سموگ سے آنکھوں،گلے کی الرجی عام،ہزاروں شہری متاثر،بچاؤ کا واحد حل احتیاطی تدابیر ہیں:طبی ماہرین

سموگ سے آنکھوں،گلے کی الرجی عام،ہزاروں شہری متاثر،بچاؤ کا واحد حل احتیاطی ...

  



لاہور(جاوید اقبال)پنجاب بھر سمیت لاہور شہرمیں سموگ کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے جس کے باعث آنکھوں اور گلے کی الرجی اور خرابی کے ہزاروں کیسزسامنے آرہے ہیں تاہم سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔دوسری طرف پہلے سے سانس کے امراض میں مبتلاء مر یضوں کو ماہرین صحت نے منہ پر ماسک لگا کر کھلی فضاء میں آنے کی ہدایات جاری کیں ہیں۔ماہرین نے کہا ہے کمزور قوت مدافت رکھنے والے افرادمنہ ڈھانپ کر باہر نکلیں،گرم مشروبات کا استعمال کریں۔موٹر سائیکل سورا منہ ڈھانپ کر باہر نکلیں بتایا گیا ہے سموگ زیادہ ہو رہی ہے مجموعی طور پر ایئر کوالٹی انڈیکس 168 ریکارڈ کی گئی۔کچھ علاقوں میں سموگ کا انڈیکس پوائنٹس اوپر ہے، تفصیلات کے مطابق سنڈر انڈسٹریل سٹیٹ میں فضائی آلودگی 468 ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ بارڈر ایریا میں 339 اے کیو آئی پیما گیا۔اس حوالے سے میڈیکل سپیشلسٹ اور سربراہ داتا دربار میڈیکل یونٹ ڈاکٹرطلعت بھٹی سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا سموگ کی شدت میں کمی موسم سے منسلک ہے، لگ یہ رہا ہے کہ سموگ میں کمی بارش کے بعد ہی ممکن ہو گی،سموگ کے باعث پھیپڑوں اور سانس کے امراض میں خوفناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے الرجی کے کیسز میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اس سے بچاؤ کا واحدحل حفاظتی تدابیر اختیار کرنے سے ممکن ہے۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر امراض چشم ڈاکٹر عبدالحمیدایم ایس داتا دربار آئی ہسپتال اورآئی سرجن ڈاکٹر جاوید اقبال ملک نے کہا سموگ کی شد ت میں اضافے کی وجہ سے اشوب چشم،آنکھوں کی الرجی و خارش اور انفیکشن اور جلن میں مبتلا ہونے کے مریض سامنے آرہے ہیں۔ اس سے بینائی اور انکھوں کے پردے بھی متاثر ہو سکتے ہیں لہٰذا کھلی فضاء میں پھرنے والے افراد دن کو کالی اور رات کو سفید عینک استعمال کریں، دن میں دو سے تین مرتبہ آنکھوں میں صاف پانی کی چھنٹیں بھی ماریں۔کنسلٹنٹ پتھالوجسٹ ڈاکٹر رومانہ امتیاز نے کہا سموگ ایک فضائی الودگی ہے اس سے بچاؤ کیلئے دنیا میں جو انتظامات کئے جاتے ہیں وہ یہاں بھی کرنیکی ضرورت ہے اس کیلئے حکومتی سطح پر اقدامات کئے جانے چاہیں۔چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر گل زمان خان نے کہا بچے سموگ سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں انہیں سموگ سے بچانے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔

سموگ، احتیاطی تدابیر

مزید : صفحہ آخر