مسائل کا حل دین اسلام کی مکمل پیروی میں ہے،ہم کامیابی کیلئے دنیا کے آگے جھک رہے ہیں:علماء کرام

مسائل کا حل دین اسلام کی مکمل پیروی میں ہے،ہم کامیابی کیلئے دنیا کے آگے جھک ...

  



رائے ونڈ (این این آئی) عالمی اجتماع کے دوسرے روز شرکاء کی تعداد 5لاکھ سے تجاوز کرگئی،عالمی تبلیغی اجتماع کی مختلف نشستوں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالرحمان آف ممبئی،مولانا ربیع الحق،مولانا محمد فاروق،مولانا محمد ابراہیم اوردیگرنے کہا ہے کہ حضو راکرم ؐ کی نبوت کے بعد امت کو مسائل کا آسان حل مل گیا ہے اسکے باجود امت نجات اور فلاح کیلئے رب کو چھوڑ کر سبب پر یقین کئے ہوئے ہیں،ایمان اور یقین کی دعوت کو عام کرنا ہوگا،اللہ سے ٹوٹے ہوئے تعلق کو جوڑنے کیلئے تبلیغ اور دعوت کو اپنانا ہو گا،ساری کائنات کی بھلائی اور خیر خواہی کی تڑپ پیدا کرنا تبلیغی جماعت کا مشن ہے،کامیابی اور کامرانی کیلئے ہم دنیا کے آگے جھک رہے ہیں، اپنے عظیم خالق اور مالک کو ناراض کرکے تمام مصیبتیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں،اس ناراض رب کو رات کی تاریکیوں میں رو رو کر منانا ہے، مسائل کا حل ہمارے پاس ساڑھے چودہ سوسال قبل آقائے کائنات ؐدیکر گئے ہیں، تاجر اپنی تجارت،کسان اپنی زراعت،ملازم اپنی ملازمت شریعت کے مطابق کرے تو اللہ رب العزت کے انعامات کی برسات ہوگی زندگی آسان ہو جائیگی۔ دین کے تمام تقاضوں کیساتھ اپنے فرائض سرانجام دینا ہونگے تبھی ہمیں اللہ کا قرب حاصل ہو گا اللہ کا بندہ بن کر جینا سیکھ لیا تو آسانی ہوگی آج کا مسلمان بیمار ہو چکا ہے اسکا ایمانی پریشر کم ہو گیا ہے جسکی وجہ سے بے دینی پھیل رہی ہے،گھروں سے برکتیں اٹھ گئی ہیں، ماحول ناساز ہوگئے ہیں اولادیں نافرمان ہو چکی ہیں، رزق کی فراوانی کے باجود دلوں کو سکون اور اطمینان نہیں،ان تمام بیماریوں اور مسائل کا حل دین اسلام کی مکمل پیروی اور سرور کائنات ؐ کے فرمان میں مضمر ہے نجات اور فلاح کا راستہ ہمارے پاس ہیں اسکے باجود ہم جگہ جگہ دربدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں،دین اسلام کی مکمل تابعداری اپنی خواہشات کا خاتمہ کرکے اللہ کے احکامات کے مطابق چلنے سے خوشحالی کی راہیں کھلیں گی۔ اللہ رب العزت نے آقائے کائنات ؐکی امت کو رابطے کیلئے نماز عطا کی ہے تاکہ اللہ سے قرب کا سلسلہ منقطع نہ ہو اللہ کے دربار میں حاضری کا نام نماز ہے نماز کے ذریعے اپنی حاجات اللہ کے سامنے پیش کرنی ہیں راتوں کا قیام دن کی محنت سے دعوت کا کام کھڑا ہوگا۔مساجد میں دل لگائیں مساجد کو آباد کریں دین کی آبیاری اور فروغ کیلئے مساجد نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ صحابہ اکرام نے مساجد میں زیادہ وقت گزارا اپنے اعمال کو مساجد میں ٹھیک کیا پھر اپنے دلوں میں پیدا دین کی تڑپ کو پوری دنیا میں پھیلانے کیلئے اپنا تن من دھن قربان کیا۔

علماء کرام

مزید : صفحہ اول