پاک چین تعاون سے ملکی فصلات کی پیداوار میں بہتری آئے گی،سنٹرل کاٹن کمیٹی

پاک چین تعاون سے ملکی فصلات کی پیداوار میں بہتری آئے گی،سنٹرل کاٹن کمیٹی

  



ملتان (اے پی پی) یہ بات کاٹن کمشنر و نائب صدر پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی ڈاکٹر خالد عبد اللہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے گذشتہ سال چین کے دورہ میں اور سی پی ای سی کے پس منظر میں دو دوست ممالک کے مابین زراعت کے تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا، وزیر اعظم نے زراعت ایمرجنسی پروگرام کے اعلان کے بعد چین سے پاکستانی زراعت میں بہتری اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی کے لئے اپنی ملاقات میں زور دیا تھا جس کے نتیجے میں وزارت زراعت اور دیہی امور، چین اور وزارت برائے قومی فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ، پاکستان کے مابین چین - پاکستان جوائنٹ ورکنگ گروپ (جے ڈبلیو جی) قائم کیا جا چکا ہے جس کے تحت سی سی آر آئی میں چین کے تعاون سے سینٹر آف ایکسیلنس آن کاٹن ریسرچ کے قیام کی تجویز پیش کی گئی ہے جس سے نہ صرف دونوں ممالک کے زرعی سائنسدانوں کے مابین ہم آہنگی کو فروغ حاصل ہوگا بلکہ زرعی تحقیق میں بھی خاطر خواہ بہتری نظر آئے گی۔

یہ بات ڈاکٹر خالد عبد اللہ نے سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں وزرات زراعت ودیہی امور،چین کے گیارہ رکنی وفد میں شامل چینی زرعی محقق، سائنسدانوں اور وزارتوں کے اعلی عہدیداروں کے دورہ کے موقع پر کہی۔ڈا کٹر خالد عبد اللہ کا مزید کہنا تھا کہ زرعی تحقیقی میدان میں پاک چین تعاون سے ملکی فصلات کی پیداوار میں بہتری آئے گی۔اس موقع پر ڈاکٹر زاہد محمود،ڈائریکٹر، سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، ملتان نے چینی وفد کے ارکان کو خوش آمدید کہتے ہوئے ادارہ کے اغراض و مقاصد اور انسٹی ٹیوٹ کے مختلف شعبہ جات میں کی جانے والی تحقیق اور کپاس کی ملکی پیداوار کے اضافہ میں ادارا کے کردار سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ وفد کو مستقبل میں کیے جانے والے تحقیقی پروگرام اور موجودہ پتہ مروڑ بیماری کے بارے میں جاری تحقیقی کام سے بھی آگاہ کیا گیا اور بتایا کہ اس بیماری کے خلاف قوت مدافعت جنگلی کپاس کے پودوں سے منتقل کی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زرعی میدان میں پاک چائنا تعاون سے دونوں ملکوں کی فصلوں کی پیداوار میں بہتری آئے گی اورکپاس کی تحقیق میں چین کے تعاون سے موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹا جا سکے گابعداذاں ڈاکٹر زاہد محمود نے سی سی آر آئی کی تیار کردہ کپاس کی اقسام، ان کے ریشہ کی خصوصیات اور خصوصا قدرتی رنگدار کپاس کے متعلق مہمانوں کو آگاہ کیا۔ ڈاکٹر زاہد محمود کا کہناتھا ادارہ ہذا میں سینٹر آف ایکسیلنس آن کاٹن ریسرچ کے قیام سے کپاس کی تحقیق میں چین کے تعاون سے موسمیاتی تبدیلیوں اور کپاس کے دیگر چیلنجزکے منفی اثرات سے نمٹا جا سکے گ اس موقع پر وفد کے سربراہ وین وانہی نے کاٹن کمشنر ڈاکٹر خالد عبد اللہ اور انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر زاہد محمود کے تفصیلی بریفنگ دینے پر شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ چینی حکومت سائنس،ٹیکنالوجی اور زراعت کے شعبہ میں پاکستان کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھے گی اور چین پاکستانی زراعت کی بہتری کے لئے ہر ممکن تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی کو یقینی بنائے گا، ان کا مزید کہنا تھا پاک چین دوستی کو پوری دنیا میں سچی اور مخلص دوستی کا سلوگن تصور کیا جاتا ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور چین کپاس کے تحقیقی میدان میں نقصان دہ کیڑوں،سنڈیوں اور خصوصا کپاس کی پتہ مروڑ بیماری کے کنٹرول کے مختلف طریقوں پر ہونے والی تحقیق میں تعاون جاری رہے گا۔ وفد نے سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، ملتان کی مختلف لیباٹریوں، کاٹن جین پول، تجرباتی کھیتوں اور جنگلی کپاس کے کھیت کا بھی دورہ کیا اور انسٹی ٹیوٹ میں ہونے والے تحقیقاتی کام کوسراہا۔

مزید : کامرس