئے ضروری ہو گیا کہ یونیورسٹی ہاسٹل پہنچتے ہی قریبی تھانہ کا رخ کیا جائے تاکہ غیر ملکی شہری کے طور پہ رجسٹریشن ہو سکے۔ ایک تو ملک دوسرا، اوپر سے ایران عراق جنگ چھڑنے کے باعث اچانک سولہ گھنٹے کا طویل تر ہوائی سفر اور اس سے بڑھ کر برٹش کونسل کی غلطی سے لندن ، وہاں سے جنوبی ویلز کے شہر کارڈف، پھر یو ٹرن لے کر ایک دور دراز ریلوے جنکشن تک تھکا دینے والی مسافت۔ پھر منزل مقصود کے رخ پہ سرنگ در سرنگ ایک ایسی پیش قدمی تھی کہ ذرا آگے نکل جاتے تو جمہوریہ آئر لینڈ تک بس ایک ڈُبکی کا فاصلہ۔ پھر بھی خدا جانتا ہے کہ ساری تکان کے باوجود تھانے جاتے ہوئے اصل مسئلہ ’شپاہی‘ کا خوف ہی تھا جو بچپن سے دِل میں جاگزیں رہا۔

خیر جی، کاؤنٹر پہ بیٹھے پولیس مین نے ہاتھ ملایا اور کرسی پیش کر کے کہا کہ ابھی آپ کو انسپکٹر سے ملواتے ہیں، ’دی انسپکٹر ول ہیو اے چیٹ ود یو‘۔ یہ سن کر وہ جو پنجابی میں کہتے ہیں، میری خانیوں گئی۔ خدا معلوم انسپکٹر کیا پوچھ لے، کوئی آؤٹ آف کورس سوال ہو یا ویسا توہین آمیز فارم جس پہ چند ہی سال پبلک سروس کمیشن کے سامنے دو ممتاز پاکستانی شہریوں کے (جی ہاں، یہی الفاظ تھے) تحریری بیانات کے ذریعہ یہ ثابت کرنا پڑا تھا کہ سائل نیک چال چلن کا حامل اور ایک باعزت خاندان کا فرد ہے۔ پر انسپکٹر تو اور ہی طرح کا نکلا۔ ’آپ کالج میں داخل ہوئے ہیں؟‘ ’جی ہاں، ہوئے ہیں‘۔ ’باہر بڑی تیز ہوا چل رہی ہے نا‘ ’جی ہاں، چل رہی ہے‘۔یہ سنتے ہی انسپکٹر نے دستخط کئے اور مہر لگادی کہ ’جا تجھے کشمکش دہر سے آزاد کیا‘۔ مَیں جاتے ہوئے خوف کا شکار تھا، آتی دفعہ حیرت زدہ رہ گیا۔

اگلی حیرت ذرا اور نوعیت کی ہے کہ لندن میں بی بی سی کی نوکری شروع کرتے ہوئے جس پولیس اسٹیشن سے پالا پڑا وہ کوئی عام تھانہ نہیں، میٹرو پولیٹن پولیس کا ایلئین رجسٹریشن آفس تھا۔ الگ الگ براعظموں سے آئے ہوئے بھانت بھانت کے غیر ملکی،انتظار کرنے کے لئے بینکوں، ائر پورٹوں اور لاری اڈوں جیسے ٹوکن اور کاؤنٹر کے پار انٹرویو لینے والے افسروں کی لمبی قطار، گویا ’نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر‘۔ میری اہلیہ سے، جو ساتھ تھیں، ایک مختصر سا فارم بھروایا گیا اور سرٹیفکیٹ جاری ہو گیا۔اب فیض کا لہجہ برتوں تو میرے ’دفتر جنوں‘ میں ’گریباں کا تار تار‘ نارتھ ویلز سے بندھا ہوا تھا۔ فرمایا کہ وہاں سے تین سال پہلے کا ریکارڈ ہفتہ بھر میں آجائے تو رجسٹریشن کر لیں گے۔ میری حاضری لگانے کے لئے پاسپورٹ پہ میٹروپولیٹن پولیس کی سرخ رنگ کی مہر بھی ثبت کر دی گئی۔

