کرپشن کہانی

کرپشن کہانی

  



حسن عباس زیدی

پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کی کرپشن کہانی کا انجام کیا ہوگایہ بتانا قبل از وقت ہے اس عظیم ادارے کو جس طرح مفاد پرستوں اوردولت کی ہوس کے ماروں نے جو حال کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے لاقانونیت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ہر کوئی حیرت زدہ ہے ہمارے ملک میں جو کوئی حق بات کرتا ہے اسے بھیانک انجام سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔پی ٹی وی میں اہل اور قابل لوگ کھڈے لائن لگے ہوئے ہیں جبکہ نااہل لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں جب ملک بھر کے سٹیشنز پر ڈیزل مکینک،ہیلپر،سیکیورٹی گارڈز،ری ڈیزگنیٹڈ،اے سی مکینک کا قبضہ ہوگا تو ایسے ادارے کا ترقی کرنا دیوانے کے خواب کے سوا کچھ بھی نہیں۔پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن کی کرپشن کی کہانی زبان زد عام ہونے کے باوجود وہاں پر اندر کھاتے غیر قانونی بھرتیوں کا سلسلہ جاری ہے اور دوسری جانب اخبارات میں اشتہار دیا گیا ہے کہ ہمیں مختلف عہدوں پر بھرتی کے لئے ہیومن ریسورس کمپنی کی ضرورت ہے۔ظلم کی انتہاء دیکھئے کہ پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن کا شعبہ نیوز اسلام آباد سے کراچی منتقل کردیا گیا تھا جس پر کوئی پوچھنے والا ہی نہیں کہ ایسا کیوں کیا گیا ہے۔ پاکستان میں دھرنوں اور حکومت مخالف مارچ کی تاریخ بہت پرانی ہے گزشتہ 40سالوں کے دوران ملک میں،علامہ مفتی جعفر حسین کا اسلام آباد گھیراؤ،بے نظیر بھٹو کے لانگ مارچ،نواز شریف کے عدلیہ بچاؤ مارچ،عمران خان اور طاہر القادری سمیت کئی بڑے بڑے دھرنے ہوئے مگر آج تک پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن کے شعبہ نیوز کو اسلام آباد کی جگہ کسی دوسرے شہر میں منتقل نہیں کیا گیا کیا۔ مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ ابھی اسلام آباد میں داخل نہیں ہوا تھا کہ پی ٹی وی کے شعبہ نیوز کو دو دن قبل ہی کراچی شفٹ کردیا اور فوری طور پر کراچی مرکز کے سٹوڈیواے میں خبروں کیلئے سیٹ بھی لگا دیا گیاتھا یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب وہ کون سی دوربین شخصیت پیدا ہوگئی جس کو قبل ازوقت ایسا کرنے کا خیال آگیا۔ایسا کونسا طوفان آنے والا تھا جس کے پیش نظر ایسا کرنا ضروری تھا ابھی کچھ ہوا ہی نہیں اور نیوز کے شعبہ کو کراچی منتقل کردیا گیا اور خبروں کے حوالے سے کراچی میں تمام انتظامات مکمل کرلئے گئے تھے۔پی ٹی وی نیوز کے عملہ کو ہوٹل میں ٹھہرانے اور ان کے قیام و طعام پر لاکھوں روپے خرچ ہورہے ہیں۔کیا ایسا کرنے سے بدترین مالی بحران کا شکار قومی چینل مزید بوجھ بڑھ نہیں

جائے گا۔ایک اطلاع کے مطابق پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن ہیڈ کوارٹر،شعبہ نیوز اور پی ٹی وی ہوم کے 12ملازمین کے خلاف ضابطہ کی خلاف ورزی، اختیارات کا ناجائز استعمال اور دیگر کے تحت انکوائری کا جو حکم دیا گیا تھا اس پر تاحال کوئی کارروائی نہیں ہوسکی ان ملازمین کو نوٹس کے ذریعے آگاہ کیا گیا تھا کہ وہ تین دن کے اندر اندر اپنے الزامات کے حوالے سے جواب داخل کریں ورنہ ان کو ملازمت سے برخاست کردیا جائے گا۔مگر اس سلسلے میں بنائی جانے والی کمیٹی کے اراکین نے ملازمین کے خلاف انکوائری کرنے سے انکارکردیا ہے۔اس بارے میں انکوائری کمیٹی کے اراکین کا موقف تھا کہ ہم کسی کارکن کے خلاف سیاسی اور انتقامی کارروائی کا حصّہ نہیں بننا چاہتے۔جس پر نئی کمیٹی بننے تک انکوائری کی کارروائی روک دی گئی ہے۔سابق چیئرمین پی ٹی وی عطاء الحق قاسمی کے بارے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے مطابق موجودہ چیئرمین پی ٹی وی ارشد خان مذکورہ عہدہ کی اہلیت نہیں رکھتے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ بھی ان کے ایم ڈی پی ٹی وی اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر کی تقرری کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔دوسری جانب ارشد علی خان آئین پاکستان اور کمپنیز ایکٹ کے تحت پی ٹی وی ممبر بورڈ آف ڈائریکٹرز بننے کی اہلیت نہیں رکھتے وہ پہلے ہی 11کمپنیوں کے ڈائریکٹر ہیں اور قانون کی رو سے کوئی بھی پاکستانی شہری 5سے زیادہ کمپنیوں کا ڈائریکٹر نہیں بن سکتا۔اس کے ساتھ ساتھ کوئی بھی ایسا شخص ممبر بننے کے اہل نہیں ہے جس کی کمپنی کا پی ٹی وی کے ساتھ کاروباری تعلق ہو۔راشد علی خان کی کمپنیوں کا پی ٹی وی سے کاروباری تعلق سب کو معلوم ہے۔ آغا شاہد رشید ہی کی طرح عبدالمتین باجوہ چیف آرگنائزر آل پاکستان پی ٹی وی ایمپلائز اینڈ ورکرز یونین(سی بی اے)نے بھی پی ٹی وی میں ہونے والی لاقانونیت اوربے قاعدگیوں کے خلاف درخواست دی ہوئی ہے۔پی ٹی وی کی کرپشن کی انکوائری جب ایف آئی اے کے افسر ماجد نیازی نے شروع کی اور اس حوالے سے شواہد اکٹھا کئے تو ایک ماہ بعد ہی ان کو کسی دوسری جگہ ٹرانسفر کردیا گیا اور اب یہ انکوائری چیئرمین نیب کے حکم پر سید محمد حسنین کے پاس ہے۔ان شکایات کی روشنی میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (کمپنی لاء ڈویژن)نے اس سلسلے میں کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر بھرتی ہونے والے ارشد خان،راشد علی خان اور دیگر کو 10دن کے اندر شکایات کے حوالے جواب دینے کا پابند کیاتھا۔

مزید : رائے /کالم