محترم جناح اور بیگم محترم جناح

محترم جناح اور بیگم محترم جناح

  



قائدِ اعظم محمد علی جناح جنہوں نے اپنی سیاسی دانشمندی اور فکری بصیرت سے مسلمانان ہند کو اپنی منزل تک پہنچایا اور ملکِ خداداد پاکستان حاصل کیا۔ ان کی ازدواجی زندگی ابھی تک عوام الناس میں زیرِ بحث ہے۔ شیلا ریڈی کی کتاب ”مسٹر اینڈ مسز جناح“ قائدِ اعظم کی رومانوی زندگی پر تحقیق کے بعد کچھ پردے اٹھاتی ہے۔ محترم محمد علی جناح کی شادی کی ابتداء کیسے ہوئی اور کس طرح یہ المناک طور پر اختتام پذیر ہوئی۔ شیلا ریڈی کی تحقیق زیادہ تر رُتی جناح جن کا بعد میں اسلامی نام مریم جناح رکھا گیا، کے خطوط سے اخذ کردہ ہے۔ یہ کتاب تین حصوں پر مشتمل ہے۔ رومانوی داستان کا آغاز۔ محترم جناح کی شادی، شادی شدہ زندگی اور بیگم جناح کا افسردگی اور تنہائی کا شکارہوکر محض 29سال کی عمر میں انتقال۔

محترم جناح کی کہانی کی شروعات بیرسٹری کی ڈگری لے کر لندن سے واپس لوٹنے سے ہوتی ہے۔ وہ خود اعتمادی اور کامیابی کی ایک تصویر تھے۔ وہ خوبصورت، جوان اور انتہائی خوش لباس انسان تھے۔ رُتی پٹیٹ ایک دولتمند پارسی سر ڈنشا پٹیٹ کی بیٹی تھیں۔ یہ ایک شاہی جیسا خاندان تھا۔ یہ خاندان تجارت اور سیاست میں بڑا نامور تھا۔ رُتی اس خاندان کی لاڈ اور پیار میں پلی ہوئی امیر زادی تھیں جنہیں خادماؤں نے پالا تھا۔ رُتی بائی مغربی لباس زیبِ تن کرتی تھیں اور انگریزی ادب کی شائق تھیں خصوصا رومانوی ناول اور شاعری شوق سے پڑھتی تھیں۔ رُتی کو ملکی سیاست کا بھی گہرا ادراک تھا۔ وہ ہندوستان کی آزادی کے لئے بڑا واضح نقطہء نظر رکھتی تھیں۔ ابتدائی طور پر محترم جناح سر ڈنشا پٹیٹ کے دوست تھے۔ رُتی جناح اور محترم جناح کی پہلی ملاقات پونا میں ہوئی جہاں یہ دونوں تعطیلات گزارنے گئے تھے یہ پہلی نظر کی محبت تھی۔ رُتی محترم جناح کی خود اعتمادی اور ذہین شخصیت کو دیکھ کر مبہوت رہ گئیں۔ رُتی کو محترم جناح کا کردار اور قابلیت پسند تھی جبکہ محترم جناح کو رُتی کی زندگی سے بھرپور، شوخ اور پر اعتماد طبیعت پسند آئی۔ شاید رُتی کی شخصیت میں وہ تمام چیزیں تھیں جو محترم جناح کی شخصیت میں مفقود تھیں۔یہ دونوں ایک دوسرے کو چاہنے لگے جبکہ صورتحال یہ تھی کہ محترم جناح رُتی کے والد سے محض 3سال چھوٹے تھے، رُتی 16سال کی جبکہ محترم جناح 40سال کے ہو چکے تھے۔ قائدِ اعظم ایک مسلمان وکیل کی حیثیت سے نام پیدا کر چکے تھے جبکہ رُتی کا خاندان ایک طرح سے پارسی شاہی خاندان تھا۔

محترم جناح نے سر ڈنشا پٹیٹ سے باقاعدہ رشتہ طلب کیا جنہوں نے نا صرف انکار کر دیا بلکہ عدالت کے ذریعے محترم جناح کو اپنے خاندان سے دور رکھنے کے احکامات بھی حاصل کر لئے۔ رُتی اس ہنگامے سے متاثر ہونے کی بجائے محبت میں پختہ تر ہو گئیں۔ رُتی جب 18سال کی ہو گئیں تو وہ اپنے امیرانہ ٹھاٹھ باٹھ کو خیر باد کہتے ہوئے اپنا کتا اور چھتری لے کر قائدِ اعظم کے گھر تشریف لے آئیں۔ اس واقعہ کے بعد محترم جناح کو غیر مسلموں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی جانب سے شدید ردِ عمل کا سامنا کرنا پڑا، اُدھر رُتی نے اسلام قبول کر لیا جن کا اسلامی نام مریم رکھا گیا۔ 1914ء میں ان کی شادی ہو گئی۔ یہ شادی پورے ہندوستان کے لئے دھچکے سے کم نہ تھی۔ مسٹر ڈنشا پٹیٹ نے جب یہ خبر اخبار میں پڑھی تو وہ بے ہوش ہو گئے۔ بعد ازاں انہوں نے پولیس میں مقدمہ درج کروایا کہ محترم جناح نے ان کی بیٹی کو اغواء کیا ہے۔”محترم جناح نے مجھے اغوا نہیں کیا بلکہ میں نے محترم جناح کو اغواء کیا ہے“، رُتی نے مجسٹریٹ کے روبرو یہ بیان دے کر ایک فقرے میں اس مقدمہ کو ختم کروا دیا۔ محترم جناح کو ہر طرف سے تنقید کا سامنا تھا اور تو اور محترم جناح کی عزیز ترین بہن محترمہ فاطمہ جناح بھی اس شادی کی مخالف تھیں، شاید یہی وجہ تھی کہ رُتی نے کبھی بھی محترم جناح کے خاندان کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا۔ رُتی نے اسلام تو قبول کر لیا لیکن ان کی حساسیت اور بچپنا کبھی نہ گیا۔ وہ سیاست میں بھی حصہ لیتی رہیں، لیکن اپنے انداز سے۔ رُتی نے جلسے جلوسوں میں شرکت کی، سیاسی تحریکوں کا حصہ بنیں اور ہر مشکل موقع پر محترم جناح کے ساتھ کھڑی ہوئی نظر آئیں۔ وہ برطانوی سامراج اور نو آبادیاتی حاکمیت کے سخت خلاف تھیں۔ اس رویئے کی وجہ سے انہیں برطانوی حکمرانوں نے اپنی تقریبات میں مدعو کرنا ترک کر دیا۔ ایک مسلمان سے شادی کرنے کی وجہ سے وہ اپنے پارسی خاندان اور دوستوں سے بھی کٹ کر رہ گئیں۔ رُتی نے قائدِ اعظم کی محبت اور توجہ حاصل کرنے کے لئے ہر چیز قربان کر دی۔

یہ وہ زمانہ تھا جب محترم جناح اپنے قانونی کیرئیر اور سیاسی منزلوں کی طرف فوکس کرتے ہوئے گہری یکسوئی کے ساتھ عازمِ سفر تھے، ایسے میں بیگم جناح نے اپنے آپ کو تنہا پایا، ان دونوں نے سوچا کہ شاید ایک بچے کی پیدائش انہیں جذباتی طور پر قریب لے آئے، لیکن محترم جناح جو صرف اپنی منزل کی جانب توجہ مرکوز کئے ہوئے کے پاس رُتی کے لئے وقت نہ تھا۔ رُتی نے محترم جناح کو اپنا سب کچھ سونپ دیا تھا لیکن محترم جناح کے پاس سوائے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے جدوجہد کرنے کے اور کچھ نہ تھا۔ قائدِ اعظم ایک مضبوط شخصیت کے مالک تھے جو صرف قانون، قاعدے، اصولوں اور منطق کو حقیقی سمجھتے تھے۔ رُتی نے اپنے خطوط میں کہیں کہیں قائدِ اعظم پر سرد مہری کا الزام لگایا ہے۔ رُتی اور قائدِ اعظم مجموعہءِ اضداد تھے جسے رُتی کا معصوم ذہن سمجھنے سے قاصر رہا۔ جلد ہی اس شادی میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئیں۔ رُتی گہری افسردگی کا شکار ہوتی چلی گئیں اور اس کے لئے انہوں نے ادویات کا سہارا لینا شروع کر دیا۔ اعلیٰ سوسائٹی کے سماجی حلقے کراچی بمبئی اور دہلی میں ہر طرح کی تفریحات سے بھرپور تھے، لیکن یہ شادی ان سرگرمیوں کی متحمل نہیں ہو سکی۔کیونکہ محترم جناح کو ان خرافات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور وہ صرف پاکستان کی آزادی پر توجہ مرکوز کئے ہوئے تھے۔ رُتی کی ذہنی حالت بگڑتی چلی گئی۔ محترم جناح کو یہ شادی اور ہر طرح کے ذاتی تعلقات ان کے عظیم مقصد سے نگاہیں ہٹانے پر مجبور نہیں کر سکے۔ جیسے ہی 1920ء میں مذہبی فسادات پھوٹے محترم جناح کے ہاتھ میں مسلمانوں کی رہنمائی مرکوز ہوتی چلی گئی۔ رُتی ایک گرمجوش شخصیت کی مالک تھیں اور وہ چاہتی تھیں کہ ان کے دلکش اور شاندار خاوند اس زندگی کا حصہ بن جائیں جو وہ چاہتی تھیں۔ وہ اپنی زندگی محبت اور رومانویت میں گزارنا چاہتی تھیں ظاہر ہے ان جذبوں کے لیے محترم جناح جو تاریخ کا ایک بہت بڑا کردار نبھانے میں مصروف تھے کے پاس وقت نہ تھا۔10سالوں کی اس افسردہ ازدواجی زندگی کا ناطہ ٹوٹنے لگا۔ رُتی نے اپنی بیٹی دینا کی بھی پرواہ نہیں کی۔ محترم جناح کو اس بچی کو لندن کے ایک بورڈنگ سکول میں داخل کروانا پڑا۔ رُتی پیرس کے ایک ہسپتال میں شدید بیمار تھیں جب قائدِ اعظم اس ہسپتال میں گئے لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ سروجنی نائیڈو کو لکھے گئے بے شمار خطوط میں رُتی اپنی تنہائی کا ذکر کرتی رہیں۔ آخر کار 20فروری کوانہوں نے اپنی سالگرہ کے دن محض 29سال کی عمر میں خواب آور گولیا ں کھا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ رُتی کو قائدِ اعظم کے اصرار پر خوجہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا گیا جہاں اپنی زندگی میں پہلی اور آخری بار محترم جناح پھوٹ پھوٹ کر رو دیئے۔ محترم جناح کو قائدِ اعظم بنانے کیلئے ایک طرح سے رُتی بائی یا مریم جناح نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح کی ازدواجی زندگی انکے فوکسڈ، پر عزم اور بلند مقاصد کیلئے سب کچھ قربان کر دینے کے عزم کی ایک روشن دلیل ہے۔

مزید : رائے /کالم