کشمیریوں کے خلاف بھارتی بے رحمی و سفاکی

کشمیریوں کے خلاف بھارتی بے رحمی و سفاکی
کشمیریوں کے خلاف بھارتی بے رحمی و سفاکی

  



مقبوضہ وادی میں پیلٹ گنز استعمال کرکے کشمیریوں کو بصارت سے محروم کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ وادی میں ہزاروں افراد کے شہید ہونے کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ نابینا اورمعذور ہوئے ہیں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ہے کہ بھارتی فوجی پیلٹ گنز کو مہلک ہتھیار نہیں سمجھتے اور اس کا بے دریغ نہتے عوام کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔ نومبر 2018ء میں شوپیاں کے علاقے میں 20ماہ کی معصوم حبا کو پیلٹ گن کا نشانہ بنایاگیا۔ آپریشن کے باوجود یہ ننھی پری حبا اپنی دائیں آنکھ کا نور کھو چکی ہے۔ کٹھوعہ کی 8سالہ معصوم آصفہ بانو کو کون بھول سکتا ہے؟ جسے اغوا کرکے اجتماعی بے حرمتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر بے رحمی سے قتل کردیا گیا۔ پیلٹ گنز کا شکار اننت ناگ سے تعلق رکھنے والے 5ویں جماعت کے طالبعلم 9سالہ آصف احمد شیخ کہتے ہیں کہ ٹی وی پر کارٹون دیکھنا، گلیوں میں دوسرے کے ساتھ کھیلنا، گھنٹوں تک کتابیں پڑھنا بس اب یہی خواب دیکھتا ہوں میں۔ بارہ مولا سے تعلق رکھنے والے دہم جماعت کے طالبعلم 17سالہ الفت حمید کہتے ہیں کہ میں اپنے گاؤں کی لڑکیوں کو سلائی اور ٹیلرنگ سکھاتا تھا، لیکن میرے زخموں کی وجہ سے اب ایسا نہیں ہے، میں اپنے کلاس 10کے بورڈ امتحان میں لکھ تک نہیں سکا'۔ ایسی ہی کچھ کہانی بارہ مولا کے ایک اور 17سالہ طالبعلم بلال احمد بھٹ کی ہے جو کہتے ہیں کہ جب میں سری نگر کے ہسپتال میں گیا تو وہاں بہت لوگ تھے اور ڈاکٹرز نے مجھے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ ان کے پاس بستر موجود نہیں۔ یہ صرف ان 3بچوں کی کہانی نہیں بلکہ یہ ان ہزاروں کشمیریوں میں شامل ہیں جنہیں مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ سے اندھا کردیا گیا، درجنوں نے اپنی جانیں گنوادیں۔ان کی تصاویر ان 109صفحات پر مشتمل کتاب میں شامل ہیں جو ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے بین الاقوامی برادری کی توجہ ظالمانہ طرز عمل کی طرف مبذول کروانے کے لئے شائع کی گئی۔ یہ کتاب واشنگٹن میں پاکستانی سفارتحانے میں دکھائی جانے والی متعدد نمائش میں شامل تھی۔ پیلٹ گن کے متاثرین کی ان تصاویر نے دنیا کو دنگ کردیا اور عالمی سطح پر مذمت نے بھارت کو یہ دعوی کرنے پر مجبور کردیا کہ اس نے اپنی فوج کو ان بندوقوں کے استعمال نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم کشمیریوں کا کہنا ہے کہ خاص طور پر 5اگست کے بھارت کے غیرقانونی اقدام کے بعد سے بھارتی سیکیورٹی فورسز پیلٹ گنز کا استعمال کر رہی ہیں۔

