آزادی مارچ لیکن فیصلے کیلئے مولانا فضل الرحمان کے پاس اب کتنا وقت ہے؟ سینئر کالم نویس کا ایسا انکشاف کہ شرکا بھی حیران پریشان رہ جائیں گے

آزادی مارچ لیکن فیصلے کیلئے مولانا فضل الرحمان کے پاس اب کتنا وقت ہے؟ سینئر ...
آزادی مارچ لیکن فیصلے کیلئے مولانا فضل الرحمان کے پاس اب کتنا وقت ہے؟ سینئر کالم نویس کا ایسا انکشاف کہ شرکا بھی حیران پریشان رہ جائیں گے

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) مولانا فضل الرحمان اور ان کے پیروکار مارچ کی صورت میں اسلام آباد پہنچ کر دھرنے میں بدل چکے ہیں اور اطلاعات کے مطابق کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے پولیس اور رینجرز نے فلیگ مارچ بھی کیا اور اب

سینئر کالم نویس نے انکشاف کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے پاس حتمی فیصلے کے لیے وقت کم ہے اور مولانا کے پاس پانچ نومبر تک وقت ہے ۔ موسمی پیش گوئی کے مطابق چھ اور سات تاریخ کو اسلام آباد میں تیز بارش اور طوفان کا امکان ہے۔ یعنی یہ دھرنا دوچار روزسے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ 

روزنامہ جنگ میں منصور آفاق نے لکھا کہ " موسمی حالات بھی دھرنے کی طوالت کا ساتھ نہیں دے رہے۔اسلام آباد میں آج رات کودرجہ حرارت بارہ ہوگا۔ کل رات گیارہ اور پرسوں رات کو شاید نو یعنی جیسے جیسے وقت گزرے گا ،سردی بڑھےگی ۔یخ بستہ ہوائیں چلنا شروع ہوجائیں گی۔

یہ ممکن نہیں رہے گا کہ رات کھلےآسمان تلےبسر کی جاسکے۔ مولانا کے پاس پانچ نومبر تک وقت ہے ۔ موسمی پیش گوئی کے مطابق چھ اور سات تاریخ کو اسلام آباد میں تیز بارش اور طوفان کا امکان ہے۔ یعنی یہ دھرنا دوچار روزسے آگے نہیں بڑھ سکتا۔

مگرمولانا کو اس سے بھی بڑا خطرہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی سے لاحق ہے۔یہ دونوں پارٹیاں مولانا کی غیر قانونی سرگرمیوں کا حصہ بننے کےلئے تیار نہیں ۔وہ حکومت کے ساتھ کئے گئے معاہدے پر عمل در آمد چاہتی ہیں۔پشاور موڑ سے آگے بڑھنے کی صورت میں مولانا کا ساتھ چھوڑنے کا اعلان کر سکتی ہیں۔ ویسے تو اِس وقت تک آزادی مارچ کے جلوس نے پوری کوشش کی کہ وہ عوام کےلئے کسی مشکل کا سبب نہ بنے"۔

انہوں نے مزید لکھا کہ " سواِس دھرنے کا بھی وہی انجام ہوگا جو اُس دھرنے کا ہوا تھا بلکہ اُس سے بھی برا۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں ،مولانا فضل الرحمٰن نے دھرنے کی بھرپور تیاری کی ،ڈاکٹر طاہر القادری کے پہلے اور دوسرے دھرنے پرباریک بینی سےغور کیا۔ 

مولانا خادم حسین رضوی کے دھرنے کی ناکامیوں پر بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ ڈسکشن کی۔ ماضی کے دھرنوں کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیاکہ جو کچھ کرنا ہے چند دن میں کرنا ہے۔ دھرنے کو طویل نہیں ہونے دینا"۔ 

مصورآفاق نے لکھا کہ "وہ لوگ جنہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کو آزادی مارچ کےلئے تھپکی دی۔وہ بے شک عمران خان کے حق میں نہیں ہیں۔کئی معاملات پر ان پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں مگر شواہد بتاتے ہیں کہ ان لوگوں نے بھی اپنے باس کو آن بورڈ نہیں لیا ہوا"۔

انہوں نے لکھا کہ اس سے قبل "ڈاکٹر طاہر القادری کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے علاقے مسی ساگا سے نکلے۔وساگا جھیل کے نیلگوں ساحلوں سے گزرتے ہوئے نیاگرا پارک کی اُس دومنزلہ عمارت تک پہنچے جہاں یادگاری تحائف کی دکانیں اور ریستوران ہیں ۔ایک ریستوران پر دونوں شخصیات کی ملاقات ہوئی۔

جہاں ڈاکٹر طاہر القادری کو یقین دلایا گیاکہ پاکستان آپ کے انتظار میں ہے۔اُس کی بقا کےلئےنون لیگ کی حکومت سے نجات ضروری ہوچکی ہے اور یہ تاریخ ساز کام سر انجام دینا آپ کی قسمت میں لکھا گیا ہے۔

اس کام میں عمران خان بھی آپ کا ساتھ دیں گے ۔آپ فوراً اسلام آباد آئیں اور قوم کی رہنمائی کریں۔ بس چند دن کا ایک دھرنا حکومت کی کرچیاں بکھیر دے گا۔ پھر ناصرف سانحہ ِ ماڈل ٹائون کے مجرم اپنے انجام کو پہنچیں گے بلکہ آپ کو بھی وہ مقام ملے گاجس کے آپ حقدار ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے اُس شخصیت پراعتبار کیا اور پھر وہ تاریخی دھرنا وجود میں آیا جس میں عمران خان تو ایک سو چھبیس دن ڈی چوک پر بیٹھے رہے مگر ڈاکٹر طاہر القادری پہلے اٹھ کر آ گئے انہیں جلداندازہ ہو گیا کہ حالات تبدیلی کےلئے سازگار نہیں، موجودہ دھرنے کا انجام اس سے بھی بدترمتوقع ہے"۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد