تاجر برادری معیشت کو دستاویزی صورت دینے کیخلاف نہیں:اشرف بھٹی

تاجر برادری معیشت کو دستاویزی صورت دینے کیخلاف نہیں:اشرف بھٹی

  



لاہور(لیڈی رپورٹر)آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اشرف بھٹی نے کہا ہے کہ تاجروں سمیت کوئی بھی شعبہ اصلاحات اور معیشت کو دستاویزی صورت دینے کے خلاف نہیں تاہم تباہ حال کاروبار پر مہم جوئی کی بجائے مرحلہ وار آگے بڑھنے کی ضرورت ہے،تاجروں سے مشاورت کے بغیر کیسے عالمی مالیاتی ادارے کی ٹیکسز اور دیگر شرائط کو پورا کرنے کی حامی بھرلی گئی،شناختی کارڈ کی شرط میں 31دسمبر تک توسیع کی گئی ہے،تاجروں کے معاملات کے حل کیلئے کمیٹی بنے گی۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے اپنے دفترمیں مختلف مارکیٹوں کے تاجررہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر محبوب سرکی، میاں طارق فیروز، محمد شہزادبھٹی،نعیم بادشاہ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔اشرف بھٹی نے کہاکہ تاجروں نے اپنے اتحاد سے ثابت کردیا ہے کہ وہ اپنے حقوق اور جائز مطالبات منوانے کیلئے متحد ہیں اور 29اور30اکتوبر کی کامیاب ملک گیر ہڑتال اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تاجر کی دکان پر ٹیکس دینے کا اعلان ایف بی آر نہیں تاجروں کی کمیٹی کرے گی جو دکان ایک ہزار مربہ سکیئر فٹ میں ہو گی وہ سیلز ٹیکس دے گی۔ ہم نے ہر طرح کا کاروبار کرنے والے تاجروں کی بات کی ہے اور ان کے مطالبات کا دفاع کیاہے۔انہوں نے کہا کہ شناختی کارڈ کی شرط میں 31دسمبر تک توسیع کی گئی ہے، تاجروں نے کہا تو دوبارہ حکومت کے پاس جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ عالمی مالیاتی ادارے کی کڑی شرائط کو پورا کرنے کے لئے معیشت کا اپنے ہاتھوں سے دیوالیہ نکال دیا جائے۔ حکومت قرض کے حصول کیلئے آنکھیں بند کر کے شرائط ماننے کی بجائے مشاورت کرے اور تاجروں سمیت جن شعبوں پر بوجھ ڈالنا ہے کم از کم انہیں تو پیشگی اعتماد میں لے۔ ملک میں کاروبار کرنے والا طبقہ با شعور ہے،کوئی بھی اصلاحات اور معیشت کو دستاویزی صورت دینے کے خلاف نہیں لیکن موجودہ حالات میں مہم جوئی سے گریز کیا۔

مزید : کامرس