ہم ٹیکس کیوں دیں؟

ہم ٹیکس کیوں دیں؟
ہم ٹیکس کیوں دیں؟

  



”بادشاہ کو اپنے عوام سے اِس طرح ٹیکس وصولی کرنی چاہیے جیسے ایک گوالا اپنی گائے کا دودھ غیر محسوس طریقے سے نکالتا ہے اورروزانہ اُسے مناسب خوراک مہیا کرتا ہے، اُس کی دیکھ بھال کرتا ہے، اُسے گرمی سردی سے محفو ظ رکھتا ہے اور جنگلی جانوروں سے بچاتا ہے“……یہ اقتباس ہندوؤں کی مذہبی کتاب مہا بھارت سے لیا گیا ہے۔ 3000 سال گذر جانے کے بعد بھی یہ کہاوت ٹیکس کے بہتر نظام کی مکمل تعریف ہے۔ آج کے دور میں بادشاہ کی بجائے حکومت ہے جو اپنے عوام کی جانی اور مالی حفاظت کرتی ہے، اُن کے بچوں کے لئے تعلیم و تربیت کا اِنتظام کرتی ہے، عوام کی آمد و رفت کے لئے سڑکیں، پُل اور دوسرے ذرائع مواصلات بناتی ہے، اپنے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے فوج کا اِدارہ بناتی ہے۔ قحط کے دِنوں سے بچنے کے لئے عوام کے لئے خوراک ذخیرہ کر تی ہے۔ غرض یہ کہ حکومت اپنے عوام کے لئے مہا بھارت کے اقتباس میں دی مثال والے گوالے کا کام کرتی ہے۔ ٹیکس کا نظام اُتنا ہی قدیم ہے، جتنا بادشاہی نظام۔ قبائلی نظام میں عوام سے ٹیکس لینے کا رواج نہیں تھا، بلکہ قبائلی جنگوں میں شکست خوردہ قبیلے کا مالِ غنیمت فاتح قبیلے کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہوتا تھا۔ قبائلی سسٹم میں کسیStanding Armyکا تصوّر تھا اور نہ ہی پبلک ایجوکیشن کے اِدارے ہوتے تھے۔ قبیلے کا ہر فرد سپاہی تھا۔ انصاف قبیلے کا سردار یا پنچایت سے مل جاتا تھا۔ لازمی ٹیکس کا باقاعدہ اور عوامی بہبود سے جُڑا ہوا نظام اِنسانی تاریخ میں ہمیں صرف قرآنِ مجید اور پہلی اسلامی ریاست مدینہ کے قیام کے بعد مِلتا ہے۔ زکوۃٰ، عُشر،(فدیہ، صدقہ اور عطیہ لازمی ٹیکس نہیں ہیں)۔ جزیہ اور خراج لازمی ٹیکس ہیں،لیکن مخصوص شرائط اور حالات کے مطابق ہیں۔ اگر کسی مسلمان کی آمدنی قابلِ زکوٰۃ نہیں ہے تو اُس پر زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی۔ اسی طرح غیر مسلموں پر جزیہ قابلِ معافی بھی ہوتا تھا۔ اسلامی ٹیکس کا نظام تھوڑے بہت رد و بدل کے ساتھ تمام اِسلامی دنیا میں اُس وقت تک رائج رہا،جب تک مسلمان ممالک آہستہ آہستہ سامراجی قوتوں کے زیر اثر یا قبضے میں نہیں آگئے۔

برصغیر میں ٹیکس کا سادہ سا نظام تو مسلم حکمرانوں کے آنے سے پہلے کا چلا آرہا تھا۔ فصلوں پر کسان سے مالیہ وصول کرنا اور اگر فصل کی آبپاشی کے ذرائع حکومت نے مہیا کئے ہوتے تھے تو آبیانہ بھی وصول کیا جاتا تھا۔ صنعتی انقلاب سے پہلے حکومتوں کی آمدنی زراعت یا کسٹم ڈیوٹی سے ہوتی تھی۔ اِنکم ٹیکس کا تصور نہیں آیا تھا۔ ترک سلطانوں اور مغلوں کے زمانے میں زرعی ٹیکس عموماًفصل کا 1/5 سے 1/2تک حصہ لیا جاتا تھا۔ مسلمان حکمرانوں میں صرف تغلق خاندان کے زمانے میں فصل کا نصف حصہ بطور مالیہ کے لیا گیا جس کو عوام نے ظلم سمجھا اور اس ٹیکس کے خلاف بغاوتیں بھی ہوئیں۔ اس کے علاوہ غیر مسلم بالغ مردوں پر جزیہ بھی لاگو کیا جاتا تھا، لیکن بعض حالات میں استثنیٰ ملتا تھا۔ برٹش راج میں ہندوستان میں انگریزوں نے بھی ٹیکس کے نظام میں رد و بدل کیا اور نئے ٹیکس لاگو کئے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اور بعد میں انگریزی راج نے برصغیر میں 20ویں صدی کے آغاز تک صنعتیں نہیں لگنے دیں، کیونکہ صنعتوں کا خام مال ہندوستان سے برطانیہ بھیج دیا جاتا تھا،تاکہ برطانو ی صنعت کاری ترقی کرتی رہے۔ ہندوستانی خام مال، کپاس، گنا، ریشم، مصالحے، پٹ سن اور خام لوہے پر مشتمل ہوتا تھا۔ جب برطانوی صنعت کاروں نے ہندوستان میں ریلوے کا نظام قائم کیا اور مقامی لوہے کی بنیاد پر صنعتیں لگائی گئیں، تب برطانوی حکومت ِہند نے صنعتوں پر ٹیکس لگانا شروع کیا۔ برٹش ہندوستان کا پہلا صنعت کار مسٹرٹاٹا تھا جس نے پہلی سٹیل انڈسٹری کلکتہ میں نصب کی۔ ٹاٹاکا خاندان آج دنیا کے بڑے صنعت کاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہندوستان کی اعلیٰ بندرگاہوں کی جدید تعمیر و ترقی میں بھی انگریز سرمایہ کاروں نے نجی طور پر حصہ ڈالا۔ برصغیر کا عظیم نہری نظام بھی ابتداء میں انگریز پرائیویٹ سرمایہ کاروں نے ہی بنایا۔ برطانوی ہند کی حکومت کے ذرائع آمدنی بڑھتے رہے۔ حکومت نے عوام کی بہود اور اپنے ملک برطانیہ کے معاشی فائدے کے لئے مواصلاتی نظام قائم کیا۔ سکول، کالج، یونیورسٹیاں اور ہسپتالوں کی تعمیر برصغیر کی افرادی قوت کو ترقی یافتہ بنانے کے لئے کی گئی،پھر یہی افرادی قوت پہلی جنگِ عظیم میں برطانیہ کی عسکری قوت کا بڑا حصہ بنی۔پہلی جنگِ عظیم کے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے نئے ٹیکسوں کی شروعات ہوئیں۔ انکم ٹیکس ایک نیا ٹیکس تھا جو اِنفرادی آمدنی پر لاگو ہونا شروع ہوا۔

دراصل 1860ء میں برطانوی حکومت نے 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد ہندوستانیوں پر اس بنیاد پر انکم ٹیکس عائد کر دیا تھا کہ 1857ء کی بغاوت کو کچلنے کے لئے انگریزی حکومت کا بہت نقصان ہوا تھا، زر تلافی کو انکم ٹیکس کا نام دیا گیا۔ 1922ء میں انکم ٹیکس کا باقاعدہ ایکٹ بنا جس کو پاکستان نے آزادی کے بعد من و عن اپنا لیا۔ 1979ء میں انکم ٹیکس آرڈیننس کے ذریعے قانون کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان کا موجودہ انکم ٹیکس قانون کافی تبدیلیوں اور ترمیمات کے بعد اَب جولائی 2002 سے نافذ ہے۔ اِنکم ٹیکس کو پُرکشش بنانے کے لئے چھوٹے بڑے اِقدامات کئے گئے، لیکن اِنکم ٹیکس کی خاطر خواہ وصولی نہیں ہو سکی۔ کیا وجہ ہے کہ ہمارا خوشحال اور تاجر طبقہ اِنکم ٹیکس کی ادائیگی میں ہر قسم کی کوتاہی کو جائز سمجھتا ہے؟ اس کی وجہ ماضی اور حال کی حکومتیں ہیں۔ مہا بھارت کے گوالے کی مثال کو دوبارہ پڑھیں۔گوالا دودھ حاصل کرنے کے لئے گائے کی خدمت کرتا ہے۔ ہمارے عوام میں جب تک یہ perception پیدا نہیں ہو گی کہ حاکم سادہ زندگی گذارتے ہیں، عوام کی بنیادی سہولتوں کا خیال رکھتے ہیں، جان و مال کی حفاظت کرتے ہیں، اُن کے بچوں کی تعلیم اور صحت کا انتظام کرتے ہیں، اُس وقت تک کوئی بھی صاحبِ حیثیت اپنی آمدنی میں حکومت کو شریک نہیں کرے گا۔ صرف پاکستانیوں کی بات نہیں ہے، ترقی یافتہ ملکوں کے عوام کو بھی اگر یہ احساس ہو جائے کہ ان کی حکومتیں اپنے اللّے تللوں پر بھاری اخراجات کر رہی ہیں تو وہاں کے عوام بھی ٹیکس دینے سے گریز کریں گے۔ ہمارا تاجر اور خوشحال طبقہ نابینا تو نہیں ہے، جب وہ اپنے حاکموں کی کارگذاری دیکھتا ہے اور ان کے مجرمانہ اخراجات دیکھتا ہے تو وہ اپنا مال کبھی بھی اِن حاکموں کی حکومت کے ساتھ Share نہیں کرے گا۔ ہماری حکومتیں اپنے کرّ و فر کے لئے عوام کے پیسے کو پانی کی طرح بہاتی ہیں، اقرباپروری کی اِنتہا کرتی ہیں، اپنے دوستوں اور وفاداروں کو ناجائز طریقے سے نوازتی ہیں، قابلیت اور اہلیت کی دھجیاں اُڑاتی ہیں، ترقیاتی کام ایسی نوعیت کے کرتی ہیں جن میں فوراً ہی مال پانی بن سکے۔ طویل المیعاد منصوبے یہ حاکم اس لئے نہیں بناتے، کیونکہ اُن منصوبوں کی تکمیل تک موجودہ حاکموں کو فوری طور پر کچھ بھی حاصل نہیں ہونا۔ کالا باغ ڈیم اور دوسرے بڑے ڈیم نہ بننے کی بڑی وجہ بھی یہ ہی ہے۔

پاکستان کے عوام خیرات کرنے میں بہت گرم جوشی سے کام لیتے ہیں۔ غربت میں ہمارا ملک 105 واں ملک شمار کیا جاتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی راہ میں خیرات، عطیات اور امداد دینے والے ملکوں میں ہمارا 40 واں نمبر ہے۔ ہم بلجیم اور سپین سے زیادہ داَن پُن کرتے ہیں۔ پاکستان میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں صرف خوشحال طبقہ ہی آگے آگے نہیں ہوتا، بلکہ متوسط اور غریب لوگ بھی کسی صورت میں پیچھے نہیں رہتے۔پاکستان کے بڑے بڑے فلاح و بہبود کے اِدارے اور ہسپتال ہمارے عوام کے مخیرانہ جذبے اور مزاج کی وجہ سے بنے ہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن، شوکت خانم ہسپتال، آغا خان فاؤنڈیشن، بیت المال، اِدارہ الاخوت، ڈاکٹر ادیب رضوی کا Suit ہسپتال، اِبرار الحق کا سہارا ہسپتال، انصار برنی کی تحریک،فاطمید فاؤنڈیشن اور ایسے ہزاروں اِدارے پاکستانیوں کے عطیات اور زکوٰۃ پر چل رہے ہیں۔ ہمارے عوام عید الاضحی پر سالانہ 400 ارب روپے سے زیادہ جانوروں کی قربانی پر خرچ کر دیتے ہیں۔ عمروں اور حج پر ہر سال 900 ارب سے زیادہ روپیہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے پانی کی طرح بہا دیتے ہیں۔ اِنفرادی طور پر لاکھوں بھوکوں کو روزانہ ایک یا دو وقت کا کھانا کھلاتے ہیں۔ کیا ٹیکس چوروں سے بھلا اتنی خیرات اور عطیات موصول ہو سکتے ہیں؟ دراصل ہمارا تاجر، صنعتکار اور عام آدمی ثواب حاصل کرنے کے لئے اپنی دولت کو راہِ خدا میں ضرور خرچ کر تا ہے۔ پاکستانی جب اس مدَ میں خرچ کرتا ہے تو اُس کو یہ فہم ہے کہ خیرات کے بدلے میں اُسے ثواب مِلے گا۔ ہمارا مخیر پاکستانی ان عطیات یا خیرات کا بدلہ اللہ تعالیٰ سے ثواب کی صورت میں حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ یہی مخیر پاکستانی حکومت کو ٹیکس دینے میں بخل سے کام لیتا ہے۔ اپنی آمدنی کم دکھاتا ہے، تاکہ انکم ٹیکس ادا نہ کرنا پڑے۔ ٹیکس اَفسروں کو رشوت دینے کا گناہ کرتا ہے، جھوٹی رسیدیں بناتا ہے، بے ایمانی کرتا ہے جو اِن ٹیکس اَفسران کے اشتراک کے بغیر ہو نہیں سکتی۔ ٹیکس کے فارم اتنے مشکل اور کمپیوٹر زدہ کر دیئے گئے ہیں کہ عام پڑھا لکھا آدمی Self assessment کے طور پر اپنا انکم ٹیکس کا گوشوارہ بنا ہی نہیں سکتا۔ لا محالہ وہ ٹیکس والے وکیل کی مدد حاصل کرتا ہے اور وکیل کی فیس کے ساتھ ٹیکس اَفسر کے لئے رشوت کی رقم بھی مہیا کرتا ہے۔

ٹیکس ادا کرنے والے پاکستانی کو جب بدلے میں حکومتی سہولیتں نہیں ملیں گی تو وہ ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے کا ہر جتن کرے گا۔ عام شہری کو خواہ خوشحال ہو یا غریب، اُسے اپنی جان و مال کا تحفظ درکار ہے، اپنے بچوں کے لئے مناسب تعلیم درکار ہے، صحت کی دیکھ بھال کی ضروت ہے،مستعد اور ایماندار حکومتی اہل کاروں کی ضرورت ہے، صاف پانی اور بغیر ملاوٹ کے خوراک درکار ہے۔ جس دن حکومتیں مہا بھارت کے گوالے کی طرح اپنے عوام کی خاطر خواہ، فلاح و بہبود کا فریضہ ادا کرنے لگ جائیں گی، یہی پاکستانی اپنی آمدنی کا مناسب حصہ بغیر مانگے حکومت کو دیں گے۔ جس روز حکومتیں،اقربا پروری، کرّوفر والا طرزِ زندگی، کمیشن خوری اور خود غرضی ترک کر دیں گی، مَیں یقین دِلاتا ہوں کہ پاکستان میں کسی کو بھی ٹیکس چور کہنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہوگی،کیونکہ ہم ٹیکس چور نہیں ہیں۔ ہمارے عوام اور خواص کو وی آئی پی کہلانے کا بے حد شوق ہے۔ حکومتِ پاکستان کچھ ایسی مراعات یا ترجیحی سلوک مہیا کرنے کا اِنتظام کرے، تاکہ ایک مخصوص رقم سے زیادہ ٹیکس دینے والا اپنے آپ کو دوسرے شہریوں کے مقابل زیادہ ممتاز سمجھے۔مثلاً کاروں کی نمبر پلیٹ کے دلکش نمبر ترجیحاتی بنیاد پر 10لاکھ سالانہ ٹیکس ادا کرنے والے کو دئیے جا سکتے ہیں۔ سرکاری سوشل فنکشنز پر اُن کو وی آئی پی کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ 25 لاکھ سے اوپر ٹیکس دھندہ کے لئے ہوائی سفر میں بزنس کلاس یا فرسٹ کلاس کی upgrading کی جا سکتی ہے۔ ایک کروڑ سے زیادہ ٹیکس دینے والے کو ہر سرکاری تقریب میں عزت کے ساتھ مدعو کیا جائے۔ ہمارے چھوٹے دکاندار جو 5 لاکھ سے زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں، اُن کو تھانے کچہری میں کُرسی پیش کی جائے اور ایس ایچ او کا فرض ہو کہ وہ اُس ٹیکس دھندہ کو اُٹھ کر سلام کرے۔ ہر کیٹگری کے ٹیکس دھندہ کو شناختی کارڈ یا ٹیگ ملے،تاکہ متعلقہ دفتر یا اِدارے کو معلوم ہو کہ یہ شخص ٹیکس دھندہ ہے۔ ہمارے 90 فیصد عوام پاکستان کی وجہ سے امیر ضرور ہوئے ہیں، لیکن اُن کی وی آئی پی بننے کی صدیوں سے پیاسی روح کو تسکین اسی طرح مل سکتی ہے۔ انگریز چالاک تھا، ہندوستانی زمینداروں اور اُمراَ کی ذہنیت کو بھانپ گیا تھا،اسی لئے اُس نے”سفید پوش، کرسی نشین، سردار صاحب، خاں صاحب، خان بہادر اور نواب“کے القاباب(Titles) بنائے جو ہندوستانیوں کی خود پسندی، تشہیر اور Self importance کی جبلّت کو تسکین دیتے تھے۔ اس کے علاوہ اور بہت سی دلکش مراعات ہیں جو ہمارے اُمراکے وی آئی پی کہلانے کے شوق کو پورا کر سکتی ہیں۔ ہمارا تاجر اور صنعتکار مُلک کا زیادہ خیر خواہ ہے، بہ نسبت منتخب نمائندوں کے۔

مزید : رائے /کالم