اگلے ہفتے گئے تو پتا چلا کی ریکارڈ نہیں آیا، لہٰذا سات دن بعد پھر آئیں۔ ایک مہینہ میں یہ عمل کوئی چار مرتبہ دہرایا گیا، ہر بار ایک ہی جواب اور پاسپورٹ پہ مہر۔ یہاں تک کہ پولیس کے بارے میں میرا جو خوف حیرت میں بدلا تھا، اب اکتاہٹ میں تبدیل ہونے لگا۔ چند ماہ بعد جب سب کچھ بھول بھال کر کام میں دِل لگا لیا تو بیوی سے چاہت کی پینگیں بڑھنے لگیں اور اُس علاقہ میں گھر مل گیا جو وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کا انتخابی حلقہ تھا۔ اب چڑے مڑے کاغذ پر مشتمل ایک سرکاری خط موصول ہوتا ہے۔ لفافہ پہ کاٹ کاٹ کر تبدیل کئے گئے پچھلے تین عارضی ایڈریس ہیں اور اندر یہ انتباہ کہ اپنی رجسٹریشن نہ کروانے کے جرم میں آپ کو کیوں نہ ایک ہفتہ کے اندر گرفتار کر لیا جائے۔ تاریخ جو دیکھی تو گرفتاری کی معیاد بھی گزر چکی تھی۔ مگر جب مَیں نے جا کر پوری بات سمجھائی تو رجسٹریشن ہو گئی۔

پولیس کی یہ ’سالانہ خفیہ رپورٹ‘ اس واقعہ کے بغیر مکمل نہیں ہو گی جب دفتر میں کرسی کی پشت پہ ٹکے ہوئے کوٹ سے میرا بٹوہ غائب ہو ا اور اس کی تفتیش کے لئے باقاعدہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے ایک سراغ رساں کو بلوایا گیا۔ اصل میں یہ واردات ایک ایسے دن ہوئی جب سہ پہر کے چار گھنٹے مَیں نے ایک پروگرام کی ریسرچ کے لئے بش ہاؤس ہی کے ایک اور فلور پر ریفرنس لائبریری میں گذارے تھے۔ اِس دوران کوٹ ہمیشہ کی طرح میرے کمرے میں لٹکا رہا۔ سراغ رساں کو پہلے تو اِس پہ اچنبھا ہوا کہ مجھے شام چھ بجے لائبریری سے اپنے کمرے میں واپس آتے ہی بٹوہ چوری ہو جانے کا احساس کیوں نہ ہوا۔ بات فُل مزا دلانے کے لئے پورا مکالمہ پیشِ خدمت ہے۔

کب اندازہ ہوا کہ بٹوہ چوری ہو گیا ہے؟

چوری ہوتے تو مَیں نے دیکھا نہیں،مگر یہ احساس کہ بٹوہ جیب سے غائب ہے،اگلی صبح سوا نو بجے گھر سے نکلتے ہوئے ہوا‘۔

’مسٹر ملک، رات کو دفتر سے جاتے ہوئے احساس کیوں نہ ہوا؟‘

’صبح تک مجھے پیسے خرچ کرنے کی ضرورت نہ پڑی‘۔

’کیا گھر واپسی کے لئے ٹرین یا ٹیوب کا پاس جیب سے نہیں نکالنا پڑا؟‘۔

’مَیں ہر روز ون ڈے ٹریول کارڈ خریدتا ہوں جو ساڑھے نو کے بعد سستا پڑتا ہے۔ یہ اوپر کی جیب میں ہوتا ہے، بٹوے میں نہیں‘۔

’مسٹر ملک، مَیں آپ کے بیان میں لکھ رہا ہوں کہ دو بینک کارڈ، ایک دفتر کا کارڈ اور دس پاؤنڈ کا ایک نوٹ بٹوے میں تھا‘۔

’جی نہیں، دس پاؤنڈ مالیت کا کیش لکھیے۔ مجھے یاد نہیں کہ ایک نوٹ تھا یا دو تھے‘۔

’کیا سہ پہر دو اور چھ کی بجائے آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ واردات دو اور چار بجے کے درمیان ہوئی؟‘

’خدا کا خوف کریں، میں کیوں کہوں جب مجھے ٹھیک وقت کا پتا ہی نہیں؟‘

’وہ اس لئے کہ تین اور وارداتیں اسی تاریخ کو دو اور چار کے درمیان ہوئیں۔ ایک آدمی پہ میری نظر ہے۔ میں آپ کے بیان کی روشنی میں اُسے پکڑ لوں گا‘۔

ظاہر ہے مَیں نے ایسے بیان سے انکار کر دیا تھا، لیکن سراغ رساں کی تفتیش نے مجھے لندن کے سکاٹ لینڈ یارڈ سے راولپنڈی کے نواح میں تھانہ سنگ جانی پہنچا دیا۔ اِس کے دو مہینے بعد وہی کچھ ہوا جو دُنیا بھر کی پنجاب پولیس کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔کچھ مزدور ہمارے فلور پر ایک ٹائلٹ کی مرمت کر رہے تھے کہ ٹیکسلا میں سر جان مارشل کو اب سے پچانوے سال پہلے ملنے والے قدیم سکوں کی طرح میرا گمشدہ بٹوہ بھی ایک کموڈ اور عقبی دیوار کے درمیان والی جگہ سے برآمد ہو گیا۔ سارے کارڈ جوں کے توں محفوظ تھے۔ البتہ دس پاؤنڈ مالیت کا کیش واپس نہ ملا۔

مزید : رائے /کالم