عمران خان کا وہ وعدہ جو فضل الرحمان پورا کرے گا

عمران خان کا وہ وعدہ جو فضل الرحمان پورا کرے گا
عمران خان کا وہ وعدہ جو فضل الرحمان پورا کرے گا

  



جب یہ مارچ شروع ہوا تھا تو میں اس کے سخت خلاف تھا کیونکہ میرا خیال تھا کہ اس کی وجہ سے جمہوری نظام کو سخت خطرہ ہوگا اور ساتھ ہی ملک میں بد امنی پھیلنے کا اندیشہ ہوگا۔ بھارت جس نے اس وقت کشمیر میں ظلم کا بازار گرم کررکھا ہے

وہ اپنی ازلی دشمنی نبھاتے ہوئے پاکستان میں دہشتگردی کو ہوا دے گا۔ مولانا اسلام آباد میں داخل ہوئے اور ان کے ساتھ اپوزیشن کی دیگر پارٹیاں بھی کنٹینر پر جا کھڑی ہوئیں۔ مارچ کی کیوریج کے لئے صحافی بھی اپنی ڈیوٹی دینے پہنچے لیکن یکدم یہ کیا ہوا؟ مارچ کے شرکاء نے اعلان کیا کہ وہ کسی بھی صورت خواتین صحافیوں کو یہاں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی مارچ کرنے والے تو اس حد تک چلے گئے کہ کہہ دیا کہ کوئی خاتون اس مارچ کا حصہ نہیں ہوگی۔ یہ جان کر جہاں مجھے حیرت ہوئی وہیں یہ بھی سوچنے لگا کہ اگر جے یو آئی حکومت میں آجائے تو مَردوں کے تو وارے نیارے ہوجائیں گے۔ ہر طرف مردوں کا راج ہوگا، ہر نوکری پر مردوں کو فوقیت دی جائے گی، شام کے پروگرامز کی میزبانی بھی خوبصورت نوجوان لڑکے کررہے ہوں گے۔ خبریں پڑھنے کے لئے بھی صرف اور صرف لڑکوں کا استعمال ہوگا۔

چونکہ جے یو آئی کی حکومت میں کسی بھی عورت کو مردوں کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہ ہوگی لہذا میڈیکل کالجز میں بھی لڑکیوں کے لئے کوئی جگہ مخصوص نہ ہوگی بلکہ وہاں بھی خوبصورت لڑکوں کوداخلہ دیا جائے گا۔ انٹرٹیمنٹ انڈسٹری جہاں مردوں کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے وہاں بھی صنف نازک کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ آنکھ بند کرکے ذرا سوچیں ڈرامہ سیریل “میرے پاس تم ہو” میں ہمایوں سعید اور عدنان صدیقی کی لڑائی آئزہ خان کے لئے نہیں بلکہ دانش تیمور کے لئے ہورہی ہوگی۔

باقی ڈراموں میں آپ لڑکیوں کی جگہ اپنی مرضی کے لڑکے رکھ کر خیالی دنیا میں جاسکتی ہیں۔

آئمہ بیگ اور ساحر علی بگا کے ڈئیویٹ کی جگہ وارث بیگ اور ساحر علی بگا اپنے اپنے جوہر دکھا رہے ہوں گے۔

ابرار الحق کو بھی اپنے مشہور گانے “بلو دے کار” میں ترمیم کرنی پڑے گی اور نیا گانا “کنے کنے جانا بلے دے کار” ہوگا۔

“میری آنکھوں میں سمائی ایک لڑکی”

“جب بھی کوئی لڑکی دیکھوں میرا دل دیوانہ بولے۔۔۔اولے اولے” اور اسطرح کے کئی گانوں میں صنف نازک کو نکال دیا جائے گا۔

کھانے پکانے کے اشتہارات میں مرد حضرات کوکنگ کرکے لوگوں کو کھانے کا تیل بیچ رہے ہوں گے اور کپڑے دھونے کے اشتہارات میں مرد ماڈلز کام کررہے ہوں گے۔

سوچیں ذرا کہ ہر طرف نوکریوں کی ریل پیل ہوگی اور نوکریاں دینے کا وہ وعدہ جو عمران خان نے پورا کرنا تھا، مولانا وہ وعدہ پورا کریں گے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ


loading...