پاکستانی ہاکی۔۔۔۔اناللہ۔۔۔۔

پاکستانی ہاکی۔۔۔۔اناللہ۔۔۔۔

  



قومی ہاکی ٹیم کی مسلسل شکستوں کا سلسلہ جاری ہے،ہاکی میں کب او ر کس طرح سے بہتری آتی ہے اور اس کے لئے کون حقیقی معنوں میں کردار ادا کرتا ہے یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ہاکی کے کھیل کے کرتے دھرتوں کے پاس بھی نہیں ہے ایک طویل عرصہ سے جس طرح سے ہاکی کھیل کا استحصال کیا جارہا ہے او ر اپنے ہی قومی کھیل کے ساتھ سوتیلا سلوک روا رکھا گیا ہے اس کی مثال کسی او ر ملک میں کبھی نہیں ملتی نہ ہی مستقبل میں مل سکتی ہے۔جبکہ پاکستانی ہاکی ٹیم ہالینڈ کے خلاف دوسرے میچ میں ناکامی کے بعد اگلے سال ہونے والے اولمپکس گیمز میں شرکت سے محروم ہوگئی، پہلے میچ میں اچھی کار کردگی کے بعد دوسرے معرکہ میں پاکستانی کھلاڑی اچھی پر فارمنس نہ دے سکے، تاہم یہ بات اچھی ہے کہ کھلاڑیوں نے جس انداز سے دنوں میچوں میں کار کردگی دکھائی اس سے ان کی صلاحیتوں کا اظہار ضرور ہوتا ہے۔ پی ایچ ایف کو اس میں بہتری لانے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے۔پاکستان میں یہ کھیل اب تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد کی جائے یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔حال ہی میں اگلے سال کھیلے جانے والے ٹوکیو اولمپکس گیمز کے کوالیفائنگ راؤنڈ کے لئے پاکستان کی ٹیم کو شکست کی وجہ سے پاکستان کی ہاکی ٹیم ایونٹ میں شرکت کرنے سے محروم ہوگئی ہے یہ پہلی ناکامی نہیں ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی ہاکی ٹیم کسی بڑے ایونٹ میں شرکت سے باہر ہوئی ہو اس سے قبل بھی کئی مرتبہ ایسا ہوچکا ہے مگر اس کے باوجود بھی اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا ہالینڈ کے خلاف پہلے میچ میں تو پاکستان کی قسمت نے اس کا بھرپور ساتھ دیا اور میچ چار چار گول سے پتہ نہیں پاکستان کی ٹیم نے برابر کردیا جس پر یہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ واقعی پاکستانکی ہاکی ٹیم اس ایونٹ میں بھرپور محنت سے شریک ہورہی ہے اور تیاری کے ساتھ آئی ہے اور دوسرا میچ میں کامیابی سے وہ اولمپکس مقابلوں میں شرکت کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی مگر افسوس کی بات تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا گیا اور چار صفر سے شکست ہوئی مگر اس شکست کے باوجود بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن ٹس سے مس نہیں ہوئی اور شکست پر کوئی بیان نہیں دیا یہ سلسلہ بھی نیا نہیں ہے اس سے قبل بھی ایسا کئی مرتبہ ہوچکا ہے یہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی ایک بہت بڑی بے حسی ہے کہ اس کو صرف او ر صرف اپنی نوکری کی تو فکر ہے مگر اس کھیل کی فکر نہیں ہے جو شائد جلد ہی پاکستان میں کوئی نہیں کھیلے گا کیوں اس کے ساتھ جو سلوک کیا گیا ہے اس سے پاکستان میں موجود ہاکی کا ٹیلنٹ بھی ضائع ہوجائے گا سابق اولمپئنز نے پاکستان ہاکی ٹیم کی حالیہ شکست اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی ہاکی ٹیم کے ساتھ جو سلوک یہ فیڈریشن کررہی ہے ماضی میں اتنا برا سلوک کسی اور حکومت نے نہیں کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کھیل کے ساتھ ان کو کوئی لگاؤ نہیں ہے اور وہ صرف اور صرف اپنے پیسے بنارہے ہیں نویدعالم، محمدشکیل اور زین احمد نے کہا کہ ہاکی کھیل کا جو حال ہوگیا ہے اس پر سوائے افسوس کے کچھ نہیں ہوتا اور جس طرح سے اس کھیل کے ساتھ مسلسل غیر ذمہ دارنہ سلوک کیا گیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی فیڈریشن نے ہمیشہ بلند و بانگ دعوے ہی کئے ہیں اور عملی طور پر اس نے کچھ نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے آج اس کھیل کا یہ حال ہوگیا ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح سے جاری رہا تو پھر اس کھیل کو پاکستان میں ختم ہی سمجھیں جب تک اس کھیل سے وابستہ افراد کو فیڈریشن کے ساتھ منسلک نہیں کیا جاتا اور ان کو ذمہ داریاں نہیں دی جاتی اس وقت تک یہ کھیل اسی طرح سے تنزلی کا شکار رہے گا اور اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا اولمپئنٓز کا کہنا ہے حکومت کو بھی ہاکی ٹیم کی اس حالت کا فوری نوٹس لینے کی ضرورت ہے تاکہ یہ کھیل نئے سرے سے ترقی کی راہ پرچل سکے جبکہ دوسری طرف شائقین ہاکی بھی ٹیم کی اس ناقص کارکردگی پر غم و غصہ کا شکار ہے اور ان کامطالبہ ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ختم کیا جائے یہ سفید ہاتھی بن کر رہی گئی ہے اور صرف اور صرف تنخواہیں وصول کرنے میں مصروف ہیں پاکستان میں لگتا ہے کہ ہاکی کھیل کا اب کوئی مستقبل نہیں ہے او ر اگر اس پر کوئی توجہ نہ دی گئی تو پھر یہ ختم ہی ہوجائے گی اور اس کی ذمہ دار ی حکومت پر ہوگی اور ہم نے تو وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے بہت امیدیں لگائی تھیں کہ پاکستان میں اب کھیل ترقی کریں گے اور ان کے مسائل حل ہوں گے مگر ایسا نہیں ہوسکا اور مسائل جوں کے توں ہی ہیں جس سے لگتا ہے کہ۔

مزید : ایڈیشن 1