احتجاج کے جمہوری حق پر سوال نہیں کیا جاسکتا لیکن چہرے بدلنے سے تبدیلی نہیں آئے گی:مصطفی کمال

احتجاج کے جمہوری حق پر سوال نہیں کیا جاسکتا لیکن چہرے بدلنے سے تبدیلی نہیں ...
احتجاج کے جمہوری حق پر سوال نہیں کیا جاسکتا لیکن چہرے بدلنے سے تبدیلی نہیں آئے گی:مصطفی کمال

  



کراچی (آئی این پی) پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ احتجاج کے جمہوری حق پر سوال نہیں کیا جاسکتا لیکن چہرے بدلنے سے تبدیلی نہیں آئے گی،ایک وزیراعظم کے جانے یا دوسرے کے آنے سے مسائل حل نہیں ہونگے بلکہ پلان آف ایکشن پر بات ہونی چاہیے کہ ملک کو مسائل سے کیسے نکالنا ہے؟پاک سر زمین پارٹی عوامی مسائل پر سیاست کر رہی ہے، گزشتہ انتخابات میں اپنی حق تلفی کے باوجود حکومت کی غیر مشروط حمایت کی اور جب بھی تنقید کرتے ہیں تو مسائل اور ایشوز کی بنیاد پر کرتے ہیں،حکومت ہرشعبے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور صرف اعلانات کی حد تک باقی رہ گئی ہے اور پھر ان اعلانات سے بھی مکرا جارہا ہے،اگر ایسا ہی چلتا رہا تو اللہ نہ کرے پاکستان زیادہ عرصہ نہیں چل پائے گا۔

 کورنگی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےمصطفیٰ کمال نےکہاکہ ہمیں باہر سے دشمن کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ہم اندر سےکمزورہوتےچلےجارہے ہیں ، حکومت کی جانب سے کرپشن کے خلاف عملی اقدامات کے بجائے صرف ہوائی تیر چلانے کی وجہ سے کرپشن مزید بڑھ چکی ہے، سختی کے نام پر اداروں میں صرف کرپشن کا ریٹ بڑھا ہے،سیکریٹری و افسران کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ نیب اٹھا کر لے جائے گا،غریب منوں مٹی تلے دب چکا ہے،کہیں گورننس نام کی چیز نہیں، وزیراعظم سندھ کے وزیر اعلیٰ سے بات نہیں کر رہے،سندھ کے شہریوں کے مقدر میں موت ہی لکھ دی گئی ہے، لوگ کچرے، بارشوں میں کرنٹ، کتے کے کاٹنے، ڈینگی، ایڈز، صاف پانی کی عدم دستیابی اور دیگر موذی امراض کے باعث مر رہے ہیں، کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تشویشناک بات یہ ہے کہ موجودہ حکمران اپنی نااہلی اور غفلت چھپانے کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، حکمرانوں سے اپیل کرتا ہوں انسانیت کا دامن نہ چھوڑیں، اپنی عاقبت سنواریں،ٹرین حادثے کے شہداء کے جنازوں پر جا کر جو الفاظ ادا کیے گئے انہیں دہرایا بھی نہیں جا سکتا، پاک سرزمین پارٹی اس حکومتی رویے کی مذمت کرتی ہے،حادثے کی تمام تر زمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے، ریلوے کے وزیر اگر سیاسی معاملات پر تجزیہ دینے سے فارغ ہوں تو شاید اپنے محکمے پر بھی نظر ڈال لیں اور اس قسم کے واقعات نہ ہوں۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی