رابی پیرزادہ کی حمایت میں پاکستانی لڑکیوں نے اپنی برہنہ تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کردیں

رابی پیرزادہ کی حمایت میں پاکستانی لڑکیوں نے اپنی برہنہ تصاویر سوشل میڈیا پر ...
رابی پیرزادہ کی حمایت میں پاکستانی لڑکیوں نے اپنی برہنہ تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کردیں

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستانی گلوکارہ رابی پیرزادہ کی نجی نوعیت کی بعض تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر لیک ہوئیں تو بہت سے پاکستانی ان کی حمایت میں شامنے آگئے اور ان سے اظہار یکجہتی کیلئے اپنی برہنہ تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کردیں۔

ٹوئٹر پر آئی ایم رابی پیرزادہ (#IAmRabiPirzada) کے نام سے نوجوان کی جانب سے اپنی تصاویر شیئر کی جارہی ہیں۔اس ٹرینڈ کے تحت سب سے پہلے فوزیہ الیاس نامی ایک خاتون نے اپنی برہنہ تصاویر ٹوئٹر پر شیئر کیں، انہوں نے اپنے مخصوص اعضا کے پردے کیلئے ایک کاغذ پر #IAmRabiPirzada لکھا اور اسے اپنے اعضا چھپانے کیلئے استعمال کیا۔

فوزیہ الیاس کا کہنا ہے کہ اپنے جسم پر شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ خواتین کو ہی اپنی جسمانی ساخت کی وجہ سے کیوں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رابی پیرزادہ نے کچھ بھی غلط نہیں کیا، یہ اس کی اپنی زندگی اور اس کی اپنی پسند، ان لوگوں کو شرم آنی چاہیے جو رابی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

اس مہم میں فوزیہ الیاس کے شوہر سید احسن گیلانی بھی شامل ہیں جو اپنی فیس بک وال پر مختلف تصاویر رابی پیرزادہ کی حمایت میں پوسٹ کر رہے ہیں۔ اسی طرح ٹوئٹر اور فیس بک پر دیگر لوگ بھی رابی پیرزادہ کی حمایت میں اپنی نیم برہنہ تصاویر شیئر کر رہے ہیں۔

یہاں یہ بھی واضح رہے کہ ’’ آئی ایم رابی پیرزادہ  ‘‘ مہم فوزیہ الیاس نے شروع کی ہے جو خود کو ملحد (بے مذہب) قرار دیتی ہیں، ان کے شوہر بھی فیس بک پر خود کو ملحد قرار دیتے ہیں ، ان کی ٹائم لائن پر بعض ایسی قابل اعتراض پوسٹیں بھی موجود ہیں جو مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا سکتی ہیں۔

پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کارکن ڈاکٹر فرحان ورک نے ’آئی ایم رابی پیرزادہ‘ مہم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ رابی پیرزادہ کی حمایت میں لوگ کپڑے اتار کر اپنے مخصوص اعضا پر #IAmRabiPirzada لکھ رہے ہیں، یہ کیا جاہلانہ طریقہ ہے کسی کی حمایت کرنے کا ، ان لوگوں کا دماغ ٹھیک ہے؟۔

ایک اور ٹویٹ میں فرحان ورک نے لکھا ’قیامت کی نشانیاں ظاہر ہو رہی ہیں۔ اس قوم کو کوئی لحاظ نہیں۔ رابی پیرزادہ کی ویڈیو پرائیویٹ تھی جو لیک کی گئی' اس کو فحاشی پھیلانا نہیں کہا جا سکتا لیکن جو لوگ اپنی ننگی تصویریں رابی کی حمایت میں شیئر کر رہے ہیں وہ فحاشی پھیلا رہے ہیں۔ ان کو روکنا ہوگا #IamRabiPirzada‘

مزید : ڈیلی بائیٹس /تفریح


loading...