ذہنی مسائل کے سبب میکسویل کا کچھ عرصے کرکٹ سے دور رہنے کا اعلان

ذہنی مسائل کے سبب میکسویل کا کچھ عرصے کرکٹ سے دور رہنے کا اعلان

  



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) جارح مزاج آسٹریلین آل راؤنڈر گلین میکس ویل نے پاکستان کے خلاف ٹی20 سیریز سے چند دن قبل اپنے ذہنی مسائل کے سبب غیرمعینہ مدت تک کے لیے کرکٹ سے دور رہنے کا اعلان کردیا۔میکسویل نے حال ہی میں سری لنکا کے خلاف دو ٹی20 میچوں میں شرکت کی تھی اور ایڈیلیڈ میں کھیلے گئے میچ میں جارحانہ نصف سنچری بھی اسکور کی تھی لیکن اب انہوں نے کرکٹ سے کچھ عرصہ تک دور رہنے کا اعلان کردیا ہے۔سری لنکا کے خلاف ٹی20 سیریز کے تیسرے میچ کے لیے ڈی آر سی شارٹ کو آسٹریلین اسکواڈ میں شامل کر لیا گیا ہے اور ممکنہ طور پر پاکستان کے خلاف ٹی20 سیریز میں بھی وہ ہی میکسویل کی جگہ لیں گے۔آسٹریلین ٹیم کے ہیڈ کوچ جسٹن لینگر نے میکسویل کی کچھ عرصے تک کرکٹ کی سرگرمیوں سے علیحدگی اختیار کرنے کے معاملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 31سالہ جارح مزاج بلے باز کچھ عرصے سے صحیح معلوم نہیں ہو رہے تھے اور یہ واضح تھا کہ سب کچھ درست نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے ایڈیلیڈ میں سری لنکا کے خلاف پہلے ٹی20 میچ سے قبل میکسویل سے خود بات کی اور ان سے مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے مجھے دیانت داری کے ساتھ مسئلے سے آگاہ کردیا کہ وہ ٹھیک نہیں ہیں۔

سٹن لینگر نے کہا کہ میکسویل نے ایڈیلیڈ میں شاندار بیٹنگ کی جس کے لیے وہ شہرت رکھتے ہیں اور فیلڈنگ میں بھی وہ بہت متحرک نظر آئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے کھیل سے لطف اندوز نہیں ہو رہے۔جارح مزاج بلے باز اور ٹی20 لیگز میں ٹیموں کی اولین پسند تصور کیے جانے والے میکسویل نے سری لنکا کے خلاف 29 گیندوں پر 62 رنز کی اننگز کھیلی تھی جس کی بدولت ان کی ٹیم نے سری لنکا کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 134 رنز سے شکست دی تھی۔میکسویل کے مسائل کے باوجود عمدہ کارکردگی دکھانے سے متعلق سوال پر جسٹن لینگر نے کہا کہ ہم اکثر اپنے چہرے پر نقاب چڑھا لیتے ہیں اور میکسویل نے بھی ایسا ہی کیا اور اس سب کے باوجود وہ جس طرح کھیلے وہ ان کا بڑا ہتھیار ہے۔واضح رہے کہ حالیہ عرصے کے دوران کئی آسٹریلین کھلاڑیوں کے ذہنی مسائل پیش آ چکے ہیں جس کے سبب انہوں نے کھیل سے وقتی طور پر کنارہ کشی اختیار کی۔باصلاحیت کرکٹر وِل پکووسکی نے ایک سال قبل ڈومیسٹک کرکٹ سے وقفہ لیا تھا تاکہ وہ اپنا علاج کرا سکیں اور پھر جنوری میں ٹیسٹ اسکواڈ سے بھی دستبردار ہو گئے تھے۔اسی طرح آسٹریلیا کے لیے 3 ٹیسٹ میچ کھیلنے والے بلے باز نک میڈنسن نے بھی 2017 میں کچھ عرصے کے لیے کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کی تھی تاکہ وہ اپنا علاج کرا کر بہتر انداز میں کرکٹ میں واپسی کر سکیں۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی