” آزادی مارچ ایسے ہی نہیں ہوا، تحریک انصاف کی حکومت نے اپوزیشن کو خود۔۔“ سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے مولانا کے احتجاج کا باعث بننے والی وجوہات بیان کر دی

” آزادی مارچ ایسے ہی نہیں ہوا، تحریک انصاف کی حکومت نے اپوزیشن کو خود۔۔“ ...
” آزادی مارچ ایسے ہی نہیں ہوا، تحریک انصاف کی حکومت نے اپوزیشن کو خود۔۔“ سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے مولانا کے احتجاج کا باعث بننے والی وجوہات بیان کر دی

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ وفاقی دارلحکومت میں ڈیرہ جما کر بیٹھ گیاہے اپنے مطالبا ت پیش کر دیئے ہیں اور یہ معاملہ میڈیا میں شہ سرخیوں میں ہے تاہم سینئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے بھی اس پر روشنی ڈالتے ہوئے تجزیہ پیش کیاہے ۔

سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کالم جنگ نیوز میں شائع ہواہے جس میںانہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے محاصرے ہوں یا مارچ، نواز شریف کا عدلیہ مارچ ہو یا پیپلز پارٹی کا مجوزہ مارچ یا پھر خان صاحب کا دھرنا، سب کے سب غلط تھے، اس سے جمہوریت اور منتخب حکومتیں کمزور ہوتی رہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کا آزادی مارچ، ماضی کے انہی کرتوتوں کو آئینہ دکھانے کے لئے ہے، اس بار بھی مارچ جمہوریت اور حکومت کو کمزور کرنے کا سبب بنے گا۔

آزادی مارچ ایسے ہی نہیں ہوا، تحریک انصاف کی حکومت نے اپوزیشن کو خود اس قدر اشتعال دلایا، لیڈر شپ کو جیلوں میں بند کر دیا، اے سی بند، ملاقاتیں بند اور ہر روز چور ڈاکو کے طعنے۔ مولانا فضل الرحمٰن کو مسلسل ڈیزل کہہ کر پکارنا۔ اس کا کچھ نتیجہ تو نکلنا تھا، تحریک انصاف Asked for march، حقیقت تو یہ ہے کہ تحریک انصاف دو تہائی اکثریت سے الیکشن نہیں جیتی بلکہ بمشکل اتحادیوں کے ذریعے وفاقی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔

ابھی تک پارلیمان قانون سازی نہیں کر سکی، سارا کام آرڈیننس کے ذریعے چلایا جا رہا ہے مگر اس کے باوجود حکومتی اکڑ، غرور اور تکبر انتہا پر پہنچا ہوا ہے۔ آصف زرداری اور نواز شریف دونوں ایک سال سے مولانا فضل الرحمٰن کو احتجاجی تحریک نہ چلانے کا پیغام دے رہے تھے مگر نواز شریف کو اس حد تک مجبور اور ذلیل و رسوا کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ بھی پھٹ پڑے۔آصف علی زرداری نے کئی بار حکومت کی طرف زیتون کی شاخ لہرائی مگر کبھی مثبت جواب نہ ملا۔ نواز شریف قید و بند میں زندگی کی آخری حدوں کو چھو کر واپس آئے۔

انہیں تکالیف دیتے وقت یہ نہیں سوچا گیا کہ مرا ہوا ہاتھی سوا لاکھ کا ہوگا، بھٹو کی پھانسی کے بعد ریاست کو پیپلز پارٹی کو 30سال حکومت دینا پڑی، اس کے باوجود سندھ کا احساسِ محرومی اور احساسِ بیگانگی برقرار ہے۔ نواز شریف پنجاب کے پہلے بڑے مزاحمتی سیاستدان ہیں جن کی عوام میں جڑیں ہیں، انہیں کچھ ہوگیا تو ریاست کو نون لیگ کا مداوا کرتے دہائیاں گزر جائیں گی۔

تھل کے اندھوں نے بیمار آصف زرداری کو جیل میں بند کرکے اسے ہیرو بنا دیا ہے، کل کو اسے کچھ ہوا تو وہ گڑھی خدا بخش میں شہیدوں کے قبرستان میں دفن ہوگا۔ صدر رہنے کے باوجود اس کو مظلوم شہید قرار دیا جائے گا۔مولانا تو بیٹھ چکے، ہزاروں افراد بھی ہمراہ ہیں، اب ہوگا کیا؟ مولانا نے وزیراعظم کے استعفیٰ کا الٹی میٹم دے رکھا ہے۔ اس شرط سے ہٹے تو مولانا اپنے حامیوں کو کیا جواب دیں گے۔

مزید : قومی