یہ بھارتی بے رحمی اور سفاکی کی محض ایک مثال ہے جس کے پس پردہ سنگین جرائم کا پورا سمندر چھپا ہے۔ بھارتی فوج کو سیاہ قوانین کے ذریعے کشمیریوں کے قتل عام کا لائسنس دیا گیا ہے۔ بھارت نے کسی ایک اہلکار کو جنگی جرائم اورانسانیت سوز مظالم پر سزا نہیں دی۔ انسانیت سوز مظالم پر عالمی برادری کی خاموشی سے مظلوم اور نہتے کشمیریوں کا کیا پیغام جارہا ہے؟ اس پر مہذب دنیا کو سوچنا ہوگا۔ عالمی برادری کی جانب سے کارروائی نہ ہونے سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کیا اور اسے فولادی پردے میں چھپا رکھا ہے۔ اس فولادی پردے کے پیچھے بھارت کے انسانیت کے خلاف جرائم چھپے ہوئے ہیں۔ بھارت کے نزدیک حق آزادی کی بات کرنے والا ہر کشمیری دہشت گردی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی جان، عزت وآبرو اپنے معنی واہمیت کھوچکی ہے۔ وادی چنار میں گھر گھر تلاشیوں اور چھاپوں کے نام پر چادر اور چہار دیواری کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے، لیکن بھارتی ظلم وبربریت کا کوئی ہتھکنڈا بہادر کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو سرد نہیں کرسکا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم مودی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آرٹیکلز 35Aاور370کا خاتمہ کر کے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے احتجاج پر بھارتی مظالم، کرفیو، ظلم و ستم اور مہلک ہتھیاروں کے استعمال نے مہذب معاشرے میں بھارت کو جہاں تنہا کردیا وہیں مقبوضہ جموں و کشمیر کے معصوم عوام کو اپنے حق آزادی کے قریب کردیا۔ بلاشبہ پاکستان کی جانب سے بھرپور سفارتی محاذ پر لابنگ اور گزشتہ پانچ دہائیوں میں پہلی بارUNOکا کشمیر ایشو پر ہنگامی اجلاس بھارت کو سفارتی محاذ پر شکست اور پاکستان کی کامیابی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ وہاں ظلم و تشدد کی نئی لہر اور گرفتاریوں سے جیلیں کم پڑگئی ہیں، عوام کا جینا دوبھر کردیا۔ پوری دنیا میں مسئلہ کشمیر ایک فلش پوائنٹ بن چکا ہے۔ بھارت اپنے روایتی مظالم سے بری طرح عالمی سطح پر بے نقاب ہوچکا ہے۔ جس شدت سے مظالم بڑھ رہے ہیں مسئلہ کشمیر اسی رفتار سے اجاگر ہورہا ہے۔ کشمیری اپنا حق خود ارادیت حاصل کرکے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں صحافت کا گلا گھونٹا جارہا ہے۔ چند دنوں میں دو صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے۔ عالمی برادری وہاں پر نافذ کرفیو ختم کروا کر مبصرین اور امدادی اداروں کی رسائی کو یقینی بنائے تاکہ دنیا اصل حقائق سے آگاہ ہوسکے۔

ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں 1989ء سیاب تک ایک لاکھ شہادتیں ہوچکی ہیں۔ مقبوضہ کشمیرمیں 3 دہائیوں میں 11 ہزار خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ ہماری کوشش ہے کہ کشمیر یوں کی حق خودارادیت کی 72سالہ جدوجہد کو اجاگر کیا جائے۔ دنیا کو تنازعہ کشمیرکی سنگینی سے متعلق بار بار باورکرایا جائے۔ 5 اگست کے بعد لاکھوں کشمیریوں کے انسانی حقوق غصب کرکے محصورکر دیا گیا ہے۔ کشمیریوں کو خوراک، ادویات، بنیادی ضروریات اورسہولیات میسر نہیں ہیں۔ لاکھوں کشمیریوں پر جاری ظلم سے بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ گزشتہ 30 سالوں کے دوران 22 ہزار خواتین بیوہ ہوئیں۔ بھارتی ریاستی دہشت گردی سے لاکھوں بچے یتیم ہوچکے۔ ایک لاکھ نو ہزار سے زائد گھر مسمارو نذرآتش کیے گئے ہیں۔ وادی میں ایسی خواتین کی بڑی تعداد موجود ہے جن کے نوبیاہتا شوہروں کو بھارتی افواج نے لاپتہ کردیا اور تاحال ان کا علم نہیں ہے۔ جنسی تشدد کو بھارتی افواج ظلم کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ اس طرح وہ تحریک آزادی کو کچلنا چاہتی ہے۔ کونان اور پوش پورہ کے دیہات میں 23 فروری 1991ء کی سرد رات جو ظلم ہوا اسے کشمیری عوام آج تک نہیں بھلا سکے ہیں۔ اس کو انسانیت بھی نہیں بھلا سکے گی۔ محاصرے کے نام پر100 خواتین کو بے آبرو کرنے کا قابل مذمت ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں نسلیں خوف کے سائے اورتشدد کے ماحول میں پل کر جوان ہورہی ہیں۔

مزید : رائے /کالم