پیپلز پارٹی،مسلم لیگ (ن) نے طویل دھرنے،ڈی چوک جانے،حکومت سے معاہدہ توڑنے کی مخالفت کردی،رہبر کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی

  پیپلز پارٹی،مسلم لیگ (ن) نے طویل دھرنے،ڈی چوک جانے،حکومت سے معاہدہ توڑنے ...

  



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ کے حوالے سے اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔  (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی نے طویل  دھرنے،ڈی چوک جانے یا حکومت سے معاہدہ توڑنے کی بھی مخالفت کر دی، ذرائع کے مطابق آزادی مارچ میں شریک جماعتوں کی رہبر کمیٹی کے اجلاس میں ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) نے احتجاج کے دوران دھرنا دینے کی مخالفت کر دی۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے شرکاء نے اسلام آباد کے ایچ 9 گراؤنڈ میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمان کی وزیراعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن آج ختم ہورہی ہے۔ اس صورتحال میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے اپوزیشن کی 9 جماعتوں پر مشتمل رہبر کمیٹی بھی سر جوڑ کر بیٹھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی نے دھرنے کی مخالفت کی اور جے یو آئی (ف) انہیں اس حوالے سے قائل کرنے میں ناکام رہی۔ذرائع نے بتایا کہ بڑی سیاسی جماعتوں نے ڈی چوک جانے یا حکومت سے معاہدہ توڑنے کی بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے کا فیصلہ جے یو آئی کا ہوگا۔اس پر جے یو آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ ہمارا دھرنا مزید کچھ دن جاری رہے گا اور اس دوران رہبر کمیٹی اور قائدین رابطے میں رہیں گے۔ رہبر کمیٹی نے پارلیمنٹ سے اجتماعی استعفوں کی تجویز بھی پیش کردی،   ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں نے ریڈزون جا کرافراتفری پیدا کرنے کی بھی مخالفت کی۔ذرائع کے مطابق دونوں بڑی پارٹیوں نے موقف اختیار کیا کہ دھرنا دینے کا فیصلہ اپوزیشن جماعتوں کا نہیں ہے۔اجلاس کے دوران مولانا فضل الرحمن کی پارٹی جے یو آئی (ف) نے دھرنا کچھ دن جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ تمام جماعتوں کے ممبران رہبرکمیٹی کی تجاویزقائدین کو پیش کریں گے۔

  اندرونی کہانی 

مزید : صفحہ اول