روئی کا بھاؤ فی من 10ہزار روپے کی بلند سطح تک پہنچ گیا

روئی کا بھاؤ فی من 10ہزار روپے کی بلند سطح تک پہنچ گیا

  



کراچی(این این آئی)مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران ٹیکسٹائل ملز کی روئی کی خریداری میں اضافے کے سبب اعلی کوالٹی کی روئی کے بھاؤمیں فی من300روپے کا نمایاں اضافہ ہوا اسی طرح اچھی پھٹی کا بھاؤ بھی بڑھ گیافی40کلو5000روپے کی بلند سطح پر پہنچ گیا کاروباری حجم میں کمی پیشی ہوتی رہی نسبتاً حجم میں اضافہ رہا  اعلی کوالٹی کی روئی ڈیرہ غازی خان کے علاقے میں ہونے والی بلوچی کاٹن اور ڈھرکی اور گھوٹکی کے علاقے کی پرائم مارک کاٹن کا بھاؤ فی من 9900تا10000روپے کی گزشتہ 9 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا  اس سے قبل2010-11کی سیزن میں  روئی کا بھاؤ فی من14000روپے  کاٹن کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا اس وقت دنیا بھر میں روئی کے بھاؤ میں تاریخی اضافہ ہوا تھا چین کی جانب سے روئی اور سونے کی طلب میں زبردست اضافے کی وجہ سے نیویارک کاٹن کے وعدے کے بھاؤ میں کاٹن کی تاریخ میں بڑھ کر فی پاؤنڈ2.19امریکن ڈالرکی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا  اسی طرح سونے کا بھاؤ  بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا صوبہ سندھ میں روئی کا بھاؤ کوالٹی کے حساب سے فی من 7800تا9750جبکہ اعلی کوالٹی کی روئی فی من 10000 روپے کے بھاؤ پر فروخت ہوئیں جبکہ پھٹی کا بھاؤ فی40 کلو 3600 تا 4700 روپے رہا۔صوبہ پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی من9000 تا9750 اعلی کوالٹی بلوچی کاٹن10000 روپے میں فروخت ہوئی پھٹی کا بھاؤ3800 تا4800 روپے رہا۔صوبہ بلوچستان میں  روئی کا بھاؤ فی من 8800تا 9500روپے رہا جبکہ پھٹی کا بھاؤ 4200 تا 5000 روپے رہا اسی طرح ملک میں بنولہ کھل اور تیل کے بھاؤ میں بھی اضافہ ہوا۔کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 200 روپے کا اضافہ کر کے اسپاٹ ریٹ فی من 9400 روپے کے بھاؤ پر بند کیا۔کراچی کاٹن بروکرزفورم کے  چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ بے وقتی طوفانی بارشوں اور اور شدید گرمی کے سبب روئی کی پیداوار متاثر ہوئی علاوہ ازیں کھڑی فصل پر کئی اقسام کی سنڈیوں، سفید مکھی،گلابی مکھی وائرس  وغیرہ نے حملہ کردیا جس کے باعث فصل کو خاطرخواہ نقصان ہوا کاٹن کے سیزن کی ابتدا میں حکومت نے کپاس کی پیداوار کا ہدف ایک کروڑ 50 لاکھ گانٹھوں کا مقرر کیا تھا لیکن شدید نقصان کے باعث کاٹن کراپ اسسمنٹ کمیٹی نے پیداوار میں 48لاکھ گانٹھوں کی نمایاں کمی کرکے نیا تخمینہ ایک کڑوردولاکھ گانٹھوں کا مقررکیا ہے اسی طرح کپاس کی پیداوار اولین تخمینہ سے تقریبا50لاکھ گانٹھیں 33 فیصد کم ہوئی ہے گو کہ ماہرین کا اندازہ ہے کہ پیداوار 90 لاکھ گانٹھوں کے  لگ بھگ  ہوگی۔

 نسیم عثمان نے بتایا کہ مقامی ٹیکسٹائل ملز کی ضرورت تقریباً 1 کروڑ 45 لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ  ہے اس طرح بیرون ممالک سے تقریبا ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کی قیمت کی تقریبا50 لاکھ گانٹھیں درآمد کرنی پڑے گی اس طرح پاکستان کی زبو حال معیشت کو زبردست دھچکا لگے گا تاہم کپاس کے درآمد کنندگان کے مطابق فی الحال بیرون ممالک سے خصوصی طور پر امریکہ، برازیل، افریقن ممالک، وسطی ایشیا کے ممالک وغیرہ سے تقریباً 28 لاکھ گانٹھوں کے درآمدی معاہدے ہو چکے ہیں جبکہ یہ سلسلہ جاری ہے ملک میں 15نومبر تک اچھی کوالٹی کی روئی دستیاب ہونے کی توقع ہے اس وجہ سے  ٹیکسٹائل ملز مالکان  گھبراہٹ کی وجہ سے اونچے  داموں روئی کی خریداری کرنے کے لیے لاچار ہیں  بعدازاں اخراجات میں زبردست اضافے کی وجہ سے اور درآمد کنندگان بیرونی ممالک سے  روئی کی درآمد کے لیے بینک ایل سی کھولنے لگے وہ رقم لگنے کی وجہ سے مارکیٹ میں پہلے ہی مالی بحران ہے اس میں مزید اضافہ ہوجائے گا اس وقت بھی کئی ملوں کی  بینک لمٹ برشت ہونے لگی ہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ ٹیکسٹائل ملز کو روئی اور یارن کی مد میں 17 فیصد سیلز  ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے جس کا ریفنڈ حاصل ہونے میں طویل مدت درکار ہوتی ہے۔نسیم عثمان نے بتایا بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں مجموعی طور پر ملا جلا رجحان کہا جاسکتا ہے نیویارک کاٹن کا بھاؤ ہفتہ وار برآمد میں کمی پیشی سے منسلک ہوتا اورUSDA کی حالیہ رپورٹ میں امریکن روئی کی برآمد گزشتہ ہفتہ کے نسبت 23 فیصد کم رہی اس رپورٹ میں بھی ترکی اور پاکستان نمایاں درآمد کنندگان رہے جبکہ انڈونیشیا نے 60 ہزار گانٹھیں منسوخ کر دیں علاوہ ازیں چلی میں ہونے والے چین، امریکہ کے اقتصادی تنازع  کی بات چیت ملتوی ہوگئی جس سے روئی کے بھاؤ میں کمی ہوئی جبکہ بھارت میں کپاس کی پیداوار میں اضافہ اور ٹیکسٹائل سیکٹر میں بحرانی کیفیت اور پاکستان اور بھارت کے مابین تجارتی لین دین پر پابندی کی وجہ سے بھی بھارت میں روئی کے بھاؤ میں تیزی کا رجحان برقرار رہا کیونکہ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان بھارت کی روئی کا بڑا درآمد کنندگان تھا چین میں روئی کے بھاؤ میں ملا جلا رجحان رہا  روئی کے بھاؤ میں بے تحاشا اضافے کے زیر اثر مقامی ٹیکسٹائل سیکٹر میں بھی مندی کا رجحان ہے۔کپاس کی تشویش ناک کم پیداوار کی سبب ایپٹما کے علاوہکراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے چیئرمین خواجہ محمد زبیر نے بھی  ایک بیان میں روئی کے ایمرجنسی نافذ کرنے اور درآمدی ڈیوٹی ختم کرنے کے مطالبہ کیا ہے

مزید : کامرس