آزادی دھرنا اور تصادم؟

آزادی دھرنا اور تصادم؟
آزادی دھرنا اور تصادم؟

  



مولانا فضل الرحمن وزیراعظم کے استعفیٰ کے حوالے سے ڈٹ گئے ہیں، پرویز خٹک نے استعفیٰ کے مطالبہ کو خواب قرار دیا اور انکشاف کیا کہ حکومتی کمیٹی کے ساتھ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے مذاکرات کے کئی دور ہوئے مگر اپوزیشن کمیٹی نے کبھی وزیراعظم کے استعفیٰ کے حوالے سے مطالبہ نہیں کیا تھا۔مولانا فضل الرحمن جمعہ کے روز اسلام آباد میں جلسہ سے خطاب میں بھی کھل کر سامنے نہیں آئے، باقاعدہ دھرنے کا اعلان بھی نہیں کیا اور دھرنا بھی دیدیا، انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو دو روز کی مہلت دیتے ہوئے اتوار تک استعفیٰ دینے کی وارننگ دی ہے، جلسہ کے شرکاء کو منتشر ہونے کی ہدائت بھی نہیں کی، یعنی آزادی مارچ کے شرکاء اب اتوار تک پشاور موڑ پر دھرنا دیئے بیٹھے رہیں گے۔ اتوار کے روز مولانا کے تھیلے سے کیا برآمد ہوتا ہے اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے مگر ان کی اداروں پر تنقید اور تنبیہہ اور یہ فرمانا کہ وزیراعظم کے گھر میں گھس کر بھی ان سے استعفیٰ لے سکتے ہیں اشارہ دے رہا ہے کہ اتوار کے اپنے خطاب میں وہ ریاستی اداروں کو للکاریں گے اور اداروں سے جنگ کی پالیسی کے اعلان کے ساتھ حکومت سے تصادم کی راہ اپنانے کا اعلان کریں گے اس بات کا بھی احتمال ہے کہ شرکاء کو ریڈ زون کی طرف یلغار کا حکم جاری کر دیا جائے، جس کا لازمی نتیجہ تصادم کی شکل میں برآمد ہو گا۔

آزادی مارچ جو اب آزادی دھرنا میں تبدیل ہو چکا ہے کے شرکاء سے شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے بھی خطاب کیا، اپنے خطاب میں اپوزیشن کے تین بڑے رہنماؤں کے مطالبات میں تضاد واضح طور پر دکھائی دیا، مطلب اپوزیشن میں اب تک مطالبات کے حوالے سے اتفاق رائے کا فقدان ہے، مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ دہرایا مگر اسمبلیوں کی تحلیل اور عبوری انتخابات کا مطالبہ نہیں کیا، شہباز شریف نے اسمبلیوں کی تحلیل اور نئے انتخابات کا مطالبہ کرنے کے بجائے ان ہاؤس تبدیلی پر زور دیا، بلاول بھٹو کے متفرق خطاب میں حکومت پر تنقید کے سوا کچھ نہ تھا، انہوں نے مولانا فضل الرحمن اور شہباز شریف کے مطالبات کی حمائت بھی نہیں کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں میں یکسوئی ہے نہ اتفاق رائے، سب اندھوں کی طرح راستے ٹٹول رہے ہیں منزل کی بھی خبر نہیں ہے شائد ان کی منزل بھی ایک نہیں اگر منزل ایک نہیں تو یقینا ان کے راستے بھی جدا جدا ہوں گے، یقینی طور پر فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا تاہم بہت جلد ن لیگ اور پیپلزپارٹی،مولانا سے اپنی راہ جدا کر کے مصالحت اور مفاہمت کی راہ اپنائیں گی۔

شہباز شریف کا ان ہاؤس تبدیلی کی بات کرنا ان کے مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل اور مطالبات کا پتہ دیتا ہے، ایک بات جو یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمن نے تصادم اور تشدد کا راستہ اپنایا تو مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی ان کا ساتھ نہیں دیں گی، مسلم لیگ ن کو مرکز اور پنجاب اسمبلی میں واضح نمائندگی حاصل ہے، شہباز شریف کو گمان ہے ان ہاؤس تبدیلی کی صورت میں ان کے ہاتھ کچھ نہ کچھ آسکتا ہے، پیپلزپارٹی پہلے ہی سندھ میں حکومت کے مزے لے رہی ہے مگر مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت کا دامن خالی ہے، البتہ تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمہ سے انہیں اْمید نہیں یقین ہے کہ خیبرپختونخوا کی حد تک انہیں حکومت مل سکتی ہے۔

مولانا فضل الرحمن اسمبلیوں کی تحلیل اور نئے الیکشن کا مطالبہ کرتے ہیں مگر ان کے بیٹے سمیت جے یو ا?ئی (ف) کے 16 ارکان پارلیمنٹ ہیں مگر انہوں نے اپنے ارکان کو اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کی ہدایت کی اور نہ اس کا اعلان کیا جبکہ سیاسی ماہرین اس کی توقع کر رہے تھے، اپنے ارکان کے استعفوں کا اعلان نہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ خود مولانا بھی اپنے مطالبات کے حوالے سے یکسو نہیں ہیں، زیادہ گمان یہی ہے کہ مولانا شہباز شریف کے ان ہاؤس تبدیلی کے مطالبہ کی حمائت کر دیں گے جس کے بعد مسلم لیگ (ن) دیگر سیاسی جماعتوں سے مل کر تحریک چلائے گی اور اس تحریک کی قیادت شہباز شریف کریں گے اور مولانا کی حیثیت ایک ثانوی رہ جائے گی اس خوف کے باعث مولانا فضل الرحمن اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر پائے دو کشتیوں کے سوار بن کر رہ گئے ہیں جس کا مقدر پانی برد ہونا ہے۔ مولانا کے سیاسی شو کی اہم بات بھارتی میڈیا میں نمایاں کوریج ہے، بھارتی میڈیا نے کبھی پاکستان میں سیاسی سرگرمیوں کی اس انداز سے کوریج نہیں دی مگر چونکہ عمران خان مودی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بات کر رہے ہیں اور کشمیر ایشو کو عالمی سطح پر نمایاں کر رہے ہیں، ان حالات میں مولانا فضل الرحمن کا مارچ، دھرنا، استعفیٰ کا مطالبہ بھارت کو تقویت دیتا ہے اورپاکستانی موقف کو کمزور کرتا ہے جس کے باعث بھارت کا میڈیا مولانا کو ایک بھارت نواز سیاستدان کے طور پر پیش کر رہا ہے اس بات میں کوئی شک و شبہ بھی نہیں کہ مولانا کی جماعت قیام پاکستان سے پہلے سے ہی پاکستان کی مخالف اور بھارت کی حامی رہی، جمعیت العلماء ہند کا تحریک پاکستان میں بھی کوئی کردار نہیں ہے، کشمیر کو بھی مدرسہ دیوبند کے ذمہ دار بھارت کا داخلی معاملہ قرار دیتے ہیں اس حوالے سے ہمیشہ پاکستانی موقف کی مخالفت کی گئی اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی کبھی مذمت بھی کبھی نہیں کی۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ موجودہ تحریک کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے قیادت بارہویں کھلاڑی سے شہباز شریف کو منتقل کی جائے، ان کو مختلف الخیال سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں کو ایک میز پر بٹھانے کا گر آتا ہے، شہباز شریف کو اسٹیبلشمنٹ میں بھی اہمیت دی جاتی ہے اور وہی اس تحریک کو تشدد اور تصادم کی طرف جانے سے روک بھی سکتